چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا مواخذہ ہوناچاہئے!

سرفراز احمد قاسمی حیدر آباد

چیف الیکشن کمشنر گیا نیش کمار پر دھمکانے اور بدسلوکی کرنے کا الزام لگانے کے ایک دن بعد،مغربی بنگال کی وزیراعلی ممتا بنرجی نے سی ای سی کے خلاف مواخذے کی تحریک لانے کا امکان ظاہر کیا، وزیر اعلی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ گزشتہ روز جو کچھ ہوا، اس کے بعد ہم اس الیکشن کمشنر سے کسی چیز کی امید نہیں رکھ سکتے،جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سی ای سی کے خلاف مواخذے کی تجویز پر غور کررہی ہیں تو ممتا بنرجی نے کہا کہ اگرچہ ہمارے پاس مطلوبہ تعداد(نمبرز) نہیں ہیں لیکن تجویز پیش کی جاسکتی ہے،عوامی مفاد میں ہم پارٹی کے اندر اس پر بحث کریں گے اور اس کی حمایت کریں گے، کم از کم یہ ریکارڈ پر تو رہے گا،وہ الیکشن کمیشن کے ہیڈ کوارٹر میں گیانیش کمار کے ساتھ اپنی ملاقات کا حوالہ دے رہی تھیں،انہوں نے بنگال میں SIR کے معاملے پر سی ای سی کی سخت نقطہ چینی کی،ممتا بنرجی نے کمیشن پر جانبدارانہ و متعصبانہ طریقے سے کام کرنے کا الزام بھی لگایا اور دعوی کیا کہ یہ عمل سیاسی مقصد کے تحت کیا جارہا ہے،الیکشن کمیشن سے باہر آنے کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ ہمیں بہت دکھ پہنچا ہے،ہم پریشان ہیں،میں کئی سالوں سے سیاست میں ہوں،4 بار وزیر اور سات بار ایم پی رہ چکی ہوں لیکن میں نے کبھی ایسا چیف الیکشن کمشنر نہیں دیکھا جو اتنا مغرور اور اتنا جھوٹا ہو،ٹی ایم سی کے جنرل سیکرٹری ابھیشک بنرجی نے کہا کہ وزیراعلی نے سی ای سی کو 6 خط لکھے ہیں اور ایک کا بھی جواب نہیں دیا گیا،یہاں تک کہ خط موصول ہونے کی اطلاع تک نہیں دی گئی،کمیشن کے خلاف اپنے تیور سخت کرتے ہوئے ممتا نے کہا کہ کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے، کوئی انفراسٹرکچر نہیں ہے،چار ریاستوں میں انتخابات ہونے والے ہیں لیکن ایس آئی آر صرف اپوزیشن کی حکومت والی ریاستوں میں کیاجارہا ہے اور یہ آسام میں نہیں ہورہا ہےایسا کیوں؟وزیراعلی نے یہ بھی کہا کہ متاثرین کو اپنا دفاع کا کرنے کا موقع نہیں دیاجارہا ہے،بنگال میں ایس آئی آر سے متاثر، متاثرین کے ساتھ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ وہ ان ہی لوگوں کی نمائندگی کرتی ہیں جنہیں اس عمل کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا اور ہمارے پیچھے بیٹھے تمام لوگ ایس آئی آر کے متاثرین ہیں،میں یہاں لاکھوں لوگوں کو لاسکتی ہوں،ممتا بنرجی جو کئی لوگوں کے ساتھ ایس آئی آر معاملے پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے ملاقات کے لیے پہنچی تھیں،لیکن احتجاج کرتے ہوئے اجلاس کے دوران ہی وہ باہر نکل گئیں اور دعوی کیا کہ ان کے وفد کی بے عزتی ہوئی،انہوں نے الیکشن کمیشن پر بی جے پی کے اشارے پر کام کرنے کا بھی الزام لگایا۔ایس آئی آر کے وقت پر سوال اٹھاتے ہوئے بنرجی نے پوچھا کہ اسمبلی انتخابات سے بالکل پہلے یہ عمل کیوں کیا جارہا ہے؟انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ یہ عمل صرف اپوزیشن کی حکومت والی ریاستوں میں کیوں کیا جارہا ہے؟ بی جے پی کی حکومت والے آسام میں کیوں نہیں؟ جہاں انتخابات ہونے ہیں،انہوں نے کہا کہ انتخاب والی چار ریاستوں میں سے تین ریاستوں میں وہ ایس آئی آر کررہے ہیں لیکن بی جے پی کی حکومت والی آسام میں نہیں،بنرجی نے پوچھا آخرانتخابات سے بالکل پہلے ایس آئی آر کیوں کیا جارہا ہے؟ کیا بغیر کسی منصوبہ بندی کے اسے دو تین مہینوں کے اندر کرنا ممکن ہے؟ممتا بنرجی اور ابھیشک بنرجی نے اس سے قبل دہلی کے چانکیہ پوری میں ایس آئی آر سے متاثر لوگوں سے ملاقات کی اور دعوی کیا کہ وہ اہل ووٹر ہیں جن کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے،بنرجی نے انہیں ہرطرح کی مدد کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ ان کے حقوق، وقار اور جمہوری آواز کے لیے یہ جدوجہد تب تک نہیں رکے گی جب تک انصاف نہیں مل جاتا۔الیکشن کمیشن کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اپنی زندگی میں کبھی اتنا گھمنڈی اور جھوٹا الیکشن کمیشن نہیں دیکھا،چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے ملاقات کے بعد ممتا بنرجی نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے اشارے پر بنگال میں لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹائے جا رہے ہیں،بنگال کے عوام اپنی شکایات الیکشن کمیشن کے سامنے رکھنے آئے ہیں لیکن انہیں دھمکیاں دی جارہی ہیں،انہوں نے بنگ بھون احاطے کے باہر بھاری پولیس تعیناتی پر بھی سوال اٹھائے،تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ پولیس کو نہیں بلکہ اوپر بیٹھے لوگوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتی ہیں،سی ای سی گیانیش کمار سے ملاقات کے بعد ممتا بنرجی نے کہا مجھے بہت دکھ ہوا ہے میں طویل عرصے سے سیاست میں ہوں،چیف الیکشن کمشنر سے کہا کہ میں آپ کی کرسی کا احترام کرتی ہوں کیونکہ کوئی بھی کرسی مستقل نہیں ہوتی،ایک دن آپ کو جانا ہی ہوگا،بنگال کو ہی کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟انتخابات جمہوریت میں ایک تہوار ہوتے ہیں لیکن آپ نے 58 لاکھ لوگوں کے نام ہٹا دیے اور انہیں اپنا دفاع کرنے کا موقع تک نہیں دیا،اگر آپ کو ایس آئی آر کرنا ہی تھا تو انتخابی ریاستوں کو چھوڑ کر بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ کرنا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا،آسام میں بی جے پی کی حکومت ہے وہاں ایس آئی آر نہیں کیا گیا لیکن مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں کیا گیا،آپ نے ہمارے ساتھ کیا کیا؟آپ نے 58 لاکھ لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے۔اس دوران بنگال کی وزیراعلی نے سیاہ لباس پہن کر الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج بھی کیا۔

جمہوریت کی تقدیس کو پامال کرنے کا جو طوفان خاموشی کے پردے میں مغربی بنگال کی گلیوں میں برپا ہے،اس کی گونج اب ہرگوشے تک پہنچ چکی ہے،الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے ووٹر لسٹ میں شفافیت لانے کے نام پر چلائی جانے والی ایس آئی آر کی مشق نے ریاست میں سچ اور سازش کے درمیان حد فاصل کو دھندلا کردیا ہے،ٹی ایم سی،بائیں بازو اور کانگریس اور دیگر جماعتوں کا یہ مشترکہ خدشہ بے بنیاد نہیں ہے کہ حقیقی ووٹروں کی ایک کثیر تعداد منصوبہ بند ہیرا پھیری کے ذریعے رائے دہندگی کے مقدس حق سے محروم کردی جائے گی، کوچ بہار کے ناٹا باڑی اسمبلی حلقے میں بوتھ نمبر 2 کی 2002 کی ووٹر لسٹ میں 717 نام تھے لیکن تازہ ترین اپلوڈ میں صرف 140 نام بچے،ماتھا بھانگا اسمبلی حلقے کے بوتھ نمبر 160 میں 846 ووٹر تھے مگر ویب سائٹ پر اب صرف 416 نام باقی ہیں،سب سے سنگین مثال شمالی 24 پرگنہ ضلع کے اشوک نگر کے بوتھ نمبر 159 کی ہے،جہاں ووٹر لسٹ پر کوئی نام ہی درج نہیں،حالانکہ 2002 میں تقریبا 900 ووٹر رجسٹر تھے،بوتھ نمبر 61 میں بھی یہی حال ہے،سیریل نمبر 343 سے 414 تک کے ووٹر غائب ہوچکے ہیں،یہ اعداد و شمار محض اتفاق یا تکنیکی کوتاہی نہیں بلکہ یہ کسی گہری منصوبہ بندی کی غمازی کرتے ہیں،جو ووٹروں کے وجود ہی کو مٹانے پر تلی ہوئی ہے،چیف الیکشن آفیسر نے تو اعلان کیا کہ ایک بھی حقیقی ووٹر خارج نہیں کیا جائے گا مگر اس یقین دہانی کو عملی جواز اور شواہد کے ساتھ تقویت دینے کی ضرورت ہے یعنی ہر ناقابل سمجھ تبدیلی کی تفصیلی آڈٹ ٹریل، بوتھ وار نوٹس اور منظر عام پر دستاویزی وضاحت صرف زبانی یقین دہانی کافی نہیں،سوال یہ ہے کہ جب ہارڈ کاپی میں نام موجود ہیں تو ویب سائٹ پر نام غائب کیوں ہیں؟ کیا الیکشن کمیشن کی خاموشی اور بی جے پی لیڈروں کی ہٹ دھرمی اس ملی بھگت کا ثبوت نہیں؟ترنمول قیادت نے بجا طور پر اسے خاموشی پوشیدہ دھاندلی قرار دیا ہے،اگر یہ دعوے اور ثبوت درست ہیں تو یہ تسلیم کرنا لازم ہوگا کہ ایس آئی آر کے تحت ہونے والی ووٹر لسٹ نظر ثانی حقیقتا اپوزیشن کے خدشات کو جلا بخش رہی ہے،2002 میں یہ عمل دو برس میں مکمل ہوا لیکن اب اسے صرف تین ماہ میں سمیٹنے کی کوشش ہورہی ہے، کیا یہ جلد بازی کسی پوشیدہ سیاسی ایجنڈے کی طرف اشارہ نہیں کرتی؟ ان خبروں کے پس منظر میں بہار کی مثال بھی عبرت انگیز ہے،وہاں چنندہ خواتین اور پسماندہ طبقات کے لاکھوں ووٹروں کے نام، کاغذات نہ ہونے کی بنیاد پر فہرستوں سے حذف کردیے گئے،یہ الزام سپریم کورٹ تک جاپہنچا ہے اور کئی مقدمات زیر سماعت ہیں،ایسی صورتحال میں جب ریاست میں اگلے سال اسمبلی انتخابات متوقع ہیں بی جے پی لیڈر اور مرکزی وزیر داخلہ کی حالیہ در اندازوں کو نکالنے کی دھمکی اور پارٹی دفاتر میں نام ہٹاؤ مہم تیزی سے پھیلتی جارہی ہے،مغربی بنگال کے تقریبا ساڑھے چار کروڑ ووٹروں کے ڈیٹا کی میپنگ میں نہ ملنے والے کروڑوں کاغذات اس سازش کو آشکار کرتے ہیں،جس کا تھپیڑا ہر گھر تک پہنچنے لگا ہے، سازش کی آشکارگی سے خوف و ہراس کا سماجی المیہ اور اسکی بھیانک تصویر سامنے آرہی ہے، کہا جاتا ہے کہ کئی شہری اس اندیشے میں خودکشی تک کر چکے ہیں،جبکہ کمیشن یہ کہتا ہے کہ صرف ناقص و جعلی ووٹروں کو ہٹایا جائے گا اور کسی اصلی ووٹر کا نام حذف نہیں ہوگا،الیکشن کمیشن نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ ایس آئی آر کا مقصد ووٹر رولز کو درست کرنا ہے اور کوئی جائز ووٹر خارج نہیں ہوگا مگر یہی کمیشن جب اعداد و شمار کی اس نوعیت کی تضادات کی شرح مقررہ مدت سے پہلے عوام کے سامنے واضح نہیں رکھتا تو شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں،ٹی ایم سی کے ترجمان کنال گھوش اور ریاستی وزیر چندریما بھٹاچاریہ نے عوامی فورم پر ان بے ضابطگیوں،غائب شدہ ناموں اور ایک منظم سازش کا پردہ چاک کیا ہے،ریاستی سطح پر یہ خدشہ بھی نمایاں ہوا ہے کہ محض مخالف جماعتوں کے ہی نہیں بلکہ بعض علاقوں میں بی جے پی کی ہمدردوں کے بھی نام غائب کیے گئے ہیں،جس سے ان کی صفوں میں ناراضگی کی لہریں دوڑ گئی ہیں یہ کھیل اب جمہوریت کے وجود پر سوالیہ نشان بن کر ابھرا ہے،ووٹروں کے بنیادی حق سے کھلواڑ کرنا انتخابی فہرستوں کو کچرے کی صفائی کے نام پر مخصوص مفادات کے حصول کے لیے تبدیل کرنا ایک المناک جبر ہے،وقت آگیا ہے کہ معاشرہ اور عدالت یک زبان ہو کر اس انتخابی عمل کی جانچ کرے اور ہر قسم کی دھاندلی خوف و ہراس اور ہیرا پھیری کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند کرے۔

سپریم کورٹ میں پیش ہوکر ممتا بنرجی نے الزام لگایا کہ انتخابات سے قبل ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی(ایس آئی آر) کے ذریعے ان کی ریاست کو ’منتخب طور پر نشانہ‘ بنایا جارہا ہے۔چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں بنچ نے الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کے خلاف محترمہ بنرجی کی درخواست پر سماعت کی۔اس درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ موجودہ ایس آئی آر عمل سے بڑے پیمانے پر ووٹروں کا حق چھین لیا جائے گا۔انہوں نے اسے ایک غیر شفاف،جلد بازی پر مبنی،غیر آئینی اور غیر قانونی عمل قرار دیا۔اس کے بعد سپریم کورٹ نے مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے عمل کو چیلنج کرنے والی ان کی رٹ پٹیشن پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پیر تک جواب دینے کے لیے کہا۔جیسے ہی کیس کی سماعت شروع ہوئی،سینئر ایڈووکیٹ گوپال شنکر نارائنن نے درخواست کی سنگینی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ معاملہ آئٹم نمبر 36 اور 37 کے طور پر درج نئے موضوعات سے متعلق ہے۔جب عدالت نے اشارہ دیا کہ وہ جلد ہی اس معاملے کی سماعت کرے گی تو وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی خود پوڈیم تک گئیں اور بنچ سے براہِ راست مخاطب ہونے کی استدعا کی۔محترمہ بنرجی نے دلیل دی کہ ’’یہ ایس آئی آر کا عمل صرف نام نکالنے کے لیے ہے۔‘‘انہوں نے دعویٰ کیا کہ شادی کے بعد خاندانی نام تبدیل کرنے والی خواتین یا رہائش تبدیل کرنے والے غریب تارکینِ وطن جیسی سماجی حقیقتوں کی وجہ سے ہونے والی معمولی بے ضابطگیوں کی بنیاد پر حقیقی ووٹروں کے نام ہٹائے جا رہے ہیں۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ووٹروں کے نام ’منطقی تضاد‘ کی بنیاد پر ہٹادیے گئے،چاہے وہ تضاد صرف خاندانی نام یا ہجے کا معمولی فرق ہی کیوں نہ تھا۔غریب لوگ جو کام کاج کے لیے باہر جاتے ہیں،ان کے نام بھی نکال دیے گئے ہیں۔یہ نام ہٹانے کی وجہ کیسے ہوسکتی ہے؟انہوں نے سیاسی طور پر نشانہ بنائے جانے کا الزام لگاتے ہوئے سوال کیا’’چار ریاستوں میں انتخابات ہونے جارہے ہیں۔سب کچھ تین ماہ میں ختم کرنے کی یہ جلدی کیوں؟ بنگال ہی کیوں؟ آسام کیوں نہیں؟‘‘ ۔انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ یہ عمل فصلوں کی کٹائی کے سیزن اور نقل مکانی کے عروج کے دور میں شروع کیا گیا ہے اور دعویٰ کیا کہ کام کے دباؤ کی وجہ سے 100 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور کئی بوتھ لیول آفیسرز ہسپتال میں داخل ہیں۔چیف جسٹس نے تبصرہ کیا کہ ’’اس قسم کے مسائل کی بنیاد پر، حقیقی ووٹروں کے ناموں کو(فہرست سے) خارج نہیں کیا جانا چاہیے،‘‘انہوں نے اشارہ دیا کہ عدالت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے حل تلاش کرے گی کہ مستند ووٹروں کے نام فہرست میں موجود رہیں۔ممتا بنرجی نے عدالت سے کہا، ’’میں یہاں اپنی پارٹی کے لیے نہیں آئی ہوں۔میں نے الیکشن کمیشن کو خطوط لکھے۔جب انصاف بند دروازوں کے پیچھے رو رہا ہو،سب کچھ ختم ہوگیا ہو اور ہمیں کہیں سے انصاف نہیں مل رہا ہے،الیکشن کمیشن واٹس ایپ کمیشن بن گیا ہے تو ہم یہاں آئے۔‘‘ محترمہ بنرجی کی ذاتی مداخلت کے بعد، بنچ نے کہا کہ ریاستِ مغربی بنگال نے بھی آزادانہ طور پر ایک درخواست دائر کی ہے اور کپل سبل سمیت سینئر وکلاء نے پہلے ہی طریقٔہ کار کی مشکلات اور حقیقی باشندوں کے ناموں کےاخراج کے خدشات کی وضاحت کردی ہے۔دلائل سننے کے بعد، سپریم کورٹ نے محترمہ ممتا بنرجی کی درخواست پر الیکشن کمیشن آف انڈیا کو نوٹس جاری کردیا۔ادھرکانگریس لیڈر کے سی وینو گوپال نے کہا کہ اپوزیشن،چیف الیکشن کمشنر سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف اجتماعی طور پر مواخذے کی تحریک شروع کرنے پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے،یہ پیشرفت مغربی بنگال کی وزیراعلی ممتا بنرجی کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں کو اس مسئلے پر متحد ہونے کی عوامی اپیل کے بعدہوئی ہے،جس میں انہوں نے بنگال میں ایس آئی آر کے دوران سی ای سی پر جانبداری اور بدسلوکی کا الزام لگایا تھا،پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے تنظیمی جنرل سکریٹری وینو گوپال نے ممتا بنرجی کی تجویز کے بارے میں مثبت رویے کا اشارہ دیا،انہوں نے کہا کہ ترنمول کانگریس نے پہلے ہی کانگریس سے رابطہ کیا ہے،میرا خیال ہے کہ پوری اپوزیشن اس اس معاملے پر فیصلہ کرے گی جو ترنمول کی جانب سے اٹھائے گئے ہیں،یہ اہم مسائل میں سے ایک ہے،ہم اسے مثبت طور پردیکھ رہے ہیں،انہوں نے اس معاملے پر مختلف پارٹیوں کے ممکنہ تعاون کا اشارہ دیا،ممتا نے پیر کے روز چیف الیکشن کمشنر کے مواخذے کی اپیل کی تھی،اپوزیشن پارٹیوں کو متحد ہوکر پوری قوت کے ساتھ الیکشن کمیشن کے خلاف پارلیمنٹ میں تحریک مواخذہ پیش کرنا چاہئے اور اس پر زور دار بحث ہونی چاہئے تاکہ الیکشن کمیشن کی منمانی اور غنڈہ گردی پر روک لگ سکے۔پچھلے سال نومبر میں ایک دوسرے ملک سے یہ خبر آئی تھی کہ وہاں اپوزیشن نے انتخابات کے نتائج ماننے سے انکار کر دیا تھا،خبر کے مطابق تنزانیہ نامی ملک میں عام انتخابات میں اپوزیشن جماعتوں نے دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے ملک گیر مظاہروں کا اعلان کیا تھا،نتائج میں دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے اپوزیشن جماعت چادیما نے انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے شفاف الیکشن کا مطالبہ کیا تھا اور ملک گیر پیمانے پر مظاہروں کا اعلان کیا تھا،بھارت میں بھی صورتحال شاید ایسی ہی بنائی جارہی ہے،اپوزشن پارٹیوں کو اس آپشن پر بھی غور کرنا چاہئے،ممتا بنرجی کے بقول جب ” سب کچھ ختم ہوچکا ہے،کہیں انصاف نہیں مل رہاہے اور انصاف بند دروازں کے پیچھے رورہاہے” تو پھر اپوزیشن پارٹیوں کے پاس دوسرا راستہ کیا ہے؟ اس پر کون غور کرے گا؟۔

(مضمون نگار،معروف صحافی اور سیاسی تجزیہ نگار ہیں)

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔