خاندان کو دھمکیوں کا سامنا، والدہ کا کہنا ہے کہ بیٹی سے غلطی ہوئی، اب مزید کارروائی نہ کی جائے
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ طور پر نازیبا زبان استعمال کرنے والی نوئیڈا کی ایک 15 سالہ لڑکی کی والدہ نے حکومت اور پولیس سے اپیل کی ہے کہ ان کی بیٹی کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لی جائے اور خاندان کو مناسب تحفظ فراہم کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد انہیں مسلسل دھمکیوں کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے پورا خاندان خوف و ہراس کی کیفیت میں زندگی گزار رہا ہے۔
والدہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان کی بیٹی اپنی حرکت پر نادم ہے اور اس نے عوامی طور پر معذرت بھی کر لی ہے۔ ان کے مطابق وزیر اعظم کی جانب سے نرم رویہ اختیار کیے جانے کے بعد وہ امید رکھتی ہیں کہ پولیس بھی ایف آئی آر ختم کر دے گی تاکہ ان کی بیٹی کی تعلیم اور مستقبل متاثر نہ ہو۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ متنازع ویڈیو وائرل ہونے کے بعد مختلف ذرائع سے انہیں اور ان کے اہل خانہ کو دھمکیاں مل رہی ہیں، جس کے باعث وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے پولیس سے سکیورٹی فراہم کرنے اور محفوظ رہائش کا انتظام کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔
دوسری جانب، اس معاملے میں قانونی کارروائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق ایف آئی آر واپس نہیں لی گئی تھی اور قانونی امداد کی پیشکش بھی کی گئی، جبکہ بعد میں دہلی پولیس کے ذرائع نے بتایا کہ نابالغ ہونے کے سبب لڑکی کے خلاف مزید قانونی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ معاملہ سوشل میڈیا، آزادیٔ اظہار، نابالغوں کی قانونی ذمہ داری اور سیاسی اظہارِ رائے کی حدود کے حوالے سے ملک بھر میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔