دہلی میں نفرت، دبئی میں محبت، بھارت نفرت انگیزی کا اڈا بنتا جارہا ہے، بھارت کی پہچان اب نفرت سے ہونے لگی ہے

دہلی میں نفرت، دبئی میں محبت: نعرہ یہاں ، حقیقت وہاں

از:- محمد سلمان چھاپی

آج کل ہر طرف "اکھنڈ بھارت” کا بہت چرچا ہے۔ سیاسی اسٹیج ہوں یا سوشل میڈیا کے مناظرے، ایک خاص نظریہ (ویچار دھارا) کے لوگ اکھنڈ بھارت کا نقشہ لیے گھوم رہے ہیں۔ وہ بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش کو ایک کرنے کا خواب دکھاتے ہیں، لیکن ستم ظریفی دیکھیے کہ وہ اس "اتحاد” کی بنیاد نفرت، ہجومی تشدد (Lynching) اور تعصب پر رکھ رہے ہیں۔ میں بھی سوچتا تھا کہ یہ نام نہاد اتحاد کب اور کیسے بنے گا؟ لیکن پچھلے دنوں دبئی کے سفر نے میری آنکھیں کھول دیں اور مجھے احساس ہوا کہ جس "اکھنڈ بھارت” کے نام پر یہاں سیاست چمکائی جا رہی ہے، وہ تو عرب حکمرانوں نے برسوں پہلے عملاً قائم کر دیا ہے۔

دبئی: جہاں سرحدیں ختم اور انسانیت زندہ ہے

اگر کوئی سچ مچ "اکھنڈ بھارت” دیکھنا چاہتا ہے، تو وہ دہلی یا ممبئی کے ٹی وی چینلز چھوڑ کر دبئی کی گلیوں اور بازاروں کا رخ کرے۔ وہاں بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمان اور ہندو ایک چھت تلے، ایک ہی دسترخوان پر محبت سے کھانا کھاتے نظر آتے ہیں۔ وہاں نہ کوئی "جے شری رام” کا نعرہ لگا کر کسی مسلمان کی جان لیتا ہے، نہ کوئی "اللہ اکبر” کے نام پر کسی کو ہراساں کرتا ہے۔ وہاں کوئی کسی کو "پاکستان چلے جاؤ” کا طعنہ نہیں دیتا اور نہ ہی کوئی کسی کو "گوبر بھکت” کہہ کر تذلیل کرتا ہے۔ وہاں نہ پاک و ہند کی دشمنی کی عصبیت ہے، نہ مذہب کی دیواریں۔

پارک کی ایک گفتگو اور تلخ حقیقت

دبئی کے ایک پارک میں میری ملاقات ایک گجراتی ہندو بھائی سے ہوئی۔ جب اسے معلوم ہوا کہ میں ہندوستانی ہوں، تو وہ خوشی سے میرے پاس آیا۔ اس کی باتوں نے میرے سینے میں ایک ٹیس سی پیدا کر دی۔ اس نے کہا:
> "بھائی! یہاں ہم کتنی امن و شانتی سے رہتے ہیں۔ ہمارا دھرم الگ ہے، سوچ الگ ہے، لیکن یہاں کوئی نفرت نہیں، کوئی لنچنگ نہیں۔ بھارت میں تو آج کل ظلم ہی ظلم ہے۔ ہمیں یہاں آکر احساس ہوتا ہے کہ انسان، انسان کا دشمن نہیں ہوتا، بلکہ ہمیں وہاں کی کرسی اور اقتدار کے بھوکے سیاست دان اپنے مفاد کے لیے لڑواتے ہیں۔”

کاروبار اور نظام: ایک موازنہ

اس گجراتی بھائی نے ایک اور پتے کی بات بتائی جو ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ بھارت میں ایمانداری سے کاروبار کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ ٹیکس کے نام پر ہراسانی، رشوت خور افسران کی فوج اور قدم قدم پر تفتیش کے نام پر ذہنی اذیت۔ اگر آپ قانون کے مطابق چلیں تو فائلیں دب جاتی ہیں، اور اگر رشوت دیں تو کام آسان ہو جاتا ہے۔
اس کے برعکس، دبئی میں نظام اتنا شفاف ہے کہ کوئی افسر آپ کو بلاوجہ پریشان نہیں کر سکتا۔ وہاں کمانا آسان ہے، ٹیکس کا نظام واضح ہے اور اگر آپ قانون کی پابندی کرتے ہیں تو آپ کو کسی کی سفارش یا رشوت کی ضرورت نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت امریکا تجارتی معاہدہ

حاصلِ کلام: نفرت چھوڑو، ملک جوڑو

یہ کتنی بڑی منافقت ہے کہ ہم اکھنڈ بھارت کی بات تو کرتے ہیں مگر اپنے پڑوسی، اپنے ہم وطن بھائی سے ہاتھ ملانے کو تیار نہیں۔ ہم نقشوں پر تو لکیریں مٹانا چاہتے ہیں مگر دلوں میں نفرت کی خندقیں کھود رہے ہیں۔ عرب حکمرانوں نے ہمیں دکھا دیا کہ امن اور انصاف ہو تو مختلف قومیں اور مذاہب ایک جگہ جنت جیسا ماحول بنا سکتے ہیں۔
کاش! ہمارے ملک کے "ویچار دھارا” والے لوگ یہ سمجھ سکیں کہ ملک نفرت سے نہیں، انصاف اور محبت سے بنتے ہیں۔ اکھنڈ بھارت نقشے سے نہیں، دلوں کو جوڑنے سے بنتا ہے۔ اگر ہم اپنے ہی ملک میں ایک دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھیں گے، تو یہ خواب محض ایک سیاسی نعرہ ہی رہے گا۔
آئیے! دبئی کے اس ماڈل سے سبق سیکھیں جہاں انسان کی قدر اس کے کام اور اخلاق سے ہے، نہ کہ اس کے مذہب یا ملک سے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔