از:- ڈاکٹرظفردارک قاسمی
عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اہل سنت والجماعت کے گروہ کے نظریات و افکار اور طریقہ کار یقیناً اعتدال و توازن سے ہٹے ہوئے ہیں اور کسی حد تک افراط و تفریط کا شکار ہیں ۔ بریلوی طبقہ اس بات کا قائل ہے کہ میلاد النبی منایا جانا چاہیے یعنی پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم پیدائش کے موقع پر جشن منانا چاہیے ۔ اس کے بر عکس اہل سنت والجماعت کے دوسرے گروہ جنہیں دیوبندی ، سلفی یا جماعت اسلامی کہا جاتا ہے ان کا کہنا یہ ہے کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی یوم پیدائش کے موقع پر جشن منانا از روئے شرع ٹھیک نہیں ہے ۔ یہ عمل خیر قرون میں نہیں ہوا تو اب کیوں ۔ یہاں یہ بات بھی سمجھنی چاہیے کہ جو لوگ جشن ولادتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جواز کے قائل نہیں ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ بارہ ربیع الاول میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کے متعلق شواہد غیر یقینی ہیں ۔ اس کے علاوہ اور بھی دلائل و براہین پیش کرتے ہیں۔
اس ضمن میں پہلی بات تو یہ سمجھنی چاہیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کے مبارک موقع یعنی ماہ ربیع الاول میں اگر ہم ذکر رسول، حب رسول ، اطاعتِ رسول ، عقیدت رسول اور عظمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق محفلیں آراستہ کریں، جلسے منعقد کیے جائیں تو اس میں کسی بھی طرح کی قباحت یا برائی نہیں ہونی چاہیے اور نہ ہی کسی کو کوئی اعتراض ہونا چاہیے ۔ ذکر مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے معاشرے میں دین کا ماحول پیدا ہوگا، ہمارے بچے، عوام، خواتین اور جوان سیرتِ رسول ، حیات طیبہ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کارناموں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار و گفتار سے واقف ہوں گے جسے یقیناً اشاعت دین اور ترویج اسلام کے ایک پہلو سے تعبیر کیا جاسکتا ہے ۔ بلکہ ایسا ہونا چاہیے کہ بارہ ربیع الاول کے پورے مہینے محلے، گلیوں، مسجدوں ، مکتبوں، اسکولوں ، کالجوں ، یونیورسٹیوں اور مدراس دینیہ میں سیرت طیبہ، حیات رسول اور فکر رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق پروگرام منعقد کیے جائیں ۔ کم از کم اس بہانے ہی ہمیں سیرتِ نبوی سننے کا موقع مل سکے گا ۔ یوں تو زندگی یوں ہی بے مقصد گزر رہی ہے، دین سے وابستگی کم ہوتی جارہی ہے ۔ سیرتِ سرورِ کائنات کے متعلق عوام میں کسی بھی طرح کی کوئی جانکاری نہیں ہے ۔ اس لیے بارہ ربیع الاول کے مہینے میں سیرتِ سرورِ کائنات کے متعلق زیادہ سے زیادہ پروگرام منعقد کرنے چاہیے ۔
اسی طرح اس ماہ میں ہمیں سیرتِ طیبہ کے حوالے سے اُردو، ہندی، انگلش اور دیگر علاقائی زبانوں میں زیادہ سے زیادہ لٹریچر نشر کرنا چاہیے جو مختصر ہو اور اس میں چھوٹے چھوٹے سیرت کے واقعات کو شامل کیا جائے تاکہ سبھی افراد اس سے استفادہ کرسکیں ۔ المیہ یہ ہے کہ بارہ ربیع الاول کے موقع پر جو کام ہمیں کرنے چاہیے تھے ان کو ہم کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔ بس آپس میں لڑرہے ہیں ۔ اگر یہ بات تسلیم بھی کرلی جائے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت بارہ ربیع الاول کو نہیں ہوئی ہے جیسا کہ بعض علماء کی رائے ہے، تب بھی اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ بہر حال پیدائش ربیع الاول میں ہی ہوئی ہے۔ خواہ وہ ربیع الاول کی کوئی سی بھی تاریخ ہو ۔ لہٰذا اس ماہ کو سیرت رسول سے جوڑ کر دیکھنا چاہیے اور اسی کے مطابق اپنے شب و روز کے اعمال طے کرنے چاہیے ۔ آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے بدقسمتی ہماری یہ ہے کہ ہم اپنے قیمتی وقت کو یوں ہی ضائع کررہے ہیں ۔ کم از کم ربیع الاول میں سیرتِ طیبہ سے متعلق پروگرام منعقد کیے جائیں گے تو کچھ نہ کچھ ضرور سیکھیں گے ۔ ہمارے یہاں مسائل کا حل تلاش کرنے کے بجائے مزید الجھایا جاتا ہے۔ تخریبی ذہنیت رکھنے والوں نے ایسا ماحول بنا دیا ہے جس کی وجہ سے اصل مقصد ترک ہوگیا اور فضولیات میں لگ گئے ۔ ذرا ٹھہر کر سوچیے! کہ ہم آخر کر کیا رہے ہیں اور ہمیں کرنا کیا چاہیے تھا ۔ اس لیے یہ بات کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ جو ولادتِ باسعادت کے موقع پر ذکر رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق کسی بھی طرح کے پروگرام کے قائل نہیں ہیں ان کا نظریہ درست نہیں ہے ۔
اب ذرا ان حضرات کے کارناموں اور رویوں کو دیکھیے کہ !جو لوگ ولادت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جشن منانے کے قائل ہیں ۔ وہ جشن ولادت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر کیا کر رہے ہیں ؟ ڈی جے بجانا، رقص کرنا، اسی طرح کی مزید دیگر خرافات کرنا درست ہے؟
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام چیزوں کی اجازت دی ہے؟ جھنڈے لے کر گلیوں میں گھومنا، محبت رسول کی علامت ہے؟ عقیدت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہرگز یہ تقاضا نہیں ہے کہ ہم نعرے لگائیں، ڈی جے پر رقص کرلیں اور شہر کی شاہراؤں پر گھومتے پھریں ۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ بارہ ربیع الاول کے مبارک موقع پر ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں سیرت رسول صلی اللہ علیہ کو داخل کریں گے اور زندگی کو آپ کے بتائے ہوئے راستے پر گزارنے کی سعی کریں گے ۔ اس لیے یہ کہنا بجا ہے کہ مروجہ جشن ولادت رسول کا جو طریقہ ہے وہ یقیناً درست نہیں ہے ۔ لہٰذا اس حوالے سے ہمیں اپنے رویے پر نظرِ ثانی کرنے کی ضرورت ہے ۔ ذرا سوچئے! مسجد کے امام ہوتے ہوئے، مدرسہ کے استاد رہ کر، یا عالم دین ہوکر ہم پورے دن جشن ولادت رسول تو گھوم گھوم کر منائیں، مگر اسی عوام کو جو دن بھر جشن ولادت رسول منانے کے لیے سڑکوں پر گھومتی رہی، اسے ہم سنت رسول ، سیرت رسول کے متعلق کچھ بھی نہ بتاسکیں تو یہ حضور سے محبت کا کس طرح کا اظہار ہے ۔ جو عوام جشن ولادت گھوم گھوم کر منارہی تھی اور ہاتھوں میں آئی لو محمد کے بورڈ بھی دن بھر لگے رہے ،مگر جب وہ اپنے گھر واپس لوٹیں گے تو ان سے ان کے بچے ہی معلوم کرلیں کہ آپ ہمیں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بتائیے تو کیا بتا ئیں گے؟ اس لیے ضرورت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا اظہار صرف نعروں کے ذریعہ نہ کیا جائے بلکہ آپ کے اسوہ حسنہ کو اپنی زندگی کا نصب العین بنایا جائے ، اس کے لیے پروگرام منعقد کرنا ، سیرتِ رسول کا مطالعہ، سیرت سے متعلق مواد کی نشر و اشاعت ضروری ہے ۔
امت مسلمہ کو دین سے قریب کرنے اور سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جوڑنے کا ماہ ربیع الاول بہترین موقع ہے ۔ افسوس کہ ہم اس موقع کو گنوا رہے ہیں ۔ وہ طبقہ بھی گنوا رہا ہے جو جشن ولادت رسول کے جواز کا قائل ہے اور وہ بھی جو اس کے عدم جواز کا قائل ہے۔ کیوں کہ مقصدیت کا فقدان دونوں کے یہاں پایا جاتاہے ۔ ایک طبقہ محبت رسول کے نام پر جو کچھ کررہا ہے وہ بھی درست نہیں ہے اور جو طبقہ کچھ نہیں کر رہا ہے وہ بھی صحیح نہیں کررہا ہے ۔اس لیے اعتدال کا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے اور اعتدال کا طریقہ یہی ہے کہ ہم اس ماہ میں زیادہ سے زیادہ سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچانے کی کوشش کریں اور عوام۔ خواہ اس کے لیے پروگرام منعقد کیے جائیں یا پھر تحریر و تحقیق کا سہارا لیا جائے ۔ ہاتھوں میں پلے بورڈ لے کر گلیوں میں نعرے لگانے سے کوئی بھی عاشق رسول نہیں ہوسکتا ہے ۔ عاشق رسول بننے کے لیے طریقہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کرنا ہوگا ۔ کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ وہ عاشق رسول ہیں مگر اس کی زندگی میں سنتوں کا اہتمام نہیں ہے ۔ اس کی زندگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ سے ہم آہنگ نہیں ہے تو وہ جھوٹا ہے اور عوام کو دھوکہ دے رہا ہے ۔ ایسے شخص کا کوئی بھی عمل، کردار اور قول قابل قبول نہیں ہے ۔
عشق رسول اور محبت رسول کا وہ تقاضا نہیں ہے جو ہم کررہے ہیں ۔ جس کا ہم سے تقاضا کیا جارہاہے اس پر عمل نہیں کر رہے ہیں ۔س لیے ہم کس طرح عاشق رسول کہے جاسکتے ہیں ۔ ہم اپنے بارے میں خود سوچے اور فیصلہ کریں ۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ آج کا دور سوشل میڈیا کا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی بات کی لمحوں میں دور تک چلی جاتی ہے ۔ ادھر ہمارے کردار و عمل پر سب کی نگاہیں ہوتی ہیں کہ ہم کیا کررہے ہیں ۔ کس طرح کررہے ہیں اور کیوں کررہے ہیں ۔ اس لیے ہم جشن ولادت رسول صلی اللہ علیہ وسلم منانا چاہتے ہیں تو منائیں لیکن ہم سے کوئی ایسی چوک نہیں ہو جائے جو ہماری جگ ہنسائی کا سامان بنے اور پھر یہ الزام عائد کیا جائے کہ مسلمان تو ہوتے ہی ایسے ہیں ۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ ہم کسی عام فرد کا یوم ولادت نہیں منارہے ہیں بلکہ فخر کائنات اور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کا جشن منا رہے ہیں ۔ اس لیے کوئی بھی غیر شرعی عمل نہ انجام دیا جائے جسے کل ہوکر دین کا حصہ سمجھ لیا جائے اور پھر دین میں ایک نئی بات پیدا ہو جائے، جسے بعد میں دین سمجھ کر انجام دیا جانے لگے ۔ یہ بھی نہ ہو کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے مبارک موقع پر انسانیت کو کوئی مثبت پیغام نہ دے سکیں۔
آخر میں یہ کہنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آج کل سوشل میڈیا پر عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جواز اور عدم جواز کی بحث چھڑی ہوئی ہے ۔ کوئی بریلوی علماءِ کو بدعتی اور خرافاتی کہہ رہا ہے تو کوئی دیوبندی علماء کو گالم گلوج کررہا ہے ۔ جب کہ اس کا کوئی حل نہیں ہے ۔ جو بھی اس طرح کی بحث میں شامل ہے اس کو محبت رسول سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ ذرا سوچیے! اگر ہم اس بحث میں پڑنے کے بجائے سوشل میڈیا پر ربیع الاول کے شروع ہوتے ہی سیرت کے مختلف عنوانات پر لکھتے اور اسے سوشل میڈیا پرہی نشر کرتے تو کتنا فائدہ ہوتا ۔ یہ بحث جو چھڑی ہوئی ہے اس سے کسے فائدہ ہواہے ؟ہاں ہماری اس فضول بحث سے یہ پتہ مزید چل گیا کہ مسلمان اپنے پیغمبر کی تاریخ ولادت کے بارے میں ہی متفق نہیں ہیں. ایسا لگتا ہے کہ ہمارا مزاج تعمیری نہیں رہا ہے ۔ بلکہ ہمیں ہر اس کام میں زیادہ مزہ آتا ہے جس سے معاشرے میں اختلاف و افتراق اور خلفشار و انتشار بپا ہوتا ہے ۔
—