ایک غریب کے نام یادگار تکمیلِ قرآن

از:- ظفر امام قاسمی

_______________

سبزوں اور ہریالیوں سے گھری ایک چھوٹی سی بستی کے ایک برآمدے میں ایک معزز اور مؤقر ہستی کی میت رکھی ہوئی تھی (یہ ہستی واقعۃً بڑی مؤقر تھی،ان شاء اللہ جلد ہی اُس مؤقر ہستی کے متعلق کچھ لکھنے کی سعی کروں گا) اولاد و احفاد کا رو رو کر برا حال ہوچکا تھا،صبح کے آٹھ بج رہے تھے،گرمیوں کی صبحیں ویسے بھی جلدی بیدار ہوجایا کرتی ہیں،اس اعتبار سے آٹھ بجے کی صبح کا مطلب دن اچھا خاصا چڑھ آیا تھا، اب بس کچھ ہی دیر میں میت کی نہلائی اور کفنائی ہونے والی تھی کہ اُسی بستی کے ایک گمنام گوشے سے ایک شور اٹھا جو آن کی آن میں پوری بستی میں پھیل گیا،وہ شور کسی اور چیز کا نہیں بلکہ اسی بستی کے ایک غریب، پسماندہ اور کسمپرس نوجوان کی موت کا شور تھا جو ایک دن پہلے کا گُم ہوا صبح کے آٹھ بجے اسی بستی کے ایک کھیت کی کیچڑ میں لت پت اس حال میں مُردہ پایا گیا تھا کہ وہ اوندھے منہ کیچڑ میں گرا ہوا تھا،چہرہ کیچڑ میں دھنسا ہوا اور پیٹ دلدلی زمین سے چپکا ہوا،برساتی جونکوں نے اپنی خوراک سمجھ کر اتنی تعداد میں اس پر دھاوا کیا تھا کہ اس نوجوان کا چہرہ،کان،ناک اور بدن کے دیگر اعضاء لہو لہو ہوگئے تھے، جونک گزیدہ زخموں سے مسلسل مرا مرا خون رِس رہا تھا،شاید خدائے پاک اسے اس طرح سے موت دے کر آخرت کی تکالیف اور رنج و محن سے چھٹکارا دینا چاہتا تھا۔

یہ ایک امرِ واقعہ ہے کہ اس نوجوان کا تعلق ایک ایسے غریب، لاچار،مجبور اور بےبس گھرانے سے تھا جس کے پاس بیٹھنے سے بھی بعض انسان کتراتے اور اپنی شخصیت پر دھبہ لگ جانے کا خطرہ محسوس کرنے لگتے ہیں،یہ ہمارے سماج اور معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے،دنیا کے سارے انسان خدا کے بنائے ہوئے ہوتے ہیں،امیری اور غریبی کی ان کے یہاں کوئی اہمیت نہیں ہوا کرتی،وہ اپنے سارے بندوں کو مساوی نظر سے دیکھتے ہیں،مگر ہم نے امیری اور غریبی کے نام پر خدا کے بندوں کے درمیان تفریق کی ایک ایسی ناقابلِ شکن دیوار کھڑی کردی ہے جسے توڑنا اب شاید قیامت کی صبح تک کسی کے لئے ممکن نہیں،ہم انسان ہوکر بھی انسانوں سے نفرت کرتے ہیں،اگر کوئی غریب ہے تو اسے دبانے اور اسے ستانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔
اِس نوجوان کی کہانی بھی کچھ اسی نوعیت کی ہے،ہم اس نوجوان کو بچپن کے زمانے سے ہی جانتے ہیں،کیونکہ وہ ہماری ہی بستی کا رہنے والا تھا،بس ٹولے کا فرق تھا،وہ خود سیدھا سادہ،بھولا بھالا اور صاف دل کا انسان تھا،زبان میں تھوڑی سی لکنت ضرور تھی مگر بول لیا کرتا تھا،باپ اتنا سیدھا جیسے اللہ پاک نے اسے سدھا کر دنیا میں بھیجا ہو،جس نے جو کہا اسی پر ہاں کہہ دیا،نہ بھلی بھانتی کی تمیز اور نا ہی اچھائی اور برائی کی کوئی شناخت،نا کسی سے لینا اور نا دینا،نا کسی کو گالی دینا اور نا ستانا، مرنجاں مرنجی طبیعت کا پیکر،غربت کا اتنا ستایا ہوا کہ زندگی میں کبھی قیمتی کپڑوں کا نہ منہ دیکھا اور نہ ہی کبھی ان کا خیال دل کی تختی پر ابھرا،گرمیوں کے موسم میں پھٹی بنیان اور سردیوں کے زمانے میں ایک میلی چادر اپنے نحیف و لاغر جسم میں ڈالے بارہا سڑکوں میں پھرتا دیکھا گیا،اس کی ماں اسے بچپنے میں ہی چھوڑکر راہئ بقا ہوگئی تھی،باپ نے دوسری شادی کی اور اس سے اس کی کئی اولاد بھی ہوئی،اولاد کی کلکاریوں سے وہ گھر آباد تو ہوگیا مگر دولت کی کھنک سے وہ گھر تاحال محروم رہا، یہی کیا کم تھا اوپر سے ان کے کچھ اپنے لوگوں نے ان پر وہ ستم ڈھائے کہ وہ آبادی سے دور کھیتوں کے بیچوں بیچ اپنا آشیانہ بنانے پر مجبور ہوئے۔

یہ نوجوان تقریبا اپنے باپ پر گیا تھا،طبیعت میں بہت حد تک یکساں اور چال ڈھال میں بھی کافی حد تک اپنے باپ کے مماثل تھا،مگر اتنا بھی نہ تھا کہ کماکر کھا نہیں سکتا تھا،کمانے کے لئے اس نے پردیس کی خاک بھی چھانی تھی اور شادی بھی کی تھی شاید ایک دو اولاد بھی ہوئی، کاروانِ حیات غربت کی پگڈنڈیوں میں خراماں خراماں آگے بڑھ رہا تھا کہ اس نوجوان کو دورے کی بیماری لاحق ہوگئی {اس کا علم مجھے اس کے انتقال کے بعد ہوا}بیماری کا لاحق ہونا تھا کہ جیسے اس کی زندگی ایک ہی مرکز پر تھم سی گئی،پہلے ویسے ہی مشکل سے گزارہ ہو رہا تھا اب چولہے کی آگ تک بجھتے ہوئے نظر آنے لگی،مگر خدا کسی کو بھوکا نہیں سلاتا کسی طرح سے گزر بسر ہوتا رہا،اُدھر اُس کی بیماری اس حد تک شدت اختیار کر گئی کہ کسی بھی وقت اس پر دورہ طاری ہوجاتا تھا،پیسے ہوتے تو علاج کے لئے جاتا،نہ جانے دورے کی کتنی تکلیفیں اس بےچارے نے جھیلی ہوں گی،مگر آہ نہ اس کے پاس ڈاکٹر کے یہاں جانے کے پیسے ہوئے اور نہ ہی بےحس سماج نے اس طرف کوئی دھیان دیا۔

اور پھر موت سے ایک دن پہلے وہ اپنے گھر سے نکلا اور چلتے چلتے دوسرے گاؤں کے چوک تک جا پہنچا،وہ اسی چوک میں بیٹھا رہا تا آنکہ رات کی تاریکی چھا گئی، کسی نے اسے دیکھا تو اس کے ہاتھوں میں بسکٹ کی ایک تھیلی پکڑائی اور کچھ دور لے جاکر اسے چھوڑ آیا،برسات کی رُت،رات کا وقت، تاریکیوں کا راج اور سناٹے کے اُس سائے میں وہ عام سڑک کو چھوڑ کر پگڈنڈیوں والے مختصر راستے پر چل نکلا،اسے کیا خبر تھی کہ یہ راستہ اسے کبھی بھی اپنے گھر تک نہیں پہنچائےگا بلکہ اس راستے کا اگلا سرا بھول بھلیوں سے پُر اس منزل سے ملا ہوا ہے جس سے واپسی کا کوئی امکان نہیں،چلتے چلتے جب وہ بیچ راستے تک پہنچا پیامِ اجل اس کے سر پر آکر کھڑا ہوگیا،وہی دورہ جس سے وہ ہر بار جانبر ہو جایا کرتا تھا آج اسے موت کی نیند سلا گیا،وہ لڑکھڑا کر کھیت کی کیچڑ میں اس پوزیشن میں گرا کہ اس کی ناک،چہرہ اور دیگر اعضاء مکمل طریقے پر زمین میں دھنس گئے،وہاں اس کے علاوہ کوئی تھا بھی نہیں کہ اسے بچا لیتا،نہ جانے اپنی جان بچانے کے لئے اس نے کتنے ہاتھ پاؤں مارے ہوں گے مگر موت کے آہنی پنجوں کے سامنے سب بےسود ثابت ہوئے،اور اگلی صبح جب کچھ عورتیں اسی راستے سے اس معزز ہستی کے گھرتعزیت کے لئے آ رہی تھیں تو ان کی نظر اس مرے ہوئے نوجوان پر پڑی،ان کے شور مچانے سے جب بستی والے دوڑے آئے تب معلوم ہوا کہ جس کے گھر والے اس امید پر تھے کہ کہیں گیا ہوگا آجائےگا،وہ تو ہمیشہ کے لئے گھر چھوڑ کر جا چکا ہے۔
مرنے والا کون تھا؟ ایک غریب،غریب بھی ایسا کہ امراء جسے اپنی جوتیوں کی خاک کا بھی درجہ نہ دیں،نہ اس کی رشتہ داری کا سرکل زیادہ لمبا تھا اور نہ ہی کوئی بھائی برادر ولایت یا پردیس میں تھے،بس لے دے کر ایک دو ننھے بچے،جوان بیوی،بھولے بھالے باپ،سوتیلی ماں اور چند بھائی بہنوں کے ساتھ سماج کے دلِ ہمدرد رکھنے والے چند لوگ، یہ کتنا روتے،روکر وہ میت کو واپس تو نہیں لاسکتے تھے،سو تھوڑی دیر انہوں نے میت پر رونا کیا،آنسوؤں کی جھڑیاں برسائیں،پھر بستی کے لوگوں نے میت کے گھر والوں کو سمجھایا: کہ اُدھر دوسرا جنازہ تیار ہونے کو ہے،اگر تم لوگ جلدی سے تجہیز و تکفین کرلیتے ہو تو دونوں جنازے کی نماز ساتھ میں ہوجائےگی۔“

ایک غریب اور بےنام خانوادے کے لئے یہ پیش کش کسی ہفت اقلیم کی سلطنت سے کم نہ تھی،کیونکہ یہ تو طے بات تھی کہ اگر یہ غریب نوجوان دوسرے دنوں میں مرتا تو اس بستی کے اردگرد فضاؤں میں اڑ رہے چیل کوؤں تک کو خبر نہ ہوتی،اگر سو لوگ بھی اس کے جنازے میں شریک ہوجاتے تو یہ بھی ایک بڑی تعداد کہلائی جاتی،لیکن اس کے دنیا کو الوداع کہنے کے دن اسی بستی کے جس معزز اور قدیم عالم دین کا انتقال ہوا تھا،ان کے رشتہ داروں،تعلق داروں، شاگردوں، ملاقاتیوں اور مقتدیوں کی سینکڑوں تعداد جنازہ کی نماز میں امڈتے ہوئے سیلاب کی طرح آئی تھی،ایسے میں اس غریب خانوادے کو بھلا یہ پیش کش کیونکر منظور نہ ہوتی؟سو انہوں نے تجہیز و تکفین کی کارروائی شروع کردی،مگر اتنے مختصر وقت میں یہ سب کرنا اتنا آسان نہ تھا۔

اب دن کے دس بجنے والے تھے،جنازے کا اعلان پہلے ہی گیارہ بجے کا ہوچکا تھا،اعلان کے بموجب تقریبا ساڑھے دس بجے ہی اس بزرگ کی میت کو جنازہ گاہ پہنچا دیا گیا،سینکڑوں سوگوار دھوپ کی تمازت میں صف بہ صف وقت مقررہ کا انتظار کرنے لگے،کچھ دیر تک علاقے کے علماء کرام اپنے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے رہے اور گھڑی اپنا ٹک ٹک راگ سناتی وقت مقررہ کی طرف بڑھنے لگی،اِدھر حاضرین کی نگاہیں بار بار اس شاہراہ کی طرف اٹھنے لگیں جس شاہراہ سے غریب نوجوان کی میت آنے والی تھی،مگر سوئے نصیب کہ وقت مقررہ تک میت نہ پہنچ سکی،اُدھر دھوپ میں کھڑے کچھ ”نفیس طبیعت اور وی آئی پی“ انسانوں نے ہنگامہ کرنا شروع کردیا کہ جس وقت کا اعلان ہے اسی وقت پر جنازہ پڑھایا جائے،حالانکہ اکثر لوگوں کا خیال تھا کہ تھوڑی دیر اور انتظار کرلیا جائے،مگر ہنگامے کا اثر غالب رہا،پھر ہونا کیا تھا،جہاں خدائے قدوس نے دنیا والوں کو یہ سبق دینا چاہا تھا کہ اے لوگو:میری نظر میں امیر غریب سب برابر ہیں،میں غریبوں کے لئے بھی تاریک راتوں کے بطن سے ایسی روشن صبح پیدا کرنے کی طاقت رکھتا ہوں،جس کا تمہیں ادراک نہیں،تم نے جسے ہمیشہ غبارِ راہ سمجھ کر ہاتھوں سے اڑانا چاہا،آج دیکھو اس کی میت کے انتظار کے حق میں کتنے لوگ دھوپ کی شدت اور شعاعوں کی تمازت کو برداشت کرنے کو تیار ہیں“ مگر کچھ انسانیت دشمنوں،اخلاق کے ماروں،سماج کے ٹھیکیداروں اور معاشرہ کے منصفوں نے خدا کی اُس نوائے سروش کی طرف دھیان نہ دیا، اور ان کی مہربانی سے اس غریب کی میت کا انتظار نہ کیا گیا اور جنازہ کی نماز پڑھ لی گئی۔

مگر قدرت بھی اس دن اس غریب پر جیسے کچھ زیادہ ہی مہربان تھی،جونہی پہلے جنازہ کی نماز سے لوگ فارغ ہوئے،اس کے تھوڑی دیر کے بعد ہی اس غریب کا جنازہ،جنازہ گاہ میں داخل ہوگیا،اب منظر یہ تھا کہ جتنے سارے لوگوں نے پہلی میت پر جنازہ کی نماز پڑھی تھی وہ سب کے سب تو اس غریب کے جنازے میں شریک تھے ہی،ساتھ ہی ان لوگوں نے بھی اس تعداد میں اضافہ کردیا تھا جو اس غریب کی میت کے ساتھ آئے تھے، یوں خدا نے ان انسانیت دشمنوں کے منہ پر ایک زناٹے دار طمانچہ رسید کردیا تھا جو ایک غریب انسان کے لئے تھوڑی دیر زحمت نہیں اٹھا سکے تھے۔
جنازہ کے بعد میری نگاہیں جب اس غریب نوجوان کی قبر کی متلاشی ہوئیں تو معلوم ہوا کہ سماج کے ٹھیکیداروں نے یہاں بھی ڈنڈی ماری ہوئی ہے،کیونکہ اس معزز ہستی کی قبر کو تو وہاں جگہ دی گئی تھی جو جگہ چلنسار اور نسبتا عمدہ مانی جاتی ہے {وہ معزز ہستی اس جگہ کی حقدار تھی بھی}اور اس غریب نوجوان کو دور پار ندی کے کنارے اس مقام پر قبر کے لئے جگہ ملی تھی جہاں اگر کوئی قصدا جائے تب ہی ورنہ عموما زائرین وہاں تک نہیں جاتے اور اس جگہ کو اتنا اچھا خیال بھی نہیں کیا جاتا،یہ منظر دیکھ کر میرے آنسو نکل پڑے اور میں وہیں بیٹھے بیٹھے سوچنے لگا کہ ہائے رے دنیا اور دنیا کے یہ ٹھیکیدار کہ انہوں نے مرنے کے بعد بھی ایک غریب کو نہ بخشا اور یہاں بھی امیری اور غریبی کا کھیل کرکے انسانیت کو شرمسار کرگیا۔

میں یہ نہیں کہتا کہ اس ندی کے کنارے اس غریب کی قبر بنانا غلط تھا کیونکہ وہ بھی قبرستان کا ہی ایک حصہ تھا،پھر یہ کہ انسان کہیں بھی مدفون ہو اٹھ کر جمع تو ایک ہی جگہ ہونا ہے،لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ اس دن اس غریب کے ساتھ نا انصافی ہوئی تھی،کیونکہ ایک ہی بستی کے ایک انسان کو تو عمدہ مقام پر جگہ دی گئی تھی اس بناء پر کہ وہ محترم تھا اور دوسرے کو پس ماندہ جگہ پر دفن کیا گیا تھا،کیونکہ وہ غریب تھا، ہاں دوسرے دنوں میں اس کی موت ہوتی اور اسے وہاں دفن کیا جاتا تو مجھے چنداں اعتراض نہ ہوتا۔
اس پورے ہنگام میں وہ منظر بھی بڑا کربناک اور دلدوز تھا جس نے میرے دل کو کاٹ کے رکھ دیا تھا،یہ وہ منظر تھا جب اس جوان کے جسم خاکی پر مٹی کی چادر چڑھائی جا رہی تھی اُس وقت اس کے اس مرنجاں مرنج باپ نے دھوپ کی تمازت سے بچنے کے لئے اپنے سر پر ہلکے گلابی رنگ کا ایک داغ زدہ تولیہ اپنے سر پر ڈال رکھا تھا اور دھنسی دھنسی آنکھوں کے ساتھ دیوانے کی طرح لوگوں کو تکے جا رہا تھا،اُس کی آنکھوں کی اُداسیاں بتا رہی تھیں کہ وہ اپنے جوان بیٹے کے فراق میں اندر سے کتنا ٹوٹا ہوا ہے۔

الغرض اس چھوٹی سی عمر کے بےشمار تجربات نے مجھے اتنے شعور عطا تو ضرور کردئے ہیں کہ اس غریب پر ختمِ قرآن ہونا تو بہت دور کی بات تھی،اس کی قبر پر شاید کوئی فاتحہ پڑھنے کے لئے بھی نہ آئے،اسی دن میرے دل میں ایک نیک ارادے نے انگڑائی لی تھی کہ اس غریب پر ایک ختم قرآن پڑھا جانا چاہیے،تاکہ اس کی روح بھی یہ جان کر جھوم اٹھے کہ: اُس جہانِ خراب میں میرے لئے بھی کوئی دِیا ٹمٹما رہا ہے جس کی مدھم کرنیں مجھے اس گھور قبر میں پہنچ کر میرے لئے روشنی کا سامان فراہم کر رہی ہیں“ اِدھر میری حرماں نصیبی اور کسل مندی کہ گھنٹوں بیٹھ کر دوسرے کام تو ہوجایا کرتے ہیں مگر تلاوت میں دلجمعی حاصل نہیں ہوتی،سو میں نے راہ چلتے{مدرسہ سے گھر آتے ہوئے اور گھر سے مدرسہ جاتے ہوئے،اور ادھر کچھ سالوں سے بہت حد تک میرا یہی معمول ہے،مدرسہ سے نکلتے ہوئے پڑھنا شروع کرتا ہوں،گھر تھوڑا دور ہونے کی وجہ سے پہنچتے پہنچتے چار ساڑھے چار پارے پڑھ لیتا ہوں، اور مدرسہ جاتے ہوئے بھی یہی معمول رہتا ہے گوکہ ہنگامِ صبح جلدی مدرسہ پہنچنا ہوتا ہے اس لئے اس وقت زیادہ پارے نہیں ہو پاتے} اس غریب کے نام سے ایک ختم کرلیا جو میری زندگی کے یادگار ختموں {اپنی والدہ کی رحلت کے موقع پر جب میں گھر سے دیوبند لوٹ رہا تھا تو ایسے ہی ٹرین میں ایک ختم بارہ گھنٹے میں کرلیا تھا الحمدللہ}میں سے ایک ختم ہے۔
اور اب میں اسی ختمِ قرآن کو چشمِ نم اور قلبِ تر کے ساتھ اسی بےآسرا غریب کے نام کرتا ہوں جس کے ساتھ لوگوں نے اس کے مرنے کے بعد بھی انصاف نہ کیا،اس امید کے ساتھ کہ بارگاہِ ایزدی میں میرا یہ ختم مقبول ہوگا اور اس کی برکت سے اس غریب کے درجات کو اللہ پاک بلند کرےگا۔ ان شاء اللہ۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔