آسام میں 400 خاندانوں کو بستر، پلنگ اور گھریلو ضروریات کی فراہمی؛ 100 مکانات کی تعمیر کے لیے بھی سامان مہیا
پھلواری شریف، پٹنہ: امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ، پھلواری شریف، پٹنہ کی جانب سے آسام کے ضلع شیو ساگر میں سیلاب سے شدید متاثر ہونے والے خاندانوں کی امداد اور بازآبادکاری کا کام تیزی سے جاری ہے، سیلاب کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگوں کے مکانات تباہ یا اجڑ گئے ہیں، جبکہ متعدد خاندان اپنے گھریلو سامان سے بھی محروم ہو چکے ہیں،ایسے متاثرین کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے امارت شرعیہ نے امدادی سامان کی فراہمی کے ساتھ ساتھ مکانات کی تعمیر کا عملی منصوبہ بھی شروع کر دیا ہے۔امارت شرعیہ کی جانب سے متاثرہ 400 خاندانوں کی مکمل فہرست تیار کر لی گئی ہے اور ان کی ضروریات کے مطابق ریلیف سامان کی خریداری بھی مکمل کر لی گئی ہے،ان خاندانوں کے لیے لوہے کے پلنگ، بستر اور کچن کے ضروری سامان، برتن وغیرہ فراہم کیے جا رہے ہیں، مولانا احمد حسین قاسمی معاون ناظم امارت شرعیہ کی قیادت میں ریلیف سامان کی تقسیم کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے، تاکہ متاثرین کو فوری طور پر بنیادی ضروریات فراہم کی جا سکیں۔
دوسری جانب سیلاب سے مکمل طو پر اجڑ جانے والے خاندانوں کے لیے 100 گھروں کی تعمیر کی تیاری بھی زوروں پر ہے۔ مکانات کی تعمیر کے سلسلے میں شیڈ کا سامان خرید لیا گیا ہے اور تعمیراتی کام کے لیے درکار دیگر سامان کی فراہمی کا عمل جاری ہے۔ مزدوروں کی بڑی تعداد بانس کاٹنے اور تعمیراتی تیاریوں میں مصروف ہے، امارت شرعیہ کی ریلیف ٹیم کے رپورٹ کے مطابق بہت جلد سنتک اور نیپالی کھوٹی کے اطراف کے ان علاقوں میں، جہاں سیلاب نے لوگوں کے مکانات اجاڑ دیے ہیں، بازآبادکاری اور مکانات کی تعمیر کا عملی کام شروع کر دیا جائے گا۔ بازار میں تعمیراتی اور دیگر ضروری سامان کی قلت کے باعث سامان کی خریداری کے لیے دور دراز شہروں کا رخ کرنا پڑ رہا ہے، تاہم متاثرین کی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے خریداری اور ترسیل کا عمل مسلسل جاری ہے۔اس پورے امدادی و تعمیری منصوبے حضرت امیر شریعت مولاناا حمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ کی ہدایت کے مطابق انجام دیئے جارہےہیں ۔ حضرت امیر شریعت مدظلہ کی کوشش ہے کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو محض وقتی امداد فراہم کرنے کے ساتھا اجڑے ہوئے خاندانوں کو دوبارہ اپنے گھروں میں آباد کیا جائے، امارت شرعیہ کی یہ امدادی سرگرمیاں اس عزم کی مظہر ہیں کہ قدرتی آفت سے متاثرہ انسانوں کی مدد صرف فوری راشن اور ضروری سامان کی فراہمی تک محدود نہ رہے، بلکہ ان کی مستقل بازآبادکاری، رہائش کے لیے بھی بھرپور اقدامات کیے جائیں۔
امیر شریعت بہار ، اڈیشہ ،جھارکھنڈ ومغربی بنگال حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ نے ملک کے اہلِ خیر حضرات سے پُرزور اپیل کی ہے کہ وہ آسام کے سیلاب متاثرین کی بازآبادکاری کے اس اہم اور انسانی منصوبے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور امارت شرعیہ کے ریلیف فنڈ میں زیادہ سے زیادہ تعاون پہنچائیں، آپ کا تعاون کسی اجڑے ہوئے خاندان کے لیے صرف امداد نہیں بلکہ ایک گھر، ایک نئی امید اور باعزت زندگی کی بحالی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
ناظمِ امارتِ شرعیہ مفتی محمد سعید الرحمٰن قاسمی صاحب نے ائمۂ کرام اور علماءٔ عظام سے اپیل کی ہے کہ جمعہ سے قبل اس موضوع پر خطاب کرکےمصیبت کی اس گھڑی میں مصیبت زدہ لوگوں کی امداد کے لیے امارتِ شرعیہ ریلیف فنڈ میں بھرپورتعاون کی ترغیب دیں، اللہ تعالیٰ تمام لوگوں کا حامی و ناصر ہو ۔ آمین۔