کانگریس کا شرم ناک رویہّ!
کانگریس کا شرم ناک رویہّ!

✍️شکیل رشید (ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز) ___________________ لوک سبھا کے انتخابات میں اپنی ’بہترکامیابی‘ کے بعد کانگریس نے ایک اور ’ تیر مارلیا ہے ‘۔ کانگریس کی ترجمان سپریا شرینیت نے مودی حکومت کی ایک مہینے کی کارکردگی پر رپورٹ کارڈ پیش کیا ہے ، جس میں مرکزی سرکار کوآڑے ہاتھوں لیا ہے ۔ یہ […]

کانگریس کا شرم ناک رویہّ!
غم جہاں سے نڈھال سراپا درد و ملال!!
غم جہاں سے نڈھال سراپا درد و ملال!!

✍️ جاوید اختر بھارتی محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی _____________ دینی ، سیاسی ، سماجی اور تعلیمی مضامین اکثر و بیشتر لکھا جاتاہے اور چھوٹے بڑے سبھی قلمکار لکھتے رہتے ہیں مگر ضروری ہے کہ کچھ ایسے موضوع بھی سامنے آئیں جو حقائق پر مبنی ہوں یعنی آپ بیتی ہوں مرنے کے بعد تو […]

غم جہاں سے نڈھال سراپا درد و ملال!!
جمہوری سیکولر سیاست میں دھرم کی مداخلت: ہندوستانی تناظر میں
جمہوری سیکولر سیاست میں دھرم کی مداخلت: ہندوستانی تناظر میں

✍️ محمد شہباز عالم مصباحی ____________ جمہوریت کا مفہوم ہی اس بات پر منحصر ہے کہ عوامی رائے کو فیصلہ سازی میں اولیت دی جائے اور ہر شہری کو یکساں حقوق اور مواقع فراہم کیے جائیں۔ سیکولرزم، جمہوریت کی بنیاد کو مضبوط کرتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست کو مذہبی معاملات میں […]

جمہوری سیکولر سیاست میں دھرم کی مداخلت: ہندوستانی تناظر میں
کیجریوال کا قصور
کیجریوال کا قصور

✍️ مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھاڑکھنڈ ________________ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کی پریشانیاں دن بدن بڑھتی جارہی ہیں، نچلی عدالت سے ضمانت ملتی ہے، ہائی کورٹ عمل در آمد پر روک لگا دیتا ہے، سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرتے ہیں، اس کے قبل ہی […]

کیجریوال کا قصور
این جی اوز اور فلاحی اداروں میں علماء کا رول
این جی اوز اور فلاحی اداروں میں علماء کا رول

✍️ نقی احمد ندوی ________________ اس میں کوئی شک نہیں کہ علماء و فارغینِ مدارس اور طلباء کے اندر قوم و ملت اور ملک کی خدمت کا جو حسین جذبہ پایا جاتا ہے وہ عصری تعلیم گاہوں کے فارغین کے اندر عنقا ہے۔ این جی اوز اور فلاحی ادارے ان کے اس حسین جذبہ استعمال […]

این جی اوز اور فلاحی اداروں میں علماء کا رول
previous arrow
next arrow
Shadow

ایک قابلِ تقلید جلسہ میں شرکت

ظفر امام قاسمی
__________________


     الحمدللہ 28/جنوری 2024؁ء بروز اتوار جامعہ جعفریہ مدنی نگر سرائے کوڑی پواخالی،کشن گنج کی دعائیہ نشست بعنوان” اجلاس دستار بندی“ میں شرکت ہوئی،جامعہ جعفریہ کے اجلاس دستار بندی میں یہ میری پہلی شرکت تھی،جبکہ وہاں پچھلے کئی سالوں سے سال کے اختتام پر اجلاس دستار بندی کے عنوان سے ایک دعائیہ نشست کا انعقاد ہوتا ہے،مگر یہ پہلی بار تھا جب میں اس اجلاس میں حاضر ہوا تھا،اور یہ حاضر ہونا میرے لئے کافی پُر اثر رہا اور پُرثمر رہا۔
     جامعہ جعفریہ مدنی نگر سے بھلا کون واقف نہیں،گرچہ عمر کے لحاظ سے یہ ادارہ چھوٹا ہے،مگر اپنے کام اور یافت کے لحاظ سے یہ بہت بڑا ہے،اس چھوٹی سی عمر میں ہی ادارے نے تنظیم و تنسیق، صفائی و پاکیزگی،خوش سلیقگی و خوش اطواری اور تعلیم و تربیت کی جن منزلوں کو تیزگامی کے ساتھ عبور کیا ہے وہ بذات خود حیران کُن اور تعجب انگیزہے،ایک نو وارد شخص کے دل کی بند کلیاں مدرسے کے اندر قدم رکھتے ہی شگفتہ ہو اٹھتی ہیں،مضطرب دماغ کو سکون مل جاتا ہے اور ادارے کی حسین و دیدہ زیب کیاریوں میں رنگا رنگ پھولوں کی پنکھڑیوں کو لہکتے دیکھ آنکھیں سرور و سرمستی کی سمندر میں ڈوب جاتی ہیں،آپ پورے علاقے بلکہ علاقے سے باہر بھی گھوم جائیے مگر اپنی مثال آپ میں اس نہج کا مدرسہ آپ کو نایاب ملےگا۔
    اللہ نے ادارے کو کافی فراخی دی ہے،ادارے کے مہتمم حضرت اقدس مولانا خالد انور صاحب مدظلہ العالی بھی کافی کشادہ دست اور وسیع القلب شخصیت کے مالک ہیں،ہر باب میں طلبہ اور اساتذہ پر آپ کی فراوانیاں اس کا منہ بولتا ثبوت ہے،مدرسے کے پاس جگہ کی بھی کمی نہیں ہے،اگر آپ چاہیں تو ایک عظیم الشان اجلاس کا انعقاد بحسن و خوبی کراسکتے ہیں،مگر ان سب کے باوجود آپ روایتی اجلاس کے انعقاد میں کافی کوتاہ دست واقع ہوئے ہیں۔

جامعہ جعفریہ مدنی نگر کی دیدہ زیب عمارت


     یہ کئی سالوں سے آپ کا معمول چلا آرہا ہے کہ جب سال کا اختتام قریب ہوتا ہے تو آپ اس سال فارغ ہونے والے حفاظ کی فہرست نکالتے ہیں اور بناء کسی شور و شغب اور ہو ہنگامہ کے اجلاس کی تیاری میں جٹ جاتے ہیں،نہ اس کے لئے کوئی اشتہار چھپواتے ہیں،نہ ہی کان پھوڑنے والے اعلانات کو بروئے کار لاتے ہیں،نہ شامیانے نصب کراتے ہیں،نہ پنڈال آراستہ کرتے ہیں اور نہ ہی قوس قزح جیسے رنگ بکھیرنے والے قمقموں کی زیبائش اختیار کرتے ہیں، بس زبانی طور پر چند اکابرین کو اجلاس کے لئے مدعو کرتے ہیں، اپنے رفیقِ کار مخدوم گرامی حضرت مفتی مناظر صاحب نعمانی قاسمی کو نظامت کا بار تھماتے ہیں اور عمومی طور پر سوشل میڈیا کی دیوار پر اجلاس کے حوالے سے ایک اطلاع نامہ آویزاں کردیتے ہیں،جلسے کی یہی کل تیاریاں ہوتی ہیں، مدرسے کے قلب میں واقع دیدہ زیب مسجد میں اجلاس کا انعقاد ہوتا ہے،اجلاس کا وقت مغرب تا عشاء ہوتا ہے، اور جگہوں پر جس وقت باضابطہ اجلاس کا آغاز ہوتا ہے یہاں اس وقت تک اجلاس کا اختتام ہوجاتا ہے،مگر اس بےتکلف جلسے میں لوگوں کے ازدحام کا یہ عالم ہوتا ہے کہ مسجد کا اندرونی و بیرونی حصہ اپنی کشادگی کے باوجود تنگ پڑ جاتا ہے۔

  امسال بھی 28/جنوری کو حسبِ سابق اجلاس دستار بندی کے عنوان سے ایک دعائیہ نشست کا انعقاد ہوا،دس طلبہ کے سروں پر دستار باندھی گئی،ان تمام حفاظ کی مدرسے کی جانب سے بہترین پوشاک،شاندار بیگ اور دیگر قیمتی اشیاء سے عزت افزائی کی گئی،اجلاس میں مہمانِ خصوصی کے طور پر دارالعلوم دیوبند کے نائب مہتمم و استاذ حدیث اور ہردالعزیز شخصیت حضرت مولانا و مفتی راشد صاحب اعظمی،دلِ دردمند رکھنے والے جمعیہ علماءِ ہند کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی،جمعیة علماء صوبہ بہار کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا ناظم صاحب قاسمی پٹنہ،جمعیة علماء صوبہ بہار کے صدر محترم،محبوب ملت حضرت مفتی جاوید اقبال صاحب قاسمی، جامعہ حسینیہ مدنی نگر کشن گنج کے بانی و مہتمم حضرت مولانا غیاث الدین صاحب قاسمی،حضرت مولانا زاہر حسین صاحب التاباڑی،حضرت مولانا خالد انور صاحب گیاوی،حضرت قاضی ارشد  صاحب انجمن اسلامیہ کشن گنج اور دیگر قدآور ہستیوں کی تشریف آوری ہوئی، یہ ان حضرات کی عظیم قربانیاں ہیں کہ ملت کی خاطر مختصر وقت کے لئے ہی سہی سفر کی صعوبتوں کو جھیلنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں،حضرت مفتی راشد صاحب کی نرالی شخصیت کے کیا کہنے،آپ مغرب کے کافی بعد پہونچے اور پھر چند منٹ میں ہنستوں کو رلاکر اور روتوں کو ہنساکر رخصت ہوگئے،بزمِ کائنات کی رخشندگی ایسے ہی مردِ قلندر کی تنویرِ حیات سے مستعار ہے۔ ع۔۔ خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

جامعہ جعفریہ مدنی نگر کی عالیشان مسجد


    محبوب ملت حضرت مفتی جاوید اقبال صاحب قاسمی نے اپنے خطاب میں ادارے کے مہتمم حضرت مولانا خالد انور صاحب کے اس حسنِ اقدام کو کافی سراہا اور اس اجلاس کو قابل ِ تقلید قرار دیا،دیگر اکابرین نے بھی جم کر آپ کی تعریف کی اور روایتی جلسوں کی پرزور مذمت کی۔
    جیسا کہ میں نے کہا کہ اجلاس کا وقت مغرب تا عشاء متعین ہوتا ہے اور جب نظامت کی باگ حضرت مفتی مناظر صاحب جیسے متیقظ، چوبند اور بیدار مغز نقیب کے ہاتھوں میں ہو تو پھر وقت اپنی معینہ حد سے کیونکر پیش قدم ہوسکتا ہے؟سو آپ نے اس خوبی اور خوش اسلوبی کے ساتھ نظامت کے فرائض انجام دئے کہ متعینہ وقت کے اندر اندر ہی سارے کام نمٹ گئے،اور ساڑھے 9 بجے شب حضرت مولانا غیاث الدین صاحب کی دعا پر جلسے کا اختتام ہوگیا۔
    دعا ہے کہ اللہ پاک اس اجلاس کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور اس کا فیض پورے علاقے میں پھیلائے،تاکہ اس کی بدولت روایتی جلسوں کا خمار لوگوں کے دماغ سے کسی حد تک کافور ہوسکے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top
%d bloggers like this: