عجم کا حسنِ طبیعت ، عرب کا سوزِ دروں

(آہ! بڑے قاری صاحب رحمہ اللہ)

از قلم :- رضوان نسیم غفرلہ

________________

حکایت از قدِ آں یار دل نواز کنیم
بایں فسانہ مگر عمرِ خود دراز کنیم

ڈابھیل کا جامعہ اسلامیہ مجھے عزیز ھے ،یقینا ان عزیزوں دوستوں بزرگوں کو بھی ہوگا جن کو اس نے اپنے فیضِ تربیت سے ، علم و عمل سے ، اخلاص و افتخار سے ، رہنے سہنے سے ،اور دوسروں کو رکھنے اور سنوارنے کا حوصلہ دیا ، انسانی زندگی جن اقدار و روایات سے برگ و بار اور نشو و نمو لاتی ھے ان سے آشنا کیا!

ڈابھیل مجھے اس لئے بھی پسند ھے کہ میں اس کا خوشہ چیں ہوں! یہ بھی وہ ادارۂ علم و اخلاص ھے جس کی خدمات سو سال سے زائد پر محیط ھے! صرف صوبۂ گجرات کے شہر و دیہات نہیں بلکہ ھندوستان کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے لاکھوں گاؤں کھیڑوں قصبوں شہروں سے لے کر جزیرۂ نمائے افریقہ کے دور افتادہ دیہات تک اور ملاوی ممباسا کینیا کے مہذّب اور نیم مہذب شہروں اور قصباتوں سے لیکر خاص نافِ تمدن و مرکزِ تہذیب لندن پیرس امریکہ اور کناڈا کے سبزہ زاروں تک اس نے علم کی پیاس بجھائی ھے ! تعلیم و تبلیغ اور رشد و ھدایات کا فریضہ انجام دیا ھے جامعہ کے فارغین اور دوست احباب کچھ اگلوں اور پچھلوں کے تذکرے اور عزم و حوصلے کی داستان سنتے ھیں تو دل باغ باغ اور آنکھیں پرنم ہو جاتی ھیں مجھے یقینِ کامل ھے کہ یہ سب فیض و اثر اس کے بانیوں کے اخلاص و عمل کا مظہر ھے! اور جامعہ کے قرنِ اول میں آئے ہوئے اس قافلۂ حق پرست اور آسمانِ علم کے نیّرِ تاباں بزرگان محترم کا ھے جن کے سرِ لشکر امام العصر علامہ انور شاہ کاشمیری رحمہ اللہ تعالی تھے! خدا کا فضل دیکھئے کہ اس سندِ متصل سے لاکھوں مسندین ِ علم و فن ھیں جو آج بھی نورِ نبوّت کا جھومر ماتھوں پہ سجائے اور مشعلِ علم ہاتھوں میں تھامے ایک جہان کو فیضانِ نبوت سے سرشار کر رہے ھیں! خدا سب کو زندہ و تابندہ رکھے ،

جہاں جائیں وہاں تیرا فسانہ چھیڑ دیتے ھیں
کوئی محفل ہو تیرا رنگِ محفل یاد آتا ھے

_____________

جامعہ کے اسی قلبی تعلق کی وجہ سے وہاں کی چھوٹی بڑی ہر خبر پر نظر رہتی ھے کوئی اچھا کام ہوتا ھے تو دل بلیوں اچھلتا ھے اور غم کی خبر آتی ھے تو دل بیٹھ جاتا ھے ،گذشتہ بڑے اساتذہ کے چہرے یاد آتے ھیں تو دل سے ایصال ثواب نکلتا ھے اور بہ قیدِ حیات بزرگان و اساتذہ کیلئے صحت و عافیت اور تندرستی و توانائی کی پر کیف گذارشیں نکلتی ھیں! ادھر چند روز پہلے ایسی ھی غم و اندوہ کی خبر آئی کہ جامعہ کے قدیم اور بزرگ استاذ الاساتذہ شیخ القراء والتجوید حضرت مولانا قاری احمد اللہ صاحب قاسمی ( نور اللہ مرقدہ) اللہ کو پیارے ہو گئے ، انا للہ وانا الیہ راجعون ،چند لمحوں میں یہ خبر چہار دانگِ عالم میں پھیل گئی ،اور متعلیقینِ جامعہ اور فیض یافتگانِ مرحوم کے اظہارِ افسوس اور تعزیتی مکتوب گردش کرنے لگے ، یقینا لوگوں کیلئے وہ "صدر القراء” اور استاذ الاساتذہ ہونگے مگر ہمارے لئے تو وہ "بڑے قاری صاحب” تھے ، مجھے یقین ھے کہ مرصّع و مہذّب القاب و آداب میں بہ خدا وہ انسیت و اپنائیت نہیں ھے جو اس پیار بھرے عرفِ عام کے لقب میں ھے ، ہم نے تو کبھی اس عرفِ عام کے سوا مرحوم کو پکارا اور سنا ، کیونکہ جامعہ کے تمام چھوٹے سے بڑے طلباء ان کو اسی خاص نام سے جانتے اور پہچانتے تھے!!

"غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوں کے مرنے کی ؟ "

____________

دوہزار آٹھ یا نو کے اواخر میں ایشیا کے نامور ادیب و قلم کار دارالعلوم دیوبند کے استاذِ ادب مولانا نور عالم خلیل الامینی رحمہ اللہ ہفتہ عشرہ کیلئے جامعہ آۓ تھے ،بڑے قاری صاحب کی ان سے خوب محفل جمتی تھی ، یہ دونوں بزرگ ایک دوسرے سے خوب باتیں کیا کرتے تھے! مولانا نور عالم صاحب بہت صاف شفاف اور دُھلی دُھلائی زبان بولنے کے عادی تھے! ان کی گفتگو کا آغاز ہلکے پُھلکے جملوں سے ہوتا ،بات جب شباب پر آتی تو مولانا مرحوم جذبات کی رو میں بہتے چلے جاتے اور پھر ان کے جوہر کھُلتے تھے! نت نئی تعبیریں ، بر محل استعارے ،چٹاخے دار الفاظ ،اور پر لطف تنقیدیں غرض عربی اور فارسی کے اشعار سے لیکر اردو زبان میں میر ،غالب،جوش جگر ،مومن شیفتہ ،سب کو سنا ڈالتے تھے ،یہ نجی محفلیں اتنی پر مغز ہوا کرتی تھیں کہ کاش اسکو ریکارڈ کر لیا جاتا ، مگر افسوس ہمارے دور میں ان سب آلاتِ خانہ خراب پر سخت ترین پابندی تھی ، قصہ کوتاہ کہ ایک روز بڑے قاری صاحب نے قبل از وقت اجازت چاہی اور رخصت ہو گئے! ان کو رخصت کرنے کے بعد مولانا اپنے خاص لب و لہجہ میں گویا ہوئے! کہنے لگے ” یہ جو شخص ابھی آپ کے سامنے سے گیا ھے جانتے ہو یہ کون ھے ؟؟ یہ فنا فی القرآن ھے ،، فنا فی افصح الکتب ھے اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ اس شخص کو کیا خطاب دینا چاہئے تو میں اقبال کے الفاظ مستعار لونگا اور کہونگا:

” عجم کا حسنِ طبیعت ، عرب کا سوزِ دروں "

دیکھ رہے ہو مولوی صاحب!!! قرآن مجید افصح الکتب ھے اس کے الفاظ و معانی کے ساتھ اس کے لب و لہجہ پر گرفت بہت ضروری ھے! یہ وہ شخص ھے جس نے جس نے عرب کے سوزِ دروں یعنی حسنِ صوت کو سنبھالا دیا ہوا ھے ، اس کے زیر و بم اور رخت و نم کو سہارا دیا ہوا ہوا ھے! واہ واہ سبحان اللہ!!! اور اس کے حسنِ طبیعت کا کیا پوچھنا ؟؟؟ یہ چوڑی چکلی پیشانی ، اور گنجان ڈاڑھی یہ اونچا لامبا قد اور تاج کے مانند کلف شدہ ٹوپی!! لگتا ھے کوئی شاہ زادہ یا وزیر زادہ ھے!! خدا کی قدرت اور عجوبہ روزگار دیکھئے بھاگل پور بہار کے ایک دیہات سے اسکا خمیر تیار ہوا اور لندن افریقہ تک کے لڑکوں نے اس سے فیض پایا "

( مولانا مرحوم کے الفاظ کم و بیش یہی تھے)
دل میں سما گئی ھے قیامت کی شوخیاں
دو چار دن رہا تھا کسی کی نگاہ میں

بڑے قاری صاحب واقعی پچھلے بزرگوں کی یادگارتھے ،جب سے ان کی وفات حسرت آیات کی خبر سنی ھے آنکھوں میں گذشتہ پانچ سالا منظر گھوم رہے ھیں ،کبھی ہم نے اپنی مختصر زندگی میں ایسا عاشق قرآن نہیں دیکھا ، چل رہے ھیں تو قرآن سن رہے ھیں ، ٹھہرے ہیں تو سماعت جاری ھے ، بیٹھے ھیں تو سماعت فر‫ما رہے ھیں ،،، غرض یہ قرآنِ پاک ہی کی برکت تھی قاری صاحب قوی قلب و جگر کے ساتھ نہایت مضبوط اعصاب کے مالک تھے ،تا وفات خدا کی شان انہیں کوئی لاغری اور کمزوری ایسی نہیں آئی کہ وہ دوسروں کے محتاج ہوں ، ورنہ لوگ سالوں سال بستر میں ایڑیاں رگڑ کر مرتے ھیں

ہمارے دور میں ایک دفعہ مطبخ کے فوقانی حصہ میں شہد کی مکھیوں نے اپنا مسکن بنا لیا تھا ، دوپہر کی سخت گرمی کا زمانہ تھا ، بڑے قاری صاحب کسی سفر سے واپس آ رہے تھے ، ادھر مطبخ کے پاس سے گذر ہوا اور چار و ناچار مکھیوں کے جھنڈ نے حملہ کر دیا ، وہ منظر آج بھی یاد ھے اس وقت قاری صاحب مرحوم و مغفور کی زبان سے سوائے ذکر جہری کے اور کچھ نہ نکلا ،، بس اللہ اللہ کی صدائے باز گشت آتی تھی ، یہ ایسا موقع ہوتا ھے کہ لوگ حواس باختہ ہو جاتے ھیں مگر خدا رحم فرمائے بڑے قاری صاحب بڑے صابر رہے اور مضبوط قوٰی اور قوی قلب و جگر کا ثبوت فراہم کیا ،، وہ اپنی صحت کا بھی خوب خیال رکھتے تھے ، کوئی موسم ہو سردی ہو یا گرمی بارش ہو یا پتجھڑ انکی صبح کی سیر کبھی فراموش نہیں ہوتی تھی ، صبح صادق یا کاذب کے وقت وہ اپنا عصا ہاتھ میں لیتے اور چار پانچ کلو میٹر کی تفریح کر کے واپس آتے

راقم الحروف کو بڑے قاری صاحب سے باقاعدہ شرفِ تلمذ حاصل نہیں ہوا اور نہ ان کی نجی مجلسوں میں بیٹھنے کا اتفاق ہوا ، در حقیقت یہ ھے کہ اس بے جا جسارت کی کبھی ہمت ہی نہیں ہوئی

کس منھ سے اپنے آپ کو کہتا ھے عشق باز
اے روسیاہ! تجھ سے تو یہ بھی نہ ہو سکا

وجہ اس کی خاص یہ تھی بڑے قاری صاحب کا رعب و داب طلباء و اساتذہ پر اتنا زیادہ تھا کہ مت پوچھئے!! ہمارے ساتھیوں میں جو طلباء تخصص کرتے تھے ان کی پتلی حالت دیکھ کر ہمارے جوش واپس اپنی جگہ سکون سے بیٹھ جاتے!! ہاں مگر بعد کو جب "النادی ” یا "شعبۂ تقریر” کے دعوت نامے یا اعلانات و اشتہارات کے ذریعہ ان کے سامنے حاضری ہوتی تو ان کے فیض پانے کا شرف حاصل ہوتا ، وہ دعوت نامے یا اشتہار کے مضمون کو بہت غور سے پڑھتے تھے ،جہاں کہیں املاء یا تعبیر کی خطا ہوتی اس پر گرفت فرماتے اور ٹوکتے تھے!! اور کہتے ” مولوی صاحب یوں لکھ لیتے تو اچھا ہوتا!!

زبان و ادب کے حوالے سے بڑے قاری صاحب کا ذوق نہایت اعلی تھا ، عربی اور اردو ادب پر انکی گرفت بہت مضبوط تھی ، وہ بے انتہا خوبصورت نستعلیق لکھتے تھے ، انکی تحریر بڑی دلکش اور آبدار ہوتی تھی ، ان سب سے بڑھ کر انکے حسنِ طبیعت کا عکاس انکے خوبصورت اور دیدہ زیب دستخط تھے ، جو انکے جمالِ ظاہر و باطن کا آئینہ دار ہوتے تھے ، سلیقہ اور قرینہ ،رکھ رکھاؤ اور اور نشست و برخاست میں بڑے قاری صاحب دورِ مغلیہ کے شاہزادوں اور امیرزادوں سے بالاتر تھے ، انکے لباس اور وضع داری میں کبھی کسی نے ذرہ برابر اونچ نیچ نہیں دیکھی ، انکا دربار تو انکی درسگاہ تھی ہی البتہ کبھی پروگراموں میں انکو زینتِ اسٹیج دیکھتے تو محسوس ہوتا کوئی خوبصورت مجسمہ نصب ھے!! عموما لوگ پہلو بدلتے ھیں ، انگڑائیاں لیتے ھیں ،باتیں کرتے ھیں مگر خدا بخشے کبھی بڑے قاری صاحب آدابِ مجلس کی خلاف ورزی نہ کرتے!! "لجنتہ القراء” کے جلسوں میں حضرت ایک خاص نشست پر براجمان ہوتے ،انکی آنکھیں بند اور سر بلکل جامد و ساکت ، پڑھنے والے کے جنبشِ لب اور ایک ایک حرکت پر ” دل کی نگاہ” رکھتے اور کانوں کے پردے سے اس کے تلفظ اور صوتیات کے زیر و بم کو پرکھتے ،، انکی طویل ترین قرآنی محفلیں شاہد ھیں کہ بڑے قاری صاحب واقعی "فنا فی العلم التجوید "تھے

جامعہ ڈابھیل کے دورۂ حدیث کے سال میں فارغ ہونے والے طلباء کیلئے پارۂ عم تجوید و قرأت کی رعایت کے ساتھ سنانا ضروری ہوتا ھے ، تخصص فی التجوید کے باقاعدہ طلباء اس امر سے مستثنی رہتے ھیں ،علاوہ اس کے تمام شریکِ دورۂ حدیث پورے سال پارۂ عم لیکر طوافِ جامعہ کرتے ھیں! یہ بڑا صبر آزما اور جگر گردے کا عمل ہوتا ھے ، اسلئے کہ متعلقہ قاری صاحبان کے بعد اخیر سال میں بڑے حضرت کے دربارِ دُربار میں حاضری ہوتی تھی اور وہ "کیف مااتفق” کہیں سے بھی زبانی پڑھوا لیا کرتے تھے ،ان کی ظاہری وجاہت اور باطنی رعب و دبدبہ کی وجہ سے اکثر و بیشتر طلباء جو ہر سال تراویح میں سالوں سے قرآن سنانے کے باوجود بھول جایا کرتے تھے! یہ بڑا امتحان ہوتا تھا ، اور اس مرحلے سے ہر جامعہ کا فارغ گذرا ہوگا ، بہر حال ہم بھی اس امتحان سے گذرے ھیں ، اخیر سال میں اچانک بعد نماز عصر ہماری طلبی ہو گئی ، جامعہ کی قدیم مسجد کے صحنِ مسقوف میں مسند لگی تھی ، دس بارہ طلباء کے ساتھ ہم بھی حاضرِ خدمت ہو گئے ، پہلے تین چار طلباء کو تو واپس کر دیا ، پھر ہماری باری آئی تو دیکھ کر مسکرا دئے ” کہنے لگے سورۂ انشقاق سناؤ! ہم نے تعوذ و تسمیہ کے بعد سورہ مبارکہ شروع کی انہوں نے تقریبا آدھا صفحہ سنا ، اور پھر کہیں اور سے پڑھوایا دو چار آیات سنی اور کہا جاؤ ،،، ہم بھی چلے آئے رات تک اسی شش و پنچ میں ڈرے رہے مگر بعد نمازِ عشاء متعلقین سے یہ مسرور کن خبر آئی کہ حضرت نے ہمیں امتحان میں پاس کر دیا ھے!! اللہ تعالی کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے اور جنت میں اعلے مقام نصیب فرمائے ، آج یقینا بڑے قاری صاحب نہیں ھے ، مگر انکے ہزاروں لاکھوں طلباء اور شاگردین ھیں جو دنیا جہان میں اہنے لہو سے اس "فنِ شریف” کو زندہ و تابندہ رکھ رہے ھیں! وہ غریب الدیار اور مفلوک الحال طلباء جو اجنبی اور غیر مانوس علاقوں کے ہوتے تھے ، مگر دو تین سال کے عرصہ میں بڑے قاری صاحب کے صحبتِ فیض و اثر سے کندن بن جاتے تھے ، قاری صاحب ہمیشہ قرآن کے پرچم کو بلند و بالا رکھتے تھے ، انکی تقریروں کا لب لباب صرف قرآن کی دعوت کے ارد گرد گھومتا تھا ،

ترکِ جان و ترکِ مال و ترکِ سر
در طریقِ عشق اول منزل است

بڑے قاری صاحب کی رحلت سے جامعہ برادری غم میں مبتلاء ھیں انکے پچھلے 48 سالوں کے لاکھوں شاگرد اور متعلقینِ فن غم کی کیفیت سے دوچار ھے نم آنکھوں اور نڈھال قدموں سے اس پاکباز عاشق قرآن کو لحد میں اتارا ھے ، اللہ تعالی غریقِ رحمت فرمائے اور تمام متعلقین اور اہل و عیال خصوصا جملہ اہلِ خانہ اور صاحبزادگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے ،آمین

ما قصۂ سکندر و دارا نہ خواندہ ایم
از ما بجز حکایتِ مہر و وفا مپرس

اللہم اغفرہ وارحمہ واسکنہ فی الاعلی

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top
%d bloggers like this: