خواتین اسلام کی دینی جد وجہد ناقابل فراموش: امینی قاسمی

معہد عائشہ الصدیقہ رحمانی نگر خاتوپور میں خواتین کے سالانہ اجلاس سے علماءودانشوران کا روحانی خطاب

بیگوسرائے:__________
دین اسلام ،دین رحمت ہے ، اسلام کی دعوت وتبلیغ اور اس کی اشاعت میں خواتین اسلام کی دینی جد وجہد کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ،نئی نسل کو یہ بتایا جانا ضروری ہے کہ دین اسلام کے فروغ میں جہاں مرد صحابہ ؓنے غیر معمولی قربانیاں پیش کی ہیں وہیں خاتون صحابیہ ؓ کی قربانیاں بھی ناقابل فراموش ہیں۔ان خیالات کا اظہار آج یہاں لڑکیوں کا مشہور مدرسہ معہد عائشہ الصدیقہ رحمانی نگر خاتوپور بیگوسرائے میں ” بزم عائشہ “کے تحت سالانہ اختتامی اجلاس میں مفتی عین ا لحق امینی قاسمی نے اپنے خطاب میں کیا۔اجلاس کا باضابطہ آغاز سعدیہ ممتاز دربھنگہ کی تلاوت آیات سے ہوا ،نعت پاک نور عین فاطمہ نے پیش کی ،اس موقع پر معہد کی پانچ طالبات نے قرآن کریم کا آخر سبق پڑھ کر اپنا قرآن مکمل کیا۔ قرآن پاک مکمل کرنے والی بچیوں میں عائشہ پروین سمستی پور ،فاطمہ ضیا سہرسہ،رقیہ پروین دربھنگہ،تحسین پروین بیگوسرائے اور سعدیہ ممتاز دربھنگہ کے اسماءقابل ذکرہیں معہد عائشہ کی طرف سے حسب روایت تمام زیر تعلیم ضرورت مند بچیوں میں جہاں ایک ایک سیٹ کپڑا تقسیم کیا گیا وہیں قرآن پاک اور جانماز وغیرہ کے ذریعے درجہ سوم مومنہ کورس مکمل کرنے والی پانچ طالبات کو بھی خصوصی انعام سے نوازا گیا۔
   اس روحانی اجلاس میں سرپرستوں سے اپنے خطاب میں ایڈووکیٹ الحاج اعجاز احمد صاحب بھاگل پوری نے کہا کہ موجودہ وقت میں بچیوں کی دینی تربیت وقت کا تقاضاہے، ایسے ماحول میں معہد عائشہ کی محنت ،قابل تعریف ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ گھر کے ماحول کودیندارانہ اور پاکیزہ بنانا عورتوں کی ذمہ داری ہے ،اِن بچیوں کے ذریعے امید ہے صرف گھر نہیں پورے خاندان اور معاشرے کودینداربنانے میں مدد ملے گی۔انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ اس وقت خواتین پر بڑی ذمہ داریاں آئی ہوئی ہیں ،احساس ذمہ داری سے ہی ملک وملت کی خدمت کا ذہن بنے گا ،یہاں سے جانے والی بچیاں مولانا محمد ولی رحمانی ؒ کی طرف سے ” حوصلہ اور جرئت “سے زندگی جینے کا پیغام ساتھ لے کر جائیں۔واضح رہے کہ معہد عائشہ خاتوپوربیگوسرائے گزشتہ سترہ برسوں سے سہ سالہ مومنہ کورس کی مدد سے ملت اسلامیہ کی چھوٹی چھوٹی بچیوں کو دینی و عصری تعلیم وتربیت کر گھر خاندان کو دین داری کا احساس پیدا کرنے کی خاموش محنت کی جارہی ہے ،یہاں صرف سات آٹھ برس کی چھوٹی بچیوں کا تین سال کے لئے داخلہ ہوتا ہے ،جس میں کلاس فورتھ تک عصریات اور عربی اول تک دینیات کی مضبوط تعلیم دی جاتی ہے۔ہر سال یہاں سے بچیاں بڑی تعداد میں اپنی تعلیم مکمل کر دیگر بڑے دینی اداروں میں یا اسکول کے کلاس ففتھ میں داخل ہوکر اعلی تعلیم کے لئے راہ یاب ہوتی ہیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top
%d bloggers like this: