آپسی تکرار اور ہنگامہ آرائی کے بیچ پارلیمانی کاروائی ملتوی

آپسی تکرار اور ہنگامہ آرائی کے بیچ پارلیمانی کاروائی ملتوی

پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس: پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے میں مسلسل تیسرے دن بھی ہنگامہ آرائی جاری رہی۔ جہاں اپوزیشن پارٹیاں اڈانی معاملے میں جے پی سی کے مطالبے پر اٹل ہیں۔ وہیں حکمراں جماعت  راہل گاندھی کے اس بیان پر معافی مانگنے کے مطالبے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے کہ انہوں نے مائیک بند کر دیا تھا۔

حکومت اور اپوزیشن کے ہنگامے کے پیش نظر لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں کی کارروائی کل تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل پیر اور منگل کو بھی ایوان کی کارروائی نہیں چل سکی تھی۔

بتاتے چلیں کہ کانگریس سمیت۱۶ حزب مخالف جماعتوں کے رہنماؤں نے بدھ (15 مارچ) کو اڈانی گروپ سے متعلق ایک معاملے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کو میمورنڈم دینے کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس سے مارچ نکالا تھا جس پولیس نے روک دیا۔ پولیس نے وجے چوک کے قریب رکاوٹیں کھڑی کر دی تھیں۔

ترنمول کانگریس نے حزب مخالف جماعتوں کے مارچ میں حصہ نہیں لیا۔ گھریلو کھانا پکانے کی گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں میں اضافہ پر ٹی ایم سی کے اراکین پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں مہاتما گاندھی کے مجسمے کے سامنے ہی احتجاج کیا۔

راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ ہم اڈانی گروپ گھوٹالہ معاملے میں میمورنڈم پیش کرنے کے لئے ای ڈی ڈائریکٹر سے ملنے جارہے تھے، لیکن حکومت نے ہمیں روک دیا اور وجے چوک تک جانے نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ای ڈی کے سامنے اس معاملے پر تفصیلی موقف پیش کرنا چاہتی ہے ۔  کانگریس سمیت کئی اپوزیشن جماعتوں نے اڈانی گروپ کے خلاف تین صفحات پر مشتمل میمورنڈم تیار کیا ہے جس میں شیل کمپنیوں سمیت کئی الزامات لگائے گئے ہیں۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top
%d bloggers like this: