مٹنے سے پہلے مٹنے کی تیاری کیجیے!

مفتی ناصر الدین مظاہری

________________

اللہ تعالی نے آپ کو اچھا جسم دیا ہے، اچھا وقت دیا ہے، قوت دی ہے، طاقت سےنوازاہے، فرصت اور موقع بخشا یے،دولت اور ثروت سے آپ کومالامال کررکھاہے تو ان بخششوں، رحمتوں اور اس کے فضل و کرم کو غنیمت جانئے، اپنے دائیں، بائیں، آگے پیچھے نظر دوڑائیے کتنی بڑی دنیا معذور ہے، کتنے لوگ مجبور ہیں، لاکھوں تو پائی پائی کے محتاج اور کروڑوں ایک ایک لقمہ کے مشتاق ہیں، صبح سے شام تک کتنے ہاتھ آپ کے آگے دراز ہوتے ہیں اور کتنی صدائیں آپ کی سماعتوں سے ٹکراتی ہیں، ہر ہاتھ اور ہرصدا پر اللہ وحدہ لاشریک لہ کا شکر ادا کیجیے کہ اس نے آپ کو دینے والا بنایا ہے، بہت سے لوگ آپ سے آس لگائے بیٹھے ہیں، بہت سی زبانیں آپ کے لئے دعائیں کررہی ہیں بہت سی پیشانیاں آپ کے لیے سجدہ میں مصروف التجا ہیں، سوچیں یہ ہاتھ بدل بھی سکتا ہے، یہ پیشانی بدل بھی سکتی ہے، یہ منظر تبدیل بھی ہوسکتا ہے، شیشہ وہی رہتا ہے تصویر بدل جاتی ہے، انسان وہی رہتا ہے تقدیر بدل جاتی ہے، کاروبار وہی رہتا ہے تدبیر بدل جاتی ہے، ہائے نواز دیوبندی آپ نے کیا بات کہی ہے؛

ستم گر وقت کا تیور بدل جائے تو کیا ہوگا
میرا سر اور تیرا پتھر بدل جائے تو کیا ہوگا
امیروں کچھ نہ دو، طعنے تو نہ دو ان فقیروں کو
ذرا سوچو اگر منظر بدل جائے تو کیا ہوگا

جی ہاں یہ تو دنیا ہے، یہاں موسم بدلتا ہے، حالات بدلتے ہیں، تغیرات اور تبدیلیاں اس کا مقدر ہیں، جہاں خشکی ہے وہاں تری دیکھی گئی جہاں تری ہے وہاں خشکی کا نظارہ ہے، الٹنا پلٹنا ہی اس دنیا کی قسمت ہے، کل تک جو خادم تھا آج وہ مخدوم ہے، کل جو شاگرد تھا آج وہ استاذ ہے، کل جو بچہ تھا آج اس کی گود میں بچہ ہے، کل جو بڈھا تھا آج وہ قبر میں ہے، کل تک جن کے آگے پیچھے دائیں بائیں بلکہ اوپر نیچے حشم وخدم تھے آج ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے، جبابرہ،فراعنہ،اکاسرہ، عمالقہ یہ سب آج کہاں ہیں؟ کہیں بھی نہیں، سب مٹ گئے، اپنے گھمنڈ کے پہاڑوں میں دب گئے، نفس پرستیوں نے نام ونشان مٹا دئے، محل اور محلات ہنوز باقی ہیں تاکہ دنیا تماشا دیکھے، عبرت حاصل کرے، سبق لے اور اپنے من کی دنیا کو اجلا اور شفاف بنانے کے جتن کرے۔ روم کا صہیب، فارس کا سلمان، حبشہ کا بلال، فرخ نوشیروان یہ سب کیوں زندہ ہیں؟ اللہ سے تعلق اور راہ حق پر چلنے کی وجہ سے۔ آج بلال کے مالک کو کوئی نہیں جانتا، صہیب کے آقا کا پتہ بھی نہیں، سلمان فارسی پر ظلم کرنے والے مٹ گئے کیوں ؟ کیونکہ اللہ تعالی کو ظالم نہیں مظلوم پسند ہے، متکبر نہیں متواضع پسند ہے، بدنام نہیں نیک نام ونیک فرجام پسند ہے۔

اپنی دنیا کو سنوارئے دین کی روشنی میں، اپنے فکر کو سلجھائیے قرآن کی روشنی میں، اپنی حیات مستعار کے بال و پر اور اپنے باغ زندگی کے برگ و ثمر میں خلوص کی شیرینی پیدا کیجیے، عمل صالح کی چاشنی داخل کیجیے اور دیکھئے دنیا کل بھی آپ کی تھی دنیا کل بھی آپ کی ہوگی۔ وانتم الاعلون ان کنتم مؤمنین۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top
%d bloggers like this: