شبِ برأت اور راہِ عمل

از: محمد زاہد ناصری القاسمی

مدرسہ صفۃ الصحابہ حیدرآباد

_____________

  شعبان المعظم کی پندرہویں رات شبِ براءت کہلاتی ہے، عوامی زبان میں اسے بعض علاقوں میں "جگنے کی رات” اور بعض علاقوں میں "شُب رات” کہا جاتا ہے، ضعیف سند کے ساتھ ہی سہی، مگر مختلف احادیثِ مبارکہ میں اس کے فضائل بیان ہوئے ہیں اور تقریباً تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام (خواہ  سب یا بعض) نے مجموعی طور پر اس رات کی فضیلت کو تسلیم کیا ہے، اس رات میں روز مرّہ کی مقررہ عبادتوں کے علاوہ دوسری عبادتیں مستحب ہیں؛ اس لیے ہمیں اس رات کو اپنے لیے نعمت اور غنیمت سمجھتے ہوئے اللہ کی عبادتوں میں حتیٰ المقدور مصروف رہنا چاہیے۔
       سنت نبوی کے مطابق فرائض کے علاوہ دوسری نمازوں کے لیے افضل جگہ گھر ہے؛ لہذا سبھی مرد وخواتین اپنے اپنے گھروں میں ہی طبعی نشاط کے بقدر مختلف نمازوں (صلوۃ التسبیح، صلوۃالتوبہ، صلوۃ الحاجت، قضائے عمری اور تہجد وغیرہ)، نیز تلاوتِ قرآن، اذکار وتسبیحات، صلاۃ وسلام (درود شریف) اور دعاؤں کا خصوصی اہتمام کریں؛ لیکن مرد حضرات فرض نمازیں مسجدوں میں ہی ادا کریں خاص طور پر عشا اور فجر کی نماز جماعت کے ساتھ ضرور پڑھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام ماہ و سال کے لیے عمومی طور پر ان دونوں کی خاص فضیلت بیان فرمائی ہے؛ چنانچہ حضرت عبد الرحمن بن ابی عمرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ مغرب کی نماز کے بعد (عشا سے کافی پہلے) مسجد میں تشریف لے آئے اور (نماز کے انتظار میں) تنہا بیٹھ گئے، (یہ دیکھ کر) میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا، تو انھوں نے فرمایا کہ بیٹے ! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا یہ فرمان سنا ہے :
   ” مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ، فَكَأَنَّمَا قَامَ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَمَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فِي جَمَاعَةٍ، فَكَأَنَّمَا صَلَّى اللَّيْلَ كُلَّهُ ".
   (صحیح مسلم، حدیث نمبر : 556)
   "جس نے عشا کی نماز جماعت سے پڑھی، اس نے گویا آدھی رات قیام کیا، یعنی مختلف عبادتیں کیں، اور جس نے فجر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کی، اس نے گویا پوری رات نمازیں پڑھیں”۔
       اس رات کے سلسلے میں ہم مسلمانوں کے درمیان بہت ہی زیادہ بے اعتدالیاں پائی جاتی ہیں، بعض لوگ شبِ براءت میں محض شب بیداری، یعنی جاگنے کو کافی سمجھتے ہیں، جبکہ بعض پوری رات عبادت کو لازم اور ضروری سمجھتے ہیں، بعض احباب عبادت کرتے کرتے نیند کی آغوش میں چلے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے فجر کی نماز بھی قضا ہوجاتی ہے، جبکہ بعض فجر کی نماز کے بعد ہی سوجاتے ہیں اور ظہر تک سوتے ہی رہتے ہیں، نہ تو انھیں اشراق کا شوق ہوتا ہے اور نہ ہی چاشت کی چاہت؛ حالاں کہ ان دونوں نمازوں کے فضائل بھی احادیث مبارکہ سے ثابت ہیں، ذیل میں ان دونوں نمازوں سے متعلق ایک ایک حدیث شریف ملاحظہ کیجیے !
       اشراق کی نماز کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص فجر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھے اور پھر اپنی جگہ بیٹھا رہے؛ یہاں تک کہ اشراق کا وقت ہو جائے اور پھر اٹھ کر دو رکعات اشراق کی نماز پڑھ لے تو اس کو ایک حج اور ایک عمرہ کا پورا پورا ثواب ملتا ہے۔” (ترمذی، حدیث نمبر : 586) اسی طرح چاشت کی نماز کے بارے میں فرمان نبوی ہے کہ ” تم میں سے ہر شخص کے ذمہ روزانہ اس کے جسم کے ہر ہر جوڑ کے شکرانے میں ایک صدقہ ہے، ہر بار سبحان اللہ کہنا ایک صدقہ ہے، ہر بار الحمد للہ کہنا ایک صدقہ ہے، ہر بار لا الہ الا اللہ کہنا ایک صدقہ ہے، ہر بار اللہ اکبر کہنا ایک صدقہ ہے، بھلائی کا حکم کرنا ایک صدقہ ہے اور برائی سے روکنا ایک صدقہ ہے اور ہر جوڑ کے شکر کی ادائیگی کے لیے چاشت کے وقت دو رکعت پڑھنا کافی ہو جاتا ہے۔” (صحیح مسلم، حدیث نمبر : 720)
       شب براءت کے سلسلے میں راہِ اعتدال یہ ہے کہ اگر لازم اور ضروری سمجھے بغیر بشاشت قلبی کے ساتھ پوری رات اس طور پر عبادت کریں کہ فجر کی نماز کو بھی اس کے وقت ہی میں ادا کریں، اسے قضا نہ ہونے دیں تو بہت اچھی بات ہے، ورنہ تو بہتر ہوگا کہ ترتیب کچھ اس طرح بنالی جائے کہ باجماعت مغرب کی نماز ادا کریں، دو رکعت سنتِ مؤکدہ اور دو رکعت نفل نماز پڑھنے کے بعد چھ رکعتیں اوابین بھی پڑھ لیں، پھر اگر مناسب سمجھیں تو عشا سے پہلے ہی رات کے کھانے سے فارغ ہوجائیں، ورنہ عشا تک عبادتوں میں مشغول رہیں اور عشا کی نماز سے پہلے چار رکعت سنت، پھر فرض نماز باجماعت ادا کرنے کے بعد دو رکعت سنتِ مؤکدہ، دو رکعت نفل، تین رکعت واجب الوتر اور پھر دو رکعت نفل پڑھ لیں، اس کے بعد اگر کھانے سے فارغ نہیں ہوئے ہیں تو کھانے سے اور بعدہ چہل قدمی سے فارغ ہو کر سنت کے مطابق سوجائیں، وہ اس طور پر کہ سونے سے پہلے بستر کو جھٹک لیں، اگر وضو نہ ہو تو وضو کرلیں، آیۃُ الکرسی، سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں اور سورہ آل عمران کی آخری دس آیتیں پڑھ لیں، پھر دعا کی طرح دونوں ہاتھ اٹھا کر سورہ اخلاص، سورہ فلق، سورہ ناس اور سورہ فاتحہ پڑھ کر اور دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں پر تُھک تُھکا کر ہاتھوں کو سر سے پاؤں تک پھیر لیں، واضح رہے کہ یہ عمل تین مرتبہ کرنا ہے، اس کے بعد سورۂ کہف کی آخری دو آیتیں اور سونے کی دعا پڑھ کر یہ نیت کرتے ہوئے سو جائیں کہ فجر سے دو گھنٹے پہلے اٹھنا ہے، تو ان شاءاللہ نیت کے مطابق وقت پر آنکھیں کھل جائیں گی، پھر جب سوکر اٹھیں تو دعا پڑھ لیں اور اہلِ خانہ میں سے اب تک جو بیدار نہیں ہوئے ہیں انھیں بھی جگادیں، وضو کرلیں اور وقت کے حساب سے چار، چھ، آٹھ، دس یا بارہ رکعت تہجد کی نماز پڑھ لیں، اس کے بعد خوب رو رو کر اور رونا نہ آئے تو رونے جیسی صورت بنا کر دعائیں مانگیں، یہ بھی ذہن میں رہے کہ پندرہ شعبان کا روزہ بھی مستحب ہے؛ لہذا اگر روزہ رکھنے کا ارادہ ہو تو سحری سے فارغ ہوجائیں، بعدہ فجر تک تلاوتِ قرآن اور تسبیحات وغیرہ میں مشغول رہیں، فجر کا وقت شروع ہونے کے بعد دو رکعت سنتِ مؤکدہ اور دو رکعت فرض نماز جماعت کے ساتھ ادا کرلیں، اس کے بعد اشراق تک عبادتوں میں مصروف رہیں، اشراق کا وقت شروع ہونے کے ساتھ ہی دو دو کرکے چار رکعت اشراق کی نماز پڑھ لیں، اس کے بعد اگر سونا چاہیں تو سو جائیں، پھر نو بجے کے بعد زوال کے وقت سے بیس منٹ پہلے تک دو دو کرکے چار رکعت چاشت کی نماز سے فارغ ہوجائیں۔ امید ہے کہ ان شاءاللہ اس طرح ہم لوگ شب براءت کے انوار وبرکات کے مستحق ہوں گے، ان سے محروم نہیں رہیں گے۔
       دعاء فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہم تمام مسلمانوں کو شب براءت اور دیگر تمام راتوں اور دنوں کو شریعت کے مطابق گزار نے کی توفیق عطا فرمائے، نیز شرف قبولیت سے بھی نوازے، آمین.

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top
%d bloggers like this: