داماد رسول حضرت علی کرم اللہ وجہ

دامادِ رسول حضرت علی کرم اللہ وجہ

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام علی، لقب حیدر، کنیت ابوتراب و ابوالحسن ہے۔ آپ کا شمار ان اصحابِ رسول میں ہوتا ہے: جنہیں ذات رسالت کی طرف سے جنت کی بشارت دی گئ ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد بھائی اور داماد ہیں۔ خلفائے اسلام میں خلیفۂ رابع کے مقام پر فائز ہیں۔ آپ کے والد کا نام ابوطالب ماں کا نام فاطمہ بنت اسد ہے۔آپ کی پیدائش حرم میں ہوئی۔ ہجرت کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے آپ کا نکاح ہوا۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے جب آپ کا نکاح ہوا تو زیادہ کچھ سامان نہیں تھا۔ حضور علیہ السلام نے پوچھا کہ مہر ادا کرنے کے لیے تمہارے پاس کیا ہے؟۔ جواب دیا کہ ایک گھوڑا اور ایک زرہ کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زرہ بیچ دو۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی زرہ حضرت عثمان غنی ؓ کے ہاتھوں چار سو اسی درہم میں بیچ دی اور لاکر خدمت رسالت میں پیش کردیا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح پڑھایا۔  باضابطہ رخصتی چند مہینوں کے بعد ہوئی۔

            حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پرورش و پرداخت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگرانی میں ہوئی تھی۔ اس لیے جب کلمہ شہادت کی تلقین آپ کی کانوں سے ٹکرائی تو متعجب نہیں ہوئے اور ایمان لے آئے۔ تاریخی روایتوں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ بڑوں میں سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق، عورتوں میں حضرت خدیجہ الکبری، بچوں میں حضرت علی اورغلاموں میں حضرت زید بن حارثہ سب سے پہلے ایمان لائے۔ قبول اسلام کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ علیہ السلام کی اکثر مجلسوں میں شریک رہے۔ دین کوبہت قریب سے سمجھا، ہجرت کے وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تدبیری پہلو اختیار کرتے ہوئے اپنے بستر استراحت پر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سونے کا حکم دیا۔ اور آپﷺ اپنے رفیق صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ہجرت کے سفر پرروانہ ہوئے۔

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیشتر غزوات میں شریک رہے۔ غزوہ بدر، خندق، احد، صلح حدیبیہ، فتح خیبروغیرہ میں اپنی شجاعت کی جوہر دکھلائے۔ حجۃ الوداع میں یمن سے آکر شرکت فرمائی۔ حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی خلافت میں ہر ایک کے مشیر خاص رہے۔

حضرت عثمان غنی کی خلافت میں کئی طرح کے فتنے پیدا ہوئے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بچوں کو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حفاظت پر مامور فرمایا۔ مگر افسوس! حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کا حادثہ عظمی پیش آیا۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسند خلافت پر متمکن ہوئے۔ آپ کا دورِ خلافت کشمکش اور خانہ جنگیوں سے بھرا ہوا ہے۔ ہر طرف افراتفری مچی تھی۔ لوگوں کی طرف سے مختلف مطالبات تھے۔ ادھر خارجیوں نے کئی جلیل القدر صحابیوں کے قتل کا منصوبہ بنایا۔ جس میں آپ کا نام بھی شامل تھا۔ ایک دن کوفہ کی جامع مسجد میں دورانِ نماز عبدالرَّحمن بن ملجم نامی خارجی نے کوفہ کی جامع مسجد میں دورانِ نماز حملہ کیا اور آپ دو دنوں کے بعد شہید ہوگئے۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top
%d bloggers like this: