گوتم اڈانی، بی بی سی ڈاکیومنٹری، اور ہنڈن برگ رپورٹ

گوتم اڈانی، بی بی سی ڈاکیومنٹری، اور ہنڈن برگ رپورٹ

گوتم اڈانی دنیا کے امرترین لوگوں میں آج سے ہفتہ بھر قبل شمار کیے جاتے تھے۔ انہیں دنیا کا تیسرا امرین ترین شخص ہونے کا اعجاز حاصل تھا۔ اڈانی کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ  بڑی بڑی کمپنیاں کھولنے اور خریدنے میں بڑی عجلت دکھاتے ہیں۔ اڈانی پاور، اڈانی گیس، اڈانی ولمر، اڈانی انٹرپرائزیزاور اڈانی پورٹس جیسی دسیوں کمپنیوں کے مالک گوتم اڈانی کے شیرز کا ویلیو ہمہ وقت ’’ہائی ‘‘رہتا ہے۔ اسٹاکس کی دنیا میں گوتم اڈانی کی کمپنیوں کے شیرز اکثر اوقات ویلیویشن کو لے کر چرچا میں رہتے ہیں۔ بڑے اور سلجھے ہوئے انویسٹر ان کے شیرز سے دور ہی رہتے  ہیں اور وقفے وقفے سے اپنے شکوک و شبہات کا اظہار بھی کرتے ہیں۔

            ’’بھگوان مہربان تو گدھا پہلوان‘‘  جیسی کہاوت گوتم اڈانی پر فٹ بیٹھتی ہے۔ وہ پہلے دنیا کے سو امیر لوگوں کی فہرست میں شامل ہوئے۔ پھر پچاس ، پھر پچیس ، پھر دس اور پھر تین ۔ اسی دوران خبر آئی کہ ملک کا مشہور ومعروف خبریہ چینل ’’ این ڈی ٹی وی‘‘ میں گوتم اڈانی کی انٹری ہورہی ہے۔ بات آئی اور گئی ۔ اڈانی کا نام جوں ہی چینل سے جڑا ۔ این ڈی ٹی وی کے شیرز نے اچھال مارنا شروع کردیا ۔ بالآخر  آفیشیل اعلان آگیا کہ اب ’’این ڈی ٹی وی ‘‘ اڈانی کی ملکیت میں ہے۔ ہر طرف آوازیں گشت کرنے لگیں۔ ایسا کیسے ہوا۔ کیوں کر ہوا۔ کس طرح ہوا وغیرہ وغیرہ۔ چینل میں کام کررہے ایک اہم رکن ’’روش کمار‘‘ نے استعفیٰ دے دیا اور یکے بعد دیگرے کئی ارکان چینل سے باہر ہوگئے۔پھر ملک کا ایک اور مشہور خبریہ چینل سامنے آتا ہے ’’عدالت‘‘ لگتی ہے۔سامنے گوتم اڈانی بیٹھتے ہیں۔انڈیا ٹی وی کے مشہور اینکر رجت شرما نے سوالات شروع کیے ۔ کئی اہم سوالات جوکہ پوچھے جانے تھے نہیں پوچھا۔ کئی سوالات کو انہوں نے راہل گاندھی کے توسط سے پوچھا تاکہ دوستی برقرار رہے۔ بلفظ دیگر کہا جاسکتا ہے کہ رجت شرما نے ملک میں گوتم اڈانی کی شبیہ درست کرنے کی کوشش کی ۔ اڈانی حکومت کے منظور نظر ہیں ، اس لیے بیشتر اوقات اپوزیشن کے نشانے پر رہتے ہیں ۔ حالانکہ انڈیا ٹی وی کی یہ کوشش رائیگاں ہوتی نظر آرہی ہے۔

            اسی دورانِ ملک میں ایک ڈاکیومنٹری بی بی سی کی طرف سے آتی ہے۔ جس میں ملک کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی سے سوالات کیے جاتے ہیں۔ یہ ڈاکیومنٹری بھارتی مسلمانوں کے لیے کچھ خاص نہیں تھا۔کیونکہ اس میں پیش کی جانے والی تمام چیزیں مسلمانوں کے علم میں پہلے سے تھیں۔ یعنی کہ گجرات فساد کا راست ذمہ دار اس وقت کے گجرات کے وزیر اعلیٰ اور حالیہ وزیر اعظم نریندر مودی کو ٹھہرایا گیا تھا۔ ڈاکیومنٹری کو لے کر حکومتی پیمانے پر بڑا شور سنا گیا۔ اس پر پہرہ لگادیا گیا تاکہ کوئی دیکھ نہ پائے۔ چینلوں میں ڈبیٹس اس نام پر ہوئے کہ یہ ڈاکیومنٹری بھارت کی شبیہ بگاڑنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ اصل مدعا پیچھے رہ گیا۔  اس ڈاکیومنٹری کے پیچھے بی بی سی کا کیا مقصد تھا۔ ہمیں نہیں پتہ۔ لیکن اس میں پیش کردہ تمام چیزیں بھارتی مسلمانوں کو پہلے سے معلوم ہیں۔

             گوتم اڈانی موضوع بحث ہیں لیکن چیزوں کو باریکی سے دیکھیں تو آپ کو سمجھ آئے گا کہ ہر ایک واقعہ کا ایک دوسرے سے مضبوط کنکشن ہے۔ گوتم اڈانی دنیا کا سب سے بڑا ’’ ایف پی او‘‘ لاتے ہیں اور لوگوں سے اندراج کی درخواست کرتے ہیں۔ تبھی ایک خبر ہینڈن برگ نامی ایک فرم کی طرف سے آتی ہے۔ جس میں اڈانی پر کارپوریٹ دنیا کا سب سے بڑا فراڈ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ۔ اس رپورٹ کے آنے سے قبل اڈانی دنیا کے تیسرے امیرترین شخص تھے ۔ لیکن ہینڈن برگ کی رپورٹ نے اڈانی کی سلطنت میں آگ لگادی ۔ ان کے شیرز روزانہ ۱۵ ۔ سے ۲۰ فیصد گررہے ہیں۔ انہیں کڑوروں کا نقصان ہوچکا ہے، خود گوتم اڈانی عرش سے فرش پر آچکے ہیں۔

            ہینڈن برگ نے جو الزامات لگائے ہیں ۔ وہ سچ ہیں یا جھوٹ ۔ اس سے پرے یہ مانا جا سکتا ہے کہ ہینڈن برگ کی رپورٹ پر انویسٹروں کو یقین ہے ورنہ تو کیا وجہ تھی کہ دنیا کا امیرترین شخص ایک فرم کی خبر سے عرش سے فرش پر آجائے۔ آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ ’’ ہینڈن برگ فرم‘‘ کوئی بہت بڑی ایجنسی نہیں ہے۔ چند افراد پر مشتمل ایک گروپ کا نام ہے جس کا کام ’’شارٹ سیلنگ ‘‘ کےذریعے کمائی کرنا ہے۔ یہ دنیا میں ایسی کمپنیوں کو گرفت میں لیتی ہیں جو فراڈ یا دھوکہ دہی کرتی ہیں۔ ریکارڈ بتاتا ہے کہ جو بھی کمپنی ہینڈن برگ کی گرفت میں آئی یا تو اس کا خاتمہ ہوگیا یا پھر اس کے مالک عرش سے فرش پر آگئے۔

            کیا یہ سوال پوچھا جاسکتا ہے کہ ہنڈن برگ کی رپورٹ، بی بی سی کی ڈاکیومنٹری مغرب کی طرف سے سرد جنگ کی آہٹ تو نہیں ہے۔یا پھر مودی حکومت کو تنبیہ ۔ جو در پردہ چائنا سے پینگیں بڑھا رہی ہے۔ گوتم اڈانی کا گرنا صرف گوتم اڈانی کا نقصان نہیں ہے بلکہ بھارت کا نقصان ہے۔ جی ڈی پی، بینک، ایل آئی سی اور بھارتی اسٹاک اکسچینج سبھی پر مصیبت کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ ایسے میں ہماری حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ الزامات کا  باریکی سے   جائزہ لے۔  دوسری جانب ’’ سے بی‘‘ کو چاہیے کہ اپنی طرف جلد سے جلد تحقیقات کا اعلان کرے۔ 

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Scroll to Top
%d bloggers like this: