از:- محمد عمر فراہی
کچھ پچیس تیس سال پہلے جب ناولوں کی دنیا سے ہجرت کر کے اخبارات میں لکھنا شروع کیا اور پھر اسی تعلق سے سیاسی اور انقلابی شخصیات کے بارے میں مطالعے کی دلچسپی پیدا ہوئی تو بہت سی عبقری شخصیات جو تحریک آزادی ہند کے سرفہرست کے رہنماؤں میں شامل تھیں ان کے بارے میں بھی کچھ انکشافات سامنے آنے لگے کہ ان کا تعلق فری میسن تحریک سے تھا جبکہ اس وقت ہمیں یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ یہ فری میسن تحریک ہے کیا۔
دھیان رہے جس طرح اپسٹین فائل میں صرف انہیں شخصیات کا نام آتا ہے جو سماج میں اثر و رسوخ کی مالک ہیں اسی طرح فری میسن تحریک سے بھی انہیں کا نام جوڑا جاتا تھا جو سماج اور معاشرے میں اپنا کچھ وزن رکھتے تھے ۔ان میں کچھ مسلم قیادتیں بھی تھیں جن کے لبرل خیالات کی وجہ سے ان کا نام فری میسن سے جوڑ دیا گیا تھا ۔ اس وقت ہمارا بھی خیال تھا کہ فری میسن اور ایلومیناتی جیسی تحریکیں صرف لوگوں کے ذہن کی اپج ہیں لیکن اخبارات میں لکھنے کے دوران کچھ واقعات جو ہمارے ساتھ پیش آۓ اور کچھ دوستوں سے سنا اور پھر انٹرنیٹ کی دنیا میں قدم رکھنے کے بعد تو بہت کچھ صاف نظر آنے لگا کہ ابن سفی اور التمش نے ناول کی شکل میں اپنی تحریروں میں جن پراسرار سازشی کرداروں کی تصویر دکھائی تھی اسے ڈیجیٹل کیمرے اور سوشل میڈیا کے دور میں صاف دیکھا جا سکتا ہے ۔جیفری اپسٹین فائل تو صرف اس تصویر کا ایک رخ ہے ۔اس تصویر کا دوسرا رخ اور بھی بھیانک ہو سکتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ اسی دوسرے رخ کو انجام دینے کے لئے بہت ہی منصوبہ بند طریقے سے یہ پورا کارنامہ انجام دیا گیا ہے اور دیا جارہا ہے تاکہ ایوان سیاست کے اعلی عہدوں پر براجمان حکمرانوں کے ذریعے وہ خونی کھیل کھیلا جاۓ جو شیطان کے پجاری چاہتے ہیں ۔
اب ہم مختلف اخبارات اور سوشل میڈیا نیٹ ورک کے حوالے سے ظہران ممدانی اور میرا نائر کے بارے میں بھی بحث کر لیں تو زیادہ بہتر ہو گا تاکہ جس طرح ماضی میں شرافت کے لباس میں ایسے کرداروں نے کبھی لارینس آف عربیہ کبھی لارینس آف بر صغیر کی شکل میں آزادی ہند کے دوران ملت اسلامیہ کے ذہنوں پر ضرب لگائی ہے اور ملت سیکولرزم اور لبرل سرمایہ دارانہ نظام کے قریب میں قید ہو کر خدا کے دین اسلام سے تقریبا منحرف نظر آئی اب اور ایسے لبرل کرداروں کے فریب میں آ کر گمراہی سے بچا سکے ۔
ممکن ہے اس تعلق سے بھی سچائی کم اور افسانہ زیادہ ہو لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ آگ لگتی ہے تو ہی دھواں اٹھتا ہے ۔اس مضمون کو اسی زاویہ نظر سے دیکھیں اور کسی بھی مسلم نام یا انصاف اور مساوات کا نعرہ لگانے والے لبرل چہرے پر آنکھ بند کر کے یقین کرنے کے پہلے موجودہ دجل و فریب والی دنیا پر بھی نگاہ ضرور رہے کیوں کہ وقت کے سامری ہر دور میں مسیحا کے لباس میں ہی سامنے آۓ ہیں یا لاۓ گئے ہیں ۔
میرا نائر کا تعلق بھارت کی ایک پچھڑی ہوئی ریاست اڑیسہ کے رورکیلا شہر سے ہے جنھوں نے ستر کی دہائی میں اعلی تعلیم کی غرض سے نیویارک میں ہاروارڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا ۔وہاں ان کی ملاقات Mitch Epstein سے ہوئی جو اسی یونیورسٹی میں لیکچرار تھا اور اور ایک اچھا فوٹوگرافر بھی تھا ۔دونون نے ایک دوسرے سے شادی کر لی لیکن یہ شادی 1990 تک ہی چل سکی ۔میرا نائر اس کے بعد امریکہ سے ہجرت کر کے یوگانڈہ چلی گئیں ۔وہاں ان کی ملاقات ہند نثراد پروفیسر محمود ممدانی سے ہوئی اور پھر دونوں نے 1991 میں شادی کر لی ۔اسی سال محمود ممدانی سے ان کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام انہوں نے ظہران ممدانی رکھا ۔ایک بات اور غور طلب رہے کہ نائر کے سابق شوہر Mitch Epstein اور Jeffery Epstein میں صرف اپسٹین ہی مشترک نہیں ہے بلکہ جیفری اپسٹین بھی پہلے ریاضی کا ٹیچر تھا اور تینوں تقریبا ہم عمر اور فلم انڈسٹری سے منسلک ہم پیشہ بھی تھے اور جس طرح اپسٹین فائل میں میرا نائر کی بل کلنٹن، بل گیٹس اور جیفری اپسٹین کے ساتھ تصویریں آ رہی ہیں کہا جا سکتا ہے کہ میرا نائر اور جیفری اپسٹین کی دوستی بھی یونیورسٹی کے دور سے رہی ہو ۔خیر جیفری اپسٹین اور مچ اپسٹین کا آپس میں کوئی تعلق ہو یا نہ ہو لیکن میرا نائر جس فلمی دنیا کے پیشے سے منسلک تھیں ایسے لوگوں کو فلمیں بنانے کے لئے جیفری اپسٹین جیسے لوگوں سے تعلقات رکھنا ہی پڑتا ہے اور پھر گلیمر کی دنیا کے یہ بڑے لوگ جو شیطان کے پجاری بھی ہیں ان سے فائدہ اٹھاۓ بغیر کوئی کام کیوں کریں گے ؟۔
ایک بات یہ بھی غور کرنے کی ہے کہ جیفری اپسٹین جو کہ صرف ایک ٹیچر تھا وہ اتنا بڑا آدمی بنا کیسے ؟
اس معاملے میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہے ۔ستر اور اسی کی دہائی میں خود بھارت میں بہت سے اداکار ،سنگیت کار اور کہانیاں لکھنے والے جن کے آباواجداد مبئی کی سڑکوں پر سوتے تھے آج ہزاروں کروڑ کے آدمی ہیں ۔مثال جاوید اختر اور شبانہ اعظمی کی لے لیں ان کے والدین معمولی شاعر تھے ۔جیفری اپسٹین نے بھی اپنا کاروبار لڑکیوں کی دلالی سے شروع کیا اور پھر ایسے لوگوں کو فائننس کرنے کے لئے بہت سی ایسی تحریکیں بھی سامنے آ جاتی ہیں جنھیں ایسے لوگوں کی مدد سے اپنے سیاسی مقاصد بھی حاصل کرنے ہوتے ہیں ۔اس طرح جیفری اپسٹین کےنہ صرف ہائی پروفائل لوگوں سے تعلقات بحال ہونا شروع ہوۓ اسے بہت کچھ کرنے کے لئے نہ صرف ذہنی طور پر مواد فراہم کیا گیا ایک دن اسے پرایویٹ طیارے کے ساتھ لٹل سینٹ جیمس نام کے جزیرے کا مالک بھی بنا دیا گیا جہاں سے نہ صرف وہ سماج کے بااثر لوگوں کو عیاشی کے سامان فراہم کرتا ان بااثر شخصیات کے اثر و رسوخ سے اور بھی ایسے بہت سے اپنے معاونین کو جنھیں یہ اپنے مقصد کے لئے مشہور کرنا چاہتے مختلف عالمی ایوارڈ کی سفارش کرتے یا بہت سی یونیورسٹیوں اور کانفرنسوں میں کچھ گمنام شخصیتوں کی شرکت کرائی جاتی تاکہ انہیں شہرت کی بلندی تک پہنچایا جاۓ یا ان کی اس شہرت سے ان شخصیات کے ذریعے ان کی قوم کی ذہن سازی کا کام لیا جاۓ ۔جیسے کہ ان مغرب نوازوں نے جس میں کہ مسلمانوں کی تحریکیں بھی شامل ہیں انہوں نے خود غیر مہذب مغرب مہذب بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔جیسا کہ خود میرا نائر کی فلم سلام بامبے کو تین عالمی ایوارڈ سے نوازہ گیا اور اس طرح ایک معمولی خاندان سے تعلق رکھنے والی میرا نائر نہ صرف ہزاروں کروڑ کی مالک بن گئی اس کو امریکہ کی شہریت مل گئی ان کے بیٹے ظہران ممدانی کو ڈرامائی انداز میں مشتہر کر کے نیویارک کا میئر بنا دیا گیا ۔یہاں پر غور کرنے کی بات یہ بھی ہے کہ جیفری اپسٹین کو سن نوے کی دہائی سے ہی لٹل سینٹ جیمس جزیرے کا مالک بنا دیا گیا تھا اور اسی وقت سے اگر میرا نائر اور جیفری اپسٹین کے آپسی روابط بھی رہے ہیں اور میرا نائر کی اس جزیرے پر بل کلنٹن کے ساتھ جو تصویریں سامنے آئی ہیں تو کیا میرا نائر کے ڈونالڈ ٹرمپ سے اچھے تعلقات نہیں رہے ہوں گے ؟ جبکہ ڈونالڈ ٹرمپ کی اپنی شخصیت صدر بننے سے پہلے بھی ایک پلے بوائے کے طور پر مشہور تھی اور ٹرمپ پلے بواۓ کی حیثیت سے بھی جیفری اپسٹین کو اپنے جزیرے پر بلایا کرتا تھا تاکہ وہ سماج کی ان بااثر سیاسی اور سماجی خواتین کی بھی اس جزیرے پر ان کی خواہشات کی تکمیل کا نظم کیا جاسکے ۔حالانکہ اس عنوان سے ابھی ان خواتین کا اس فائل میں کہیں نام نہیں آیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا میرا نائر کے ڈونالڈ ٹرمپ سے اچھے تعلقات نہیں رہے ہوں گے ؟
اس کے باوجود ڈونالڈ ٹرمپ نے ظہران ممدانی کے خلاف اس کے مسلم نام کی شناخت کو عنوان بنا کر منفی بیانات دیئے تاکہ ظہران کو مزید شہرت دلائی جاسکے ۔اپسٹین فائل کی بہت سی تصویروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ کلنٹن ہوں کہ ڈونالڈ ٹرمپ جیفری اپسٹین یا ظہران ممدانی اور میرا نائر سب اپنی اپنی مختلف شبیہ کے ساتھ ایک ایسی تحریک کے نمائندے ہیں جو باقاعدہ اپنے ممبران کے لئے Money …Fame …protection ..اور Power کا وعدہ کرتی ہے اور یہ فری میسن اور ایلومیناتی جیسی خفیہ تنظیمیں جن کی سرگرمیاں اپ سوشل میڈیا کے دور میں بہت زیادہ مخفی بھی نہیں رہیں !!!