نبی کی سیرت معراج انسانیت ہے!

از:- مفتی ہمایوں اقبال ندوی

نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ

ہدیہ وتحفہ کی فضیلت مسلم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو،اس سےمحبت بڑھتی(بخاری) بحمداللہ اس کا اھتمام بھی ہے۔ ہرزمانے میں اللہ کے نیک بندے اس نیک عمل کو زندگی بخشتے رہے ہیں،اور اپنے مزاج ومذاق کے اعتبار سے ہدایا وتحالف پیش کرتے ہیں اور ان کے ذریعے محبت میں اضافہ کرتے ہیں، چنانچہ کوئی مٹھائی ہدیہ میں پیش کردیتا ہےتو کوئی لفافے میں پیسے گفٹ کردیتا ہے۔کوئی عطر پیش کرتا ہے توکوئی تسبیح و مصلی دیدیتا ہے۔حاصل یہ کہ ہدایا مختلف ہوتی ہیں مگر دینے والوں کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے ،اور وہ مذکورہ حدیث کی روشنی میں آپس کی محبت میں اضافہ کرنا ہے۔ اس سے زیادہ اور کوئی بڑا مقصدعموما دینے والوں کی نگاہوں کے سامنے نہیں ہوتا ہے۔مگر کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں اللہ نے بصیرت دی ہے وہ سامنے والے کی ضرورت کا خیال کرتے ہوتے ہدیہ کرتے ہیں اور موجودہ وقت کے تقاضے کا بھی انہیں خیال ہوتا ہے، ان کا یہ عمل محبت میں اضافہ کا سامان بھی ہوتا ہے اور اس سے آگے بڑھ کر یہ چیز ایک دعوت اور تحریک میں بدل جاتی ہے۔چنانچہ آج شہر ارریہ کے معروف عالم دین جناب مولانا افروز عالم صاحب فلاحی وشاہد حسن صاحب نے مجھ ناچیز کو مولانا صفی الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ علیہ کی مایہ ناز تصنیف اور شہرہ آفاق کتاب "الرحیم المختوم "ہدیہ میں دی ہے۔اور یہ بھی واضح کردینا ضروری ہے کہ جب بھی مولانا نے کچھ ہدیہ کیا ہے تو وہ علمی تحفہ ہی دیا ہے۔اورآج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر لکھی گئی یہ کتاب "الرحیق المختوم” میرے لئے اور ہر صاحب ایمان کے لئے سب سے زیادہ مہنگا ہدیہ اور قیمتی تحفہ ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر لکھی گئی اس کتاب کا نام بھی بڑا خوبصورت اور تاریخی ہے۔ اس کتاب کی جامعیت کے لئے اتنا کہدینا کافی ہے کہ اس کا نام قرآن کریم سے لیا گیا ہے اور سیرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لکھی گئی ہے،اماں جان حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے جب یہ بات معلوم کی گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کیسے تھے تو صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا کہ ::كان خلقه القران "آپ کا اخلاق قرآن تھا۔آپ کی زندگی، آپ کے عادات، آپ کا اٹھنا، بیٹھنا سب قرآن کی عملی تصویر تھی،اور اس سے زیادہ صاف ستھری اور پاکیزہ زندگی نہیں ہوسکتی ہے۔الرحیق المختوم کا مفہوم یہی ہے اور یہ کتاب قرآن وسنت کا جامع ہے۔”الرحیق المختوم "قرآن میں یہ نام اس مشروب کا ہے جو نہایت پاکیزہ اور خالص ہے۔ مشک کی مہر سے یہ بند مشروب اہل جنت کے لئے خدائی سوغات ہے۔

فاضل سیرت نگار نے اس کتاب کو اس خاص نام سے اس لئے بھی موسوم کیا ہے کہ جس طرح جنتیوں کے لئے یہ شراب قیمتی تحفہ ہے اسی طرح اس دنیائے انسانیت کے لئے یہ کتاب ایک بڑی نعمت اور بڑا ہدیہ ہے۔قرآن کریم میں اس بات کا اعلان بھی کیا گیا ہےکہ:تمہارے لئے رسول اللہ کی زندگی میں بہترین اسوہ ہے(سورہ احزاب)

آج ہرکوئی فکری انتشار کا شکار ہے۔ ٹکنالوجی کی ترقی نے انسانوں کو آوارہ بنادیا ہے،ایک عام آدمی ہی نہیں بلکہ ایک صاحب ایمان بھی دائیں بائیں کررہا۔کبھی ادھر تاکتا ہے تو کبھی ادھر جھانکتا ہے،پوری دنیا کی باتیں سنتارہتا ہے اور کس کی بات میں کتنا دم ہے اسی اڈھیر بن میں ہمہ وقت لگا رہتا ہے، اس کی تمیز پیدا نہیں ہوپاتی ہے کہ کس نے صحیح بات کہی ہے،اسی میں حیراں وسرگرداں رہتا ہے،جبکہ آج سے چودہ سو سال پہلے ہی قرآن نے یہ اعلان کررکھاہے کہ نبی آخرالزمان کی سیرت یہ معراج انسانیت ہے۔ہمارا کوئی فلسفی آئیڈیل نہیں ہے،اس کا حوالہ ہم اپنی تقریر وتحریر میں دیکر وزن پیدا کرنے کی کوشش کرتے جبکہ حقیقت میں ایسا کرنے ہی سے ہم بے وزن ہو چکے ہیں۔پوری دنیائے انسانیت اسلام کی طرف دیکھ رہی ہے اور مسلمان یمین وشمال کررہے ہیں درحقیقت اسی کانام گمرہی ہے۔اعاذنا اللہ من ذالك۰ ۰۰۰۰۰۰۰۰

نبی کریم کی سیرت ہمیں سچائی، امانت داری، عدل پروری، صبر و شکر اور عفو ودر گزر کی تعلیم دیتی ہے۔آج کی اس بھاگ دوڑ والی دنیا میں خاندانی زندگی کا تانا بانا بکھرتا جارہا ہے۔ایسے میں نبی کریم کی سیرت سے ہی اسے پٹری پر لایا جاسکتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بحیثیت شوہر، بحیثیت والد، بحیثیت بیٹےاور بحیثیت رشتہ دار جو نمونہ پیش کیا ہے اس کی آج دنیا کو سخت ضرورت ہے۔

آج قیادت کا مفہوم دنیا نے حکمرانی اور تانا شاہی سمجھ لیا ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عملی زندگی کے ذریعہ قیادت کا صحیح مفہوم عوامی خدمت بتلایا ہے،سامنے دشمن ہے پھر بھی عدل و انصاف کے ترازو کواسلام نے جھکنے نہیں دیا ہے۔
آج ہمارے نوجوان بے روزگار ہیں اور سڑکوں پر نظر آرہے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوجوانوں کو قوم وملت کے لئے بڑی قیمتی جماعت بتلایا ہے،ان کی صلاحیت پر اعتماد کیا اور ان کو ذمہ دار بنایا ہے۔

اسی لئے بھی قرآن نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پورے عالم انسانیت کے لئے رحمت کہا ہے،مگر افسوس کی بات تو یہ ہے کہ غیر تو غیر اپنے بھی نبی کی سیرت سے بیگانے ہوتے جارہے ہیں۔آج ہم صرف مشکلات کا رونا روتے ہیں، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکلات کا سامنا کس طرح کیا ہے، مکی زندگی میں آزمائشوں سے کس طرح نکلے ہیں، مدنی زندگی میں حالات کا مقابلہ کس طرح کیا ہے، یہ نہیں جانتے ہیں۔ بالخصوص امت مسلمہ ہندیہ کے لئے اس وقت سب سے بڑی سوغات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہے۔اسی کے ذریعہ ہم ناگفتہ بہ حالات سے نکل سکتے ہیں اور ملک وملت کی رہنمائی ورہبری کا فریضہ بھی انجام دے سکتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ وصیت بھی کی ہے کہ "میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں، جب تک تم ان دونوں کو مضبوطی سے تھامے رہوگے تو تم گمراہ نہ ہوگے، اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت "۔

آج یہی دونوں چیزیں ہمارے ہاتھوں سے چھوٹی جارہی ہیں، ان بزرگوں نے سیرت النبی کو ہمارے ہاتھوں میں دیکر درحقیقت یہی پیغام دیا ہے۔

سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔