وندے ماترم تنازع: اب مسلم قیادت کیا کرے گی؟

از:- شفیق فیضی

ماتم کرنے سے کچھ نہیں ہوگا، زمین پر اتر کر کام کیجئے ! یا پھر” وندے ماترم ” کی پریکٹس آج اور ابھی شروع کردیجئے” یہ الفاظ میں نے 9 دسمبر 2025 کو اپنے سوشل میڈیا پیج اورنیوز جی 24 یوٹیوب چینل پر کہے تھے۔ کل کہی گئی بات آج حقیقت میں تبدیل ہورہی ہے۔ مسلمان عمل سے پہلے ہی محروم تھا، اب ایمان سے بھی جائے گا۔

"دی پریوینشن آف انسَلٹس ٹو نیشنل آنر (ترمیمی) بل، 2026” 24 جولائی 2026 کو راجیہ سبھا میں پیش کیا گیا۔ 29 جولائی 2026 کو راجیہ سبھا نے اسے منظور کر لیا، اور اس کے بعد 30 جولائی 2026 کو لوک سبھا نے بھی اس بل کو منظوری دے دی۔ اب اس کے قانون بننے کے لیے صرف صدرِ جمہوریہ کی منظوری درکار ہے۔

اس ترمیم کے تحت قومی گیت "وندے ماترم” کو بھی وہی قانونی تحفظ دینے کی منظوری دی گئی ہے جو پہلے صرف قومی ترانے "جن گن من” کو حاصل تھا۔ یعنی اگر کوئی شخص جان بوجھ کر "وندے ماترم” کی گائیکی میں رکاوٹ ڈالے یا قانون میں بیان کردہ طریقے سے اس کی توہین کرے، تو اس کے خلاف بھی وہی تعزیری دفعات لاگو ہوں گی جو پہلے قومی ترانے کے لیے نافذ تھیں۔

اس سے بھی پہلے، 10 نومبر 2025 کو میں نے اپنے ایک تجزیے میں یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ حکومت ‘وندے ماترم’ کو کسی نہ کسی شکل میں لازمی قرار دینے کی کوشش کرے گی۔ اسی سلسلے میں 16 فروری 2026 کو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان، سید قاسم رسول الیاس صاحب سے نہ صرف اس موضوع پر تفصیلی سوالات کیے بلکہ اس ممکنہ صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے آئندہ کی حکمتِ عملی پر بھی گفتگو کی تھی۔

میرا مقصد اس وقت بھی محض خدشات بیان کرنا نہیں تھا، بلکہ یہ توجہ دلانا تھا کہ اگر بروقت آئینی، قانونی اور منظم سطح پر تیاری نہ کی گئی، تو بعد میں صرف ردِعمل اور افسوس سے حالات تبدیل نہیں ہوں گے۔ اس وقت سید قاسم رسول نے مسلم پرسنل لاء کا موقف رکھتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت "وندے ماترم” قانون کو واپس لے یا نہ لے، ہم اس گانے کو نہیں گائیں گے۔

اب اصل سوال یہ ہے کہ پیدا ہوچکی صورتِ حال کے مقابلے کے لیے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (All India Muslim Personal Law Board) کے پاس کیا عملی حکمتِ عملی ہے؟ اگر لاکھوں یا کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی ضمیر یا دینی آزادی سے متعلق کوئی چیلنج سامنے آتا ہے، تو اس کے حل کے لیے مسلمانانِ ہند کا اجتماعی لائحۂ عمل کیا ہوگا؟

اسی طرح جمعیت علمائے ہند، جماعت اسلامی ہند، ایسوسی ایشن آف مسلم پروفیشنلز ، آل انڈیا مسلم مجلسِ مشاورت، زکات فاؤنڈیشن آف انڈیا ، انجمن اسلام، اور مسلم فیڈریشن آف انڈیا سمیت ملک کی بڑی مسلم تنظیموں کی قیادت سے بھی یہ سوال ہے کہ آج ان کی ترجیحات کیا ہیں، اور وہ موجودہ و ممکنہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کس نوعیت کی عملی اور آئینی تیاری کر رہی ہیں؟

22 کروڑ سے زائد مسلمانوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والی قیادت کے سامنے آج سب سے اہم امتحان یہی ہے کہ وہ محض بیانات اور قراردادوں تک محدود رہنے کے بجائے، آئینی، قانونی، تعلیمی اور سماجی سطح پر ایسا مؤثر لائحۂ عمل پیش کرے جو لوگوں کو درپیش خدشات کا عملی جواب بن سکے۔

یہ سوال اُن مذہبی قیادتوں اور پیرانِ حرم سے بھی ہے جنہوں نے اسلام کی ہمہ گیر تعلیمات کو محدود کر کے دین کو زیادہ تر عبادات، جلسے، جلوسوں، چادر پوشی، فاتحہ خوانی اور پیری مریدی کی تجارت تک محدود کر دیا۔ اگر آج مسلمانوں کو اپنے مذہبی تشخص، آئینی حقوق یا دینی آزادی سے متعلق کسی نئے چیلنج کا سامنا ہے، تو قوم جاننا چاہتی ہے کہ ان حالات میں ان کی عملی رہنمائی کیا ہے؟

قوم کے چندوں اور نذرانوں پر پلنے والے عظیم الشان اجتماعات میں باطل کے خلاف گرجنے والے خطباء، ایمان کی حرارت جگانے والے مقررین اور اپنے کلام سے مجمع کو گرما دینے والے شعراء آج کہاں ہیں؟ اگر امت کو اپنی دینی شناخت اور مذہبی آزادی کے بارے میں حقیقی خدشات لاحق ہیں، تو اس نازک وقت میں ان کی آواز، قیادت اور عملی حکمتِ عملی کیوں دکھائی نہیں دے رہی؟

احمد رضا خان کی ناموس پر اٹھنے والی ہر نظر کو پھوڑ دینے والے آج کہاں ہیں؟ بدعت کے نام پر کفر و شرک کے فتووں کی آندھی کھڑی کر دینے والے خطباء اور مقررین آج خاموش کیوں ہیں؟کیا امت پر نافذ ہونے والی "وندے ماترم” کی بلا بدعت سے کمتر ہے؟۔

آج معاملہ صرف کسی ایک مسئلے، ایک بدعت یا کسی شخصیت پر تنقید کا نہیں رہا، بلکہ وہ پوری عمارت خطرے میں دکھائی دے رہی ہے جس کی بنیادوں کی حفاظت کے دعوے برسوں سے کیے جاتے رہے ہیں۔ اگر واقعی دینی تشخص اور ایمان کے تحفظ کا دعویٰ ہے، تو آج اس دعوے کو عملی اقدام میں بدلنے کا وقت ہے، نہ کہ باہمی اختلافات میں الجھے رہنے کا۔

فیصلہ اب آپ کو کرنا ہے، اپنی تمام تر توانائیاں اندرونی اختلافات میں صرف کرتے رہیں گے، یا اس عمارت کے تحفظ کے لیے متحد ہوں گے جس کے ساتھ آپ کی اپنی شناخت بھی وابستہ ہے۔ اگر بنیادیں کمزور ہو گئیں، تو صرف عمارت ہی نہیں، اس سے وابستہ تمام افراد کے وجود بھی خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔