بابری، بنگال اور بی جے پی !!

از:- غلام مصطفےٰ نعیمی

روشن مستقبل دہلی

ہمایوں کبیر!
یہ وہ جناب ہیں جنہوں نے مؤرخہ 6 دسمبر کو ضلع مرشدآباد کے بیلڈانگا میں نئی بابری مسجد کا سنگ بنیاد کرایا۔اگر یہ سنگ بنیاد صرف مسجد کا ہوتا تو شاید پڑوسی ضلع میں بھی پتا نہ چلتا لیکن بابر کے نام اور شہادت بابری کی تاریخ نے اسے اتنا خاص بنا دیا کہ اس وقت پورے ملک میں ہمایوں کبیر اور نئی بابری کی چرچا چل رہی ہے۔آپ جتنا سمجھنا چاہیں گے، اتنا الجھیں گے، جتنا جاننے کی کوشش کریں گے اتنا ہی پریشان ہوں گے۔چیزیں کچھ اس طرح الجھی اور الجھائی گئی ہیں کہ آپ چاہ کر بھی خود کو الگ نہیں کر سکتے۔

عبادت یا سیاست؟

مسجد بنانا یا بنوانا کسی بھی مسلمان کے لیے دنیا و آخرت کا بڑا سرمایہ ہے۔عامی مسلمان ہو کہ صاحب علم، پرہیزگار ہو کہ دنیا دار، مسجد بنانا بہرحال قابل تعریف اور لائق تحسین ہے۔مگر سیاست دان جب کوئی کام کرتا ہے تو لا محالہ اس کے اقدام کے پس پردہ "سیاسی فوائد” کا اینگل ضرور دیکھا جاتا ہے۔اس جہت سے دیکھا جائے تو ہمایوں کبیر کا جو پروفائل سامنے آتا ہے وہ کسی طور قابل اعتماد اور یقین کیے جانے لائق نظر نہیں آتا۔آنجناب سال 2011 میں 46 سال کی عمر میں پہلی مرتبہ اور سال 2021 میں 56 سال کی عمر میں دوسری مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔سال 2016 میں اسمبلی الیکشن اور 2019 میں پارلیمانی الیکشن میں ناکام بھی رہے۔کل چودہ سالہ سیاسی سفر میں ہمایوں کبیر کانگریس، ٹی ایم سی اور بی جے پی میں رہ چکے ہیں۔اس درمیان ٹی ایم سی سے سسپینڈ بھی ہوئے، پھر دوبارہ داخل ہوئے اور اب پھر ٹی ایم سی نے انہیں پارٹی سے باہر نکال دیا ہے۔یعنی سیاسی نظرئے سے دیکھا جائے تو انہیں سیکولر اور کمیونل کسی بھی پارٹی سے پرہیز نہیں ہے۔ان کا بنیادی مقصد بس اپنا رسوخ اور سیاسی رتبہ بنائے رکھنا ہے۔ان کی اسی روش سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ سیاسی اعتبار کوئی پختہ فکر کے انسان نہیں ہیں۔اب جو انسان سیاسی اعتبار سے بھی قابل اعتماد نہیں ہے، اچانک سے بیدار ہوئی اس کی مذہبی محبت گلے سے نہیں اترتی۔اسے راتوں تبدیلی قلب کا اثر کہیں یا کسی سیاسی سازش کا پیش خیمہ؟
نئی بابری مسجد کا سنگ بنیاد دینی غیرت کا اظہار ہے یا کسی سیاسی فائدے کی پلاننگ؟

جذبات اور تقاضے

قانونی نقطہ نظر سے مسجد تعمیر کرنا، اور اس کا نام بابری رکھنا نہ تو غلط ہے نہ کوئی جرم۔خود اسی مسجد کے جواب میں بنگال ہی میں ایک اور رام مندر بنانے کا اعلان اور سنگ بنیاد بھی کیا گیا۔اس پر کسی بھی مسلمان کو اعتراض ہوا نہ کسی میڈیا ہاؤس نے سوال اٹھائے۔لیکن جس طرح ہندو سادھو سنتوں/بھاجپائی نیتاؤں نے اس مدے کو ہوا دی اور گردن کاٹنے/مسجد کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے اور سب کچھ ختم کرنے جیسی زبان استعمال کی ہے، وہ کہاں تک جائز اور قانونی ہے؟

یہ پہلو یقیناً ان لوگوں کی مسلم دشمنی اور شدت پسندی کو بیان کرتا ہے لیکن یہاں رک کر ہم ایک بار پھر ہمایوں کبیر کی طرف لوٹتے ہیں۔دستیاب اطلاعات کے مطابق ہمایوں کبیر نے سیاسی زندگی کی شروعات کانگریس سے کی۔بعد میں ممتا بنرجی کی پارٹی میں شامل ہوئے۔یہاں سے نکلنے کے بعد بھاجپا جیسی پارٹی میں نہ صرف شامل ہوئے بل کہ 2019 کا پارلیمانی الیکشن بھی لڑا۔اس الیکشن میں انہیں لگ بھگ ڈھائی لاکھ ووٹ حاصل ہوئے لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔اگر ہمایوں کبیر اس سیٹ پر جیت حاصل کر لیتے تو وہ بھاجپا کے اکلوتے مسلم ایم پی ہوتے، ممکن ہے کہ انہیں کابینہ میں جگہ بھی مل جاتی۔اس طرح ان کا سیاسی سفر بھاجپا کے ساتھ ہی آگے چلتا۔سوئے اتفاق کہیں کہ حسن اتفاق کہ ایسا کچھ نہیں ہوا اور دو سال بعد انہوں نے بھاجپا چھوڑ کر ٹی ایم سی کو پھر سے جوائن کر لیا۔پارٹیوں کی اس ادلا بدلی سے اتنا تو صاف ظاہر ہوجاتا ہے کہ ہمایوں کبیر نظریاتی طور پر کمزور اور بے بھروسہ انسان ہیں۔

یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ جس وقت نو نومبر 2019 کو سپریم کورٹ نے بابری مسجد کو مندر بنانے کا فیصلہ سنایا اس وقت ہمایوں کبیر بھاجپا ہی میں تھے لیکن اس وقت ان کی مومنانہ غیرت خدا جانے کہاں سوئی ہوئی تھی اس لیے اس فیصلے کے خلاف انہوں نے کچھ نہیں کہا۔اب جب کہ بنگال کا اسمبلی الیکشن سر پر ہے اور بھاجپا الیکشن جیتنے کے لیے سام دام دنڈ بھید ہر فارمولہ آزمانے تیار ہے، اچانک ہی ہمایوں کبیر مذہبی رہنما کے طور پر سامنے آتے ہیں اور نئی بابری مسجد کے ساتھ ہی نئی پارٹی بنانے کا بھی اعلان کر دیتے ہیں۔
ایک ایسا شخص جس کی کل جمع پونجی محض دو بار رکن اسمبلی بننا ہو۔جسے اس کے ضلع کے باہر کوئی ڈھنگ سے جانتا تک نہ ہو وہ اچانک ہی ایک پارٹی بنانے کا تہیہ کر لے یہ بات لاکھ کوشش کے باوجود تسلیم کرنا بے حد مشکل ہے۔

چرخ کو کب یہ سلیقہ ہے ستم گاری میں
کوئی معشوق ہے اس پردۂ زنگاری میں

کتنی عجیب بات ہے !!

جس شخص کا عمر کی 62 ویں بہار تک کوئی دینی بیک گراؤنڈ نہیں رہا۔جو دینی یا قومی ہمدردی کے حوالے سے اب تک گمنام رہا۔اچانک ہی وہ شخص ملت سے جڑے اتنے بڑے جذباتی اشیو پر کیسے بیدار ہوگیا؟
اچانک ہی اسے 300 کروڑ دینے والے مخیر بھی مل گئے۔سعودی تک سے غیر ملکی مہمان بھی آگیے۔پورے پولیس پروٹیکشن کے ساتھ سنگ بنیاد کا پروگرام بھی ہوگیا۔حکومتی نیوز ایجنسی اے این آئی (ANI) لگاتار ہمایوں کبیر کو رپورٹ کر رہی ہے۔اس کی ایک ایک بائٹ مین اسٹریم میڈیا نشر کر رہی ہے۔میڈیا چینل لگاتار ڈبیٹ کر رہے ہیں۔یہ سارے امور محض اتفاق نہیں ہو سکتے اس لیے مسلمانان بنگال سے گزارش ہے کہ وہ جذبات کے ساتھ عقلی تقاضوں کا بھی خیال کریں اور کسی بھی نیتا کو اپنے پاکیزہ جذبات کے استحصال کا کوئی موقع نہ دیں۔

گھروں میں ساتھ بیٹھے ہیں سر بازار بیٹھے ہیں
نقاب اپنوں کا اوڑھے آج کل اغیار بیٹھے ہیں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔