اسلام امن کا دین ہے، پھر عہد نبوی میں جنگ کیوں؟

از: مفتی محمد اشرف رضا علیمی

لکچرر: دارالہدی اسلامک یونیورسٹی، ملاپورم، کیرلا

بلا شک وشبہ مذہبِ اسلام ہی امن وامان کا پیامبر ہے۔ اپنے ماننے والوں کو چین وسکون، محبت وبھائی چارگی قائم رکھنے کی تاکید کرتا ہے۔ رسولِ خدا ﷺ اس کائنات میں امن وامان کے سب سے عظیم داعی اور مبلغ ہیں۔ آپ ﷺ کی تعلیماتِ امن وامان سے فیضیاب ہوکر اوس وخزرج – جو برسوں سے باہم بَرْسَرِ پَیکار تھے- صلح پر آمادہ ہوئے۔ انصار ومہاجرین جو مختلف شہر اور مختلف خاندان کے تھے، باہم ایک شہر اور ایک خاندان کی مانند ہوگئے۔ جو لوگ حسب ونسب اور فخر وانانیت کی وجہ سے ذرا ذرا سی بات پر دست وگریباں ہوتے تھے، زیورِ امن وسکون سے آراستہ ہوگئے۔ ظلم وزیادتی کے لیے اٹھنے والے ہاتھ مظلوم ومقہور کا سہارا بن گئے۔

قرآن مقدس اور سیرت طیبہ میں امن وامان کے بے شمار دروس و شواھد موجود ہیں چنانچہ فرمان باری تعالی ہے: مَنۡ قَتَلَ نَفۡسًۢا بِغَیۡرِ نَفۡسٍ اَوۡ فَسَادٍ فِی الۡاَرۡضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیۡعًا ؕ وَ مَنۡ اَحۡیَاهَا فَکَاَنَّمَاۤ اَحۡیَا النَّاسَ جَمِیۡعًا (سورة المائدة، آيت٣٢)
جس نے کسی جان کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے بدلے کے بغیر کسی شخص کو قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کیا اور جس نے ایک شخص کو مرنے سے بچا لیا تو اس نے گویا تمام انسانوں کو بچا لیا۔
حدیث پاک میں بھی قتل کی قباحت مذکور ہے:
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : «لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ قَتْلِ مُؤْمِنٍ بِغَيْرِ حَقٍّ» (ابن ماجہ، کتاب الدیات)
رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالی کے نزدیک دنیا کاختم ہو جانا ایک مسلمان کے ناحق قتل سے زیاد سہل ہے۔

مذکورہ فرامین میں انسانی جان کی قدر وقیمت بالکل واضح ہے۔ اسلام میں نہ صرف قتل بلکہ کسی کو معمولی تکلیف دینے کی گنجائش بھی نہیں ہے جیساکہ فرمان مصطفیٰ ﷺ سے جگ ظاہر ہے: المُسْلمُ مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِّسَانِهِ وَيَدِهِ والْمُؤمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلٰی دِمَائِهِمْ وَامْوَالِهِمْ. (سنن النسائی، کتاب الایمان وشرائعه، باب صفة المؤمن)
کامل مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ محفوظ ہوں، اور کامل مومن وہ ہے کہ جس کے پاس لوگ اپنے خون اور مال کو محفوظ سمجھیں۔

اسی طرح کتب احادیث میں بے شمار مثالیں ہیں جن میں امن وسکون کا درس موجود ہے۔ نبی کریم ﷺ اپنے قول وفعل کے ذریعہ ان پیغامات کو عام کرتے رہے مگر دشمنانِ امن وامان نے آپ کو تکلیف وایذا دینا شروع کردیا، اسلام اور اسلام کے متبعین کو جڑ سے ختم کردینے کی سازشیں رچی گئیں، وحشت وبربریت کے تمام حربے استعمال کئے گئے، یہاں تک کہ بارگاہ نبوت میں صحابی اس حال میں حاضر ہوتے کہ کفار کے مظالم کی وجہ سے کسی کا سر پھٹا ہوتا، کسی کا ہاتھ ٹوٹا ہوتا، کسی کا پاؤں بندھا ہوتا، اس طرح کی بے شمار شکایتیں موصول ہوتیں مگر آپ ﷺ ان تمام تکالیف اور مظالم کے جواب میں صبر وتحمل کا حکم دیتے اور ارشاد فرماتے کہ مجھے ابھی جہاد کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ نیز تبیان القرآن میں پیش آمد آیت کے تحت مذکور ہے کہ ستّر سے زیادہ آیتیں کفار کی ایذاء رسانیوں پر صبر کرنے کے متعلق نازل ہوئی تھیں۔ مگر مشرکین مکہ مسلمانوں کے صبر کا ناجائز فائدہ اٹھاتے رہے، دن بدن اپنے جور وجفا میں اضافہ کرتے رہے حتی کہ مسلمان اپنا شہر اور اپنا گھر چھوڑ کر دوسرے شہر کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے، مگر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے بعد بھی مسلمان ان کے مظالم کا نشانہ بنتے رہے۔

پھر پہلی بار کفار کے فتنہ انگیزیوں اور ان کے مظالم کا جواب دینے کے متعلق اللہ کا فرمان جاری ہوتا ہے: اُذِنَ لِلَّذِیۡنَ یُقٰتَلُوۡنَ بِاَنَّهُمۡ ظُلِمُوۡا ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصۡرِهِمۡ لَقَدِیۡرُۨ ﴿ۙ۳۹﴾ الَّذِیۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِهِمۡ بِغَیۡرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنۡ یَّقُوۡلُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ ؕ (سورۃ الحج، آیت٣٩-٤٠)
ترجمہ کنزالایمان: جن سے لڑائی کی جاتی ہے انہیں اجازت دیدی گئی ہے کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے اور بیشک اللہ ان کی مدد کرنے پر ضرور قادر ہے۔ وہ جنہیں ان کے گھروں سے ناحق نکال دیا گیا صرف اتنی بات پر کہ انہوں نے کہا : ہمارا رب اللہ ہے۔

یہ پہلی آیت ہے جس میں کفار کے خلاف جنگ کرنے کی اجازت دی گئی اور سبب بھی واضح کردیا گیا کہ مسلمان ظلم وزیادتی کے شکار ہوئے ہیں، اور ان کو اپنے گھروں سے صرف اتنی بات پرناحق نکال دیا گیا اور بے وطن کیا گیا کہ انہوں نے کہا ’ہمارا رب صرف اللہ ہے‘۔
دنیا کی کوئی بھی غیرت مند اور حساس قوم ہو، اگر اسے اپنے مذہب پر عمل کرنے سے روکا جائے، اپنے وطن سے نکلنے پر مجبور کیا جائے اور اس پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جائیں تو ضرور وہ مظلوم قوم اپنی بقا اور وجود کے لیے اپنی طاقت وقوت کا استعمال کرےگی۔ یوں کوئی احمق ہی ہوگا جو ایسی مظلوم قوم کو امن وسکون کا مخالف تصور کرےگا ۔

اس کے برعکس جو جنگ کی طرف آمادہ نہیں ہوئے، عہد وپیمان کو پورا کیا تو ان سے اچھا برتاؤ کرنے کی اجازت دی گئی: لَا یَنۡہٰىکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیۡنَ لَمۡ یُقَاتِلُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ ولَمۡ یُخۡرِجُوۡکُمۡ مِّنۡ دِیَارِکُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡهُمۡ وَ تُقۡسِطُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُقۡسِطِیۡنَ. (سورۃ الممتحنة، آيت٨)
ترجمہ کنزالایمان: اللہ تمہیں ان لوگوں سے احسان کرنے اور انصاف کا برتاؤ کرنے سے منع نہیں کرتا جنہوں نے تم سے دین میں لڑائی نہیں کی اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا، بیشک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔

اگر مسلمان جنگ بھی کرتے تھے تو صرف رضائے الٰہی، غلبۂ حق، ظلم وتشدد کے خاتمے، عدل وانصاف کے قیام، اور امن وامان کی بقا کے لیے کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے مسلمانوں کے لیے جنگ کے بھی آداب مقرر فرمائے؛ یعنی بچوں، بوڑھوں، عورتوں اور کمزوروں پر حملہ کرنے، کھیت کھلیان کو برباد کرنے، آگ لگا کر جلانے، درختوں کو کاٹنے، کسی جانور یا انسان کا مثلہ کرنے، خیانت اور بدعہدی کرنے سے منع فرمایا۔ نیز جنگ بدر میں جو کفار ومشرکین گرفتار کیے گیے، اگرچہ یہ لوگ مسلمانوں کی ہلاکت اور بربادی کے خواہاں تھے پھر بھی آپﷺ نے ان قیدیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کا حکم دیا، نتیجتاً صحابہ کے حسن سلوک کا یہ عالم تھا کہ خود چند کھجوروں پر اکتفا کرلیتے اور قیدیوں کو بھرپیٹ غذا فراہم کرتے تھے۔ پھر قیدیوں کو ان کی استطاعت کے مطابق فدیہ لے کر چھوڑ دیا گیا، اور جو قیدی غریب تھے مگر پڑھے لکھے تھے ان کا فدیہ مسلمانوں کے دس دس بچوں کو تعلیم دینا مقرر ہوا۔ آپ ﷺ کے اس اعلی ترین اخلاق وکردار کو دیکھ کر کئی لوگ دامن اسلام سے وابستہ بھی ہوجاتے ہیں۔

اسی طرح کفارِ قریش کی بدعہدی اور شرانگیزی کی وجہ سے جب فتح مکہ کا واقعہ پیش آیا تو آپ ﷺ چوں کہ دس ہزار مسلمانوں کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے تھے اور پورا مکہ آپ کے کنٹرول میں آگیا تھا، اس لیے اگر چاہتے تو جنھوں نے پیدائشی شہر مکہ چھوڑنے پر مجبور کیا تھا اور مسلمانوں پر ظلم وزیادتی کی تھی، ایک ایک ظلم کا حساب لیا جاتا، مگر قدرت کے باوجود آپ ﷺ نے سبھی کو معافی کا پروانہ عطا فرمادیا، یوں مکہ شریف امن وامان کا گہوارہ بن گیا۔ جولوگ قتل وقتال اور خون ریزی کو اپنا بہترین مشغلہ سمجھتے تھے اب وہی حضرات امن وامان کے حامی اور عادی ہوگئے۔

لہذا یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوگئی کہ مذہب اسلام بد امنی اور بد عہدی کے خلاف ہے اور ہر حال میں امن چاہتا ہے۔ نیز حامیان اسلام نے عہد نبوی میں اگر جنگ کے لیے قدم بھی اٹھایا ہے تو امن وامان اور عدل وانصاف کو قائم کرنے کرنے لیے قدم اٹھایا ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔