از:- محمد اسلم ربانی
آج مولانا توصیف رضا کے ساتھ جو موب لنچنگ کا واقعہ پیش آیا، وہ ہمارے ملک میں کسی سے مخفی نہیں کہ آئے دن اس طرح کے حادثات مسلمانوں کے ساتھ پیش آتے رہتے ہیں۔ خاص طور پر داڑھی اور ٹوپی رکھنے والے افراد ہی اکثر اس کا شکار بنتے ہیں۔ بظاہر اس کی ایک وجہ یہ محسوس ہوتی ہے کہ یہ شرپسند عناصر ایسے لوگوں کو آسان ہدف سمجھ کر نشانہ بناتے ہیں۔
میں اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ اس طرح کے افسوسناک واقعات ہم میں سے کسی کے ساتھ پیش نہ آئیں، لیکن اگر ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں تو یہ ہمیں اپنے ایمان، عقائد اور اسلامی شعار سے مزید قریب کرتے ہیں اور ہمارے حوصلے کو مضبوط بناتے ہیں۔
ہم مسلمان جب سفر کرتے ہیں، خواہ سفر میں ہوں یا حضر میں، نہ ہماری وضع قطع اسلامی ہوتی ہے اور نہ ہی لباس سے ہماری شناخت ظاہر ہوتی ہے۔ ایک ٹرین کی بوگی میں اگر سو مسافر ہوں تو میرے خیال میں کم از کم بیس تا پچیس مسلمان ضرور موجود ہوتے ہیں، لیکن چونکہ ہماری ظاہری شناخت واضح نہیں ہوتی، اس لیے ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو پہچان بھی نہیں پاتا۔
اگر مسلمان اپنے اسلامی شعار، وضع قطع اور کم از کم سر پر ٹوپی کے ساتھ سفر کریں تو ایسے شرپسند عناصر کسی ایک مسلمان کو نشانہ بنانے سے پہلے سو بار سوچیں گے۔ جب ایک مسلمان کو یہ احساس ہو کہ اس کے آس پاس اس کے اپنے لوگ موجود ہیں تو اس کے حوصلے اور اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
میں مسلمانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ خدارا اپنی شناخت کو اپنے لباس، اپنے حلیے اور اپنے اسلامی شعار کے ذریعے برقرار رکھیے۔ اگر ہم اپنی پہچان کے ساتھ زندگی گزاریں گے تو کسی بھی شرپسند کو یہ جرأت نہیں ہوگی کہ وہ کسی ایک مسلمان پر آسانی سے حملہ آور ہو سکے۔
آج ملک میں جس طرح فرقہ واریت اور نفرت کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے، اس کا مقابلہ ہم سب کو مل کر کرنا ہوگا۔
ہم نے بارہا محسوس کیا ہے کہ جب ہم سفر میں ہوتے ہیں تو بے اختیار ہماری نگاہیں اپنے اردگرد مسلمانوں کو تلاش کرتی ہیں۔ اگر ہمارے آس پاس مسلمان موجود ہوں تو دل کو ایک طرح کا اطمینان اور تحفظ کا احساس ہوتا ہے، اور حوصلہ مزید بلند ہو جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ آج ہمیں اپنے اور غیر کی شناخت کے لیے کبھی کسی کی کلائی پر بندھے دھاگے کو دیکھنا پڑتا ہے۔ اگر کلائی میں دھاگا بندھا ہو تو ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارے غیر ہیں، اور اگر نہ بندھا ہو تو اسے اپنا بھائی تصور کرتے ہیں۔
ہم یہ ہرگز نہیں کہتے کہ سب غیر ایک جیسے ہوتے ہیں، لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ایک بھائی کا درد، بھائی ہی بہتر سمجھ سکتا ہے۔ مشکل وقت میں اکثر لوگ پیچھے ہٹ جاتے ہیں، مگر اپنے ہی کام آتے ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے اپنے ہی بعض لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا کرتا، پائجامہ اور ٹوپی پہن کر سفر کرنا کوئی فرض ہے؟
ہمیں یہ بزدلی پسند نہیں۔