یکساں سول کوڈ کے لئے دیگر ممالک کا حوالہ درست نہیں !

از:- محمد قمر الزماں ندوی

دگھی، گڈا (جھارکھنڈ)

اسلام ایک کامل و مکمل دین ،مستقل تہذیب اور کامل دستور العمل ہے ، یہ خدا کا نازل کردہ آخری دین ہدایت ہے ،اور اب صرف یہی دین یعنی اسلام اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک قابل قبول ہے، جو اس کے علاوہ کسی اور دین کو قبول کرے گا وہ اللہ کے نزدیک ہرگز قابل قبول نہیں ہوگا ،اور وہ آخرت میں گھاٹا و نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا ۔ اسلامی شریعت، یہ خدا کا بنایا ہوا قانون ہے، یہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی شریعت ہے ،اس میں کسی انسان کا کوئی عمل دخل نہیں ہے اور نہ کسی فرد جماعت اور حکومت کو حق ہے کہ وہ منصوص اور کلی مسئلہ میں اپنی طرف سے کوئی رد و بدل کرے اور دین کے کسی مسلمہ اصول کی تشریح و تعبیر اپنے الفاظ میں اپنے من اور اپنی رائے و فکر سے کرے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے یہ دین ہم تک پہنچا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دین کی تفہیم و تشریح کا فریضہ انجام دیا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت کو اس کے لئے تیار کیا، ان کی تربیت کی ، پھر صحابہ کے ذریعہ سے یہ پورا اسلام اور پوری شریعت ہم سب کو ملی ۔

شریعت اسلامی کو انسانی دست برد سے محفوظ رکھنے کے لئے تمام مسلمانوں کو اس کا مکلف بنایا گیا ہے کہ وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں دین کو شامل اور داخل کریں ،اس پر چلیں ،اسی کے مطابق اپنے تمام مسائل حل کریں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ کو سو فیصد اپنے لئے اسوہ اور نمونہ بنائیں۔ ما آتاکم الرسول خذوہ و مانھاکم عنہ فانتھوا ۔۔۔۔ لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوة حسنة

قارئین باتمکین!

آج کی مجلس میں خاص طور پر ہمیں بات کرنی ان لوگوں کے بارے میں جو لوگ یا جو حکومت کامن سول کوڈ کے جواز کےلئے مسلم حکومتوں اور مسلم ممالک کا حوالہ دیتے ہیں ۔

اسلام مخالف طاقتوں کی طرف سے اور موجودہ خود ساختہ مفکرین کی طرف سے بھی یہ بات دہرائی جاتی ہے اور بار بار حوالہ دیا جاتا ہے کہ جب مسلم ممالک اور موجودہ اسلامی حکومت میں مسلم پرسنل لا کو ختم کیا جاسکتا ہے،اس میں تبدیلی لائی جاسکتی ہے ،اس میں رد و بدل کیا جاسکتا ہے اور حالات کے اعتبار سے اس کو اپٹوڈیث کیا جاسکتا ہے تو ہندوستان میں ایسی تبدیلی کیوں نہیں ہوسکتی؟یہاں یہ تبدیلی کیوں غلط ہوگی؟ ۔خاص کر وہ لوگ جو ہر معاملہ میں پڑوس ملک کے نام سے بدکتے ہیں ،اس معاملہ میں اس ملک کی دہائی دے کر ہندوستانی مسلمانوں کو پڑوس ملک کے مسلمانوں کی پیروی اور تقلید کا مشورہ دیتے ہیں ۔اور وہاں کی حکومت کے نقش قدم پر چلنے کی تلقین کرتے ہیں ۔

مسلم پرسنل لا کی تنسیخ یا تبدیلی کی یہ دلیل بظاہر مضبوط اور قوی معلوم ہوتی ہے ،مگر اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔پہلی بات تو یہ ہے کہ جو قرآن وحدیث کے خلاف ہے ،وہ غلط ہے،خواہ کہیں ہو رہا اور کوئی کر رہا ہو۔

مسلم ممالک کی غلط اور ناجائز کاروائی اسلامی شریعت اور اسلامی قانون نہیں کہلا سکتی ہے ،اور نہ اس بنیاد پر اسلامی قانون میں ترمیم و تبدیلی لائی جاسکتی ہے ۔جو چیز قرآن وحدیث کی روشنی میں صحیح اور درست ہے،اسے ہی صحیح اور اسلام کے مطابق کہا جائے گا۔

دوسری بات یہ ہے کہ مسلم ممالک میں پرسنل لا کی تبدیلی کا جو پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے ،وہ در حقیقت افواہ ہے اور حقیقت سے دور ہے ۔عام طور پر مسلم ممالک میں مسلم پرسنل لا نافذ ہے، اور وہاں کے لوگ دین و شریعت کے مطابق اپنے عائلی مسائل حل کراتے ہیں ۔صرف چند ممالک ایسے ہیں جہاں تھوڑی بہت تبدیلی ہوئی ہے ۔ماضی بعید میں تبدیلی کی ایک اہم مثال آپ ترکی موجودہ ترکیہ کی پیش کرسکتے ہیں ،جہاں 1926ء میں نہ صرف مسلم پرسنل لا کو ختم کردیا گیا، بلکہ انفرادی زندگی کے نظام کو درہم برہم کردیا گیا،انتہا یہ ہوئی کہ انگریزی لباس کو قانونی شکل دی گئی،عربی زبان پر پابندی عائد کر دی گئی،اسلامی عبادات پر بھی ہاتھ صاف کیا گیا ، اسلامی عائلی قوانین کو بھی ختم کردیا گیا اور مسلمانوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ مذہب و معاشرہ کے معروف و مشہور اور منصوص طریقوں سے الگ ہو جائیں ۔اس قسم کے باطل قوانین کی مخالفت کرنے والے سیکڑوں علماء شہید کر دئے گئے اور توپوں کے سائے میں اسلام اور اسلامی تعلیمات و قوانین کو حرف غلط کی طرح مٹایا گیا۔

علامہ اقبال مرحوم نے ان حالات سے متاثر ہوکر بہت ہی بے قراری اور کرب کی حالت میں کہا تھا ۔
چاک کردی ترک ناداں نے خلافت کی قبا
سادگی مسلم کی دیکھ آوروں کی عیاری بھی دیکھ

اور فرمایا تھا کہ
بیچتا ہے ہاشمی ناموس دین مصطفی
خاک و خون میں مل رہا ترکمان سخت کوش

اس وقت بھی ترک علماء اور عوام نے اس تبدیلی کو دل سے قبول نہیں کیا اور آخر کار ترکی حکومت قوانین بدلنے پر مجبور ہوئی، اور اب ترکی پھر بہت حد تک مسلم پرسنل لا کے قریب ہے اور اس پر ان کا عمل ہے ۔ خصوصا موجودہ ترکی کی، اب کیا حالت ہے؟ وہ آپ سب جانتے ہیں۔ الحمدللہ وہ ملک کس قدر اسلام کے قریب آچکا ہے، وہ سب آپ کی نگاہ اور علم میں ہے ۔
کچھ دہائی قبل پڑوس ملک میں بھی کچھ تبدیلیاں لائی گئیں ،جب وہاں فوجی حکومت وقفہ وقفہ سے قائم ہوتی رہی ،جس کا ذکر یکساں سول کوڈ کے حامی اکثر کرتے رہتے ہیں ۔اگر چہ وہاں جو تبدیلیاں ہوئیں ان کا زیادہ تر تعلق انتظامی امور سے ہے۔لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ متعدد تبدیلیاں قانون شریعت کے خلاف ہوئی ہیں اور نہ صرف ہم ہندوستانی مسلمان بلکہ وہاں کے اکثر مسلمان اس کو غلط سمجھتے ہیں ۔

جس وقت وہاں یہ تبدیلیاں لائی گئیں وہاں کے علماء اور غیرت مند مسلمانوں نے اس کے خلاف زبردست آواز اٹھائی،احتجاج کیا اور عوام الناس نے بھی علماء کا ساتھ دیا۔

مگر وہاں کی فوجی آمر حکومت نے اس کے باوجود مسلم پرسنل لا کے کچھ حصوں میں ترمیم و تبدیلی کر ڈالا ۔

ہمارا یہ ملک تو ایک عظیم جمہوری ملک ہے ،آمریت اور فوجی حکومت کو یہاں کا کوئی باشندہ اور یہاں کی حکومت پسند نہیں کرتی ،جمہوری نظام اور جمہوری طرز حکومت پر ہندوستان کو فخر حاصل ہے ،تو کیا یہاں بھی کسی کے پرسنل لا میں تبدیلی لاکر ہم آمریت اور غیر جمہوری حکومت اور اس کے نظام کی تائید کرنے کے لئے تیار ہوجانا چاہتے ہیں ؟۔ مجھے تو یقین ہے کہ نوے فیصد سے زیادہ لوگ اس نظام کو پسند نہیں کریں گے۔

یاد رہے کہ وہاں اس جزوی تبدیلی کے باوجود وہیں کے بعض صوبے میں یہ ہدایتں بھی دی گئی ہیں ،زنا کرنے والوں اور شراب پینے والوں کو سزا نائٹ کلب اور ڈانس پر پابندی ،رمضان المبارک کا احترام ،تمام عملہ کے لئے نماز کی پابندی ،عورتوں کو چست اور جاذب نظر لباس پہن کر نکلنے کی ممانعت اور اسی انداز کے اور بھی قوانین ہیں ۔۔ (مستفاد و ملخص از مضمون حضرت مولانا سید شاہ محمد منت اللّٰہ صاحب رحمانی رح بحوالہ ماہنامہ ھدایت جئے پور شمارہ مارچ 2015ء)
بہر حال اختصار کرتے کرتے بھی مضمون دراز ہوگیا اس کے لئے معذرت چاہتے ہیں ، اور یہ وعدہ کرتے ہیں کہ اس موضوع پر جتنا کچھ مواد ہوسکتا ہے ، ان شاء الگ الگ عنوان سے آپ کی خدمت میں پیش کریں گے ،تاکہ ہم کو آپ کو اس موضوع سے متعلق اچھی معلومات حاصل ہو جائے اور ہم اس پر یعنی مسلم پرسنل لا پر ہر وقت عمل کرنے کے لئے بھی تیار رہیں۔

آج کی یہ مجلس مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں ندوی رح کی چشم کشا تحریر اور اقتباس پر ختم کرتے ہیں:

” ہم اس کی بالکل اجازت نہیں دے سکتے کہ ہمارے اوپر کوئی دوسرا نظام تمدن اور عائلی قانون مسلط کیا جائے ۔ ہم اس کو دعوت ارتداد کہتے ہیں اور اس کا اسی طرح مقابلہ کریں گے جیسے کہ دعوت ارتداد کا کرنا چاہیے ۔ یہ ہمارا شہری ،آئینی ،جمہوری اور دینی حق ہے اور ہندوستان کا دستور اس جمہوری ملک کا آئین نہ صرف اس کی اجازت دیتا ہے بلکہ اس کی ہمت افزائی کرتا ہے اور شریعت اسلامی یا شعائر اسلامی سے ہماری شناخت بنتی ہے ، ہم خود اپنے عمل سے اور اپنی دینی غیرت و حمیت سے اس کی حفاظت کر سکتے ہیں ۔ اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اس اہم مسئلہ پر پوری طرح متحد ہوں ۔ الحمد للّٰہ مسلم پرسنل لا بورڈ اس اتحاد کی بہترین مثال ہے ، جو ہندوستان کے مسلمانوں کا ایک باوقار مستحکم پلیٹ فارم ہے ۔(متاع امیر صفحہ 71/ 72)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو شریعت اسلامی پر عمل کرنے کی توفیق بخشے ۔ آمین یا رب العالمین

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔