خامنہ ای کی شہادت ان شاء اللہ انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگی

از:- عبدالغفارصدیقی

وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا اور وہی ہوا جس کی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے خواہش کی تھی۔وہ چاہتے تھے کہ ان کی موت شہادت کی موت ہو،وہ دشمن کے ساتھ جنگ کرتے ہوئے اللہ کے سامنے حاضر ہوں،اس کے لیے انھوں نے کتنی دعائیں کی تھیں،کتنی مرادیں اور منتیں مانگی تھیں۔اللہ نے انھیں سرخ روکردیا۔ان کی دلی مراد پوری ہوگئی،وہ شہادت پاگئے،یہی ایک مومن کی معراج ہے۔خامنہ ای صرف ایک شخص کا نام نہیں بلکہ نظریہ اور فکر کی علامت ہے۔قطع نظر اس سے کہ ان کا مسلک کیا تھا،لیکن ان کا دین اسلام تھا،وہ قرآن مجید کی تلاوت کرتے تھے،وہ حضرت محمد ؐ پر درود بھیجتے تھے،ان کا قبلہ بھی وہی تھا جو سارے مسلمانوں کا ہے۔ان کی مساجد کا رخ روضہ علی ؓ کی طرف نہیں بلکہ مکہ میں موجود بیت اللہ ہی کی طرف ہے،فقہی منہج مختلف ہونے کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ ان کا دین الگ تھا اور ہمارا دین الگ،فقہ کی بنیاد پر درجنوں مسلک اہل اسلام میں پائے جاتے ہیں اور سب ایک دوسرے کو مسلمان ہی سمجھتے ہیں۔یہ بھی دشمن کی ایک کوشش رہی ہے کہ وہ ان اختلافات کو ہوادے کر مسلمانوں کو متحد نہ ہونے دے۔اس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہے۔دشمن جانتا ہے کہ مسلمان متحد ہوگئے تو دنیا پر غالب آجائیں گے۔

ایران کی امریکہ اور اسرائیل سے آخر کیا دشمنی تھی؟کیا ایران نے امریکہ و اسرائیل کے خطہ زمین پر قبضہ کررکھا ہے؟کیا ان کا مال ماررکھا ہے؟کیاان کو امن و سکون سے نہیں رہنے دے رہا ہے؟ظاہر ہے ان میں سے کوئی وجہ نہیں ہے۔اس کا جرم یہ ہے کہ وہ ان کی کالونی بننے پر تیار نہیں،اس کی خطا یہ ہے کہ وہ ان کی غلامی میں رہ کر عیش حاصل نہیں کرنا چاہتا،جس طرح دوسرے شاہان عرب کررہے ہیں،اس کا گناہ یہ ہے کہ وہ سیاسی اسلام کا نمائندہ اوردنیا بھر میں اسلامی تحریکات کا پشت پناہ ہے۔اس کا جرم یہ ہے کہ اس نے غزہ و فلسطین میں اسرائیلی عزائم کو ناکام کیا ہے۔وہ نہیں چاہتا کہ امریکہ ایران کے ذخائر کا مالک ہو،وہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ سمندری اور ہوائی راستوں پر امریکہ کی حکمرانی ہو،وہ اپنی عوام کو امریکہ کی غلامی میں نہیں دینا چاہتا،وہ اپنے بازاروں پر امریکہ کی اجارہ داری نہیں چاہتا۔یہی وہ جرائم ہیں جن کی سزا اسے معاشی پابندیوں کی شکل میں برسوں سے مل رہی تھی اور آج عظیم شہادت کی صورت میں ملی ہے۔
امریکہ کہتا ہے کہ ایران جوہری بم بنا رہا ہے۔جس سے خطہ کو خطرہ ہے۔ایران کا بیان ہے کہ اس کا جوہری پلان انرجی کے حصول کے لیے ہے نہ کہ ایٹم بم کے لیے اور وہ کسی کے لیے خطرہ نہیں ہے۔امریکہ کا اعلان ہے کہ ایران کو جوہری طاقت نہیں بننے دیں گے؟کیمیں عدل و انصاف کے علمبرداروں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ امریکہ و ایران مین کس کی حالیہ تاریخ خون سے آلودہ ہے۔کیاانصاف کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ دنیا امریکہ سے سوال کرے کہ ”آپ کون ہوتے ہیں یہ فیصلہ کرنے والے کہ ہم کیا بنائیں اور کیا نہ بنائیں؟کتنی عجیب بات ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد امن کے نام پر اقوام متحدہ کا قیام ہوا۔جس کے مقاصد میں تمام ممالک کی خود مختاری و آزادی کی حفاظت کرنا شامل تھالیکن اول روز سے ہی اسی اقوام متحدہ کی نگرانی میں طاقت ور نے کمزور وں پر ظلم کیا۔اقوام متحدہ باندی بن کر تماشا دیکھتی رہی اس لیے کہ عالمی جنگوں کے مجرم ممالک کو ہی ویٹو پاور دے دی گئی۔یہ عالمی انصاف کا کیسا ادارہ ہے جسے امریکہ کی بدمعاشیاں کبھی نظر نہیں آتیں؟یہ کیسی دنیا ہے؟جو ایران کے بیانیہ پر یقین کرنے کے بجائے امریکہ کی ہاں میں ہاں ملاتی رہی ہے۔جب کہ وہ عراق میں امریکی دعووں کا حشر دیکھ چکی ہے۔
امریکہ کے جنگی عزائم سے کون واقف نہیں ہے،ہیروشیماسے ایران تک درجنوں ممالک اس کی سفاکیت کے گواہ ہیں۔امریکہ کی خارجہ پالیسی کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو کئی ایسے ابواب سامنے آتے ہیں جو مہذب دنیا پر بدنما داغ ہیں۔نئی دنیا میں اس کے جرائم کی کہانی جاپان کے شہر ہیروشیما اور ناگاساکی سے شروع ہوتی ہے جن پر 1945 میں گرائے گئے ایٹمی بموں نے ایک ہی لمحے میں لاکھوں زندگیاں اجاڑ دیں۔اندازے کے مطابق صرف 1945 کے اختتام تک ہیروشیما میں تقریباً 1 لاکھ 40 ہزار اور ناگاساکی میں لگ بھگ 70 ہزار انسان لقمہ اجل بنے، جبکہ تابکاری کے اثرات نسلوں تک جاری رہے۔ ویتنام کی جنگ میں 20 سے 30 لاکھ ویتنامی ہلاک ہوئے اور کیمیائی ہتھیاروں کے اثرات آج بھی وہاں محسوس کیے جاتے ہیں۔ عراق پر 2003 کی چڑھائی کے بعد مختلف مطالعات میں 2 لاکھ سے 5 لاکھ تک اموات کا ذکر ملتا ہے، اور ملک طویل خانہ جنگی اور عدم استحکام کی نذر ہواجب کہ تباہ کن ہتھیاروں کا جو الزام عراق پر عائد کیا گیا تھا وہ ثابت نہیں ہوا۔ افغانستان میں دو دہائیوں پر محیط جنگ کے نتیجے میں تقریباً 2 لاکھ 40 ہزار جانیں ضائع ہوئیں۔ لیبیا میں 2011 کی امریکی مداخلت کے بعد ریاستی ڈھانچہ بکھر گیا اور ہزاروں افراد مارے گئے۔ اسی طرح وینزویلا پر عائد سخت معاشی پابندیوں کے نتیجے میں ہزاروں اموات ہوئیں۔اس کے صدر اور ان کے اہل خانہ کو دن کے اجالے میں اغوا کرلیا گیا۔فلسطین میں نسل کشی کے لیے اسرائیل کو ستر سال سے ہر طرح کی امداد دی گئی۔یہ تو وہ مظالم ہیں جو ماتھے کی آنکھوں سے نظر آتے ہیں،ورنہ اس نے کئی ممالک میں حکومتوں کے تختے پلٹ دیے،کتنے ہی ممالک کو معاشی امدادکے نام پر اپنا اسیر بنالیا۔

عرب حکومتیں امریکہ کی تابعداری کیوں کرتی ہیں؟حالانکہہ امریکہ سے انھیں کوئی مالی فائدہ نہیں ہے بلکہ امریکہ کو عرب حکومتوں سے بنیادی طور پر تین بڑے فائدے حاصل ہوتے ہیں: توانائی، اسلحہ کی تجارت، اور جغرافیائی سیاسی اثر و رسوخ۔ خلیجی ممالک جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر دنیا کے اہم تیل و گیس پیدا کرنے والے ممالک ہیں اور امریکہ عالمی توانائی منڈی پر اثر انداز رہتا ہے۔ دوسرا بڑا فائدہ دفاعی تجارت ہے؛ عرب ممالک امریکی اسلحہ کے بڑے خریدار ہیں، جس سے امریکی دفاعی صنعت کو اربوں ڈالر کا فائدہ ہوتا ہے۔ تیسرا اہم پہلو یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود فوجی اڈے اور سیاسی شراکت داری امریکہ کو خطے میں اسٹریٹیجک برتری دیتے ہیں، جس کے ذریعے وہ ایران، روس اور چین جیسے حریف ممالک کے اثر کو متوازن رکھتا ہے۔امریکہ کا سب سے بڑا بازار سعودی عرب ہے،جہاں 2020سے 2024تک تقریباً 500ارب ڈالر تک کا لین دین ہوا،اس کے بعد یواے ای ہے،2024 میں امریکہ اور یو اے ای کے درمیان تقریباً 47.9 ارب ڈالرکا مجموعی تجارت حجم تھا، جس میں امریکہ کی برآمدات $27.0 ارب اور درآمدات $7.4 ارب تھیں۔ اس سے امریکی سرپلس بڑھ کر $19.6 ارب ہو گیا۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ تیل پیدا کرنے والے تمام عرب ممالک اس بات کے پابند ہیں کہ وہ اپنا کاروبار ڈالر میں ہی کریں۔اس کی وجہ سے ڈالر کی قوامیت مارکیٹ میں قائم رہتی ہے۔

عرب حکمران امریکہ کی سرپرستی اور خوشنودی کے اس لیے طالب رہتے ہیں کہ وہ ان کی بادشاہت کی حفاظت کرتا ہے۔دنیا بھر میں انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کی پاسبانی کاڈھنڈورا پیٹنے والا امریکہ عرب مملکتوں میں پامال ہورہے انسانی حقوق پر خاموش رہتاہے۔عرب عوام کو اپنی پسند کے نمائندے منتخب کرنے کاسرے سے کوئی اختیار ہی نہیں۔نہ وہ اپنے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں پر تنقید کرسکتے ہیں۔اگر کوئی اختلاف رائے کی جرأت کرتا ہے تو اسے صحراؤں میں جانوروں کی خوراک بنادیا جاتا ہے۔اسلامی تحریکات کو کچلا جارہا ہے۔کبھی جنھیں اسلامی خدمات کے صلہ میں شاہ فیصل ایوارڈ سے نوازا گیا تھا آج ان کی کتابوں کو لائبریریوں سے نکالا جارہا ہے۔
یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ ان عرب حکومتوں میں مکمل اسلامی نظام نافذ ہے۔اسلام صرف نماز،روزے اور چند ظاہری رسوم کا نام نہیں ہے بلکہ وہ ایک مکمل نظام زندگی ہے۔اسلام میں بادشاہت کے لیے کوئی جگہ نہیں،وہ شورائی جمہوری نظام کا علمبردارہے،خلافت میں حکمران عوام کے سامنے جواب دہ ہیں۔عرب حکمرانوں کو اسلامی تحریکات سے اس لیے خوف ہے کہ اگر انھیں جگہ مل گئی تو ان کی بادشاہت کا خاتمہ ہوجائے گا۔بس یہی خوف انھیں امریکہ کے زیر سایہ رہنے پر مجبور کرتا ہے۔امریکہ بھی ان کو یہی خطرہ دکھا کر بلیک میل کرتا ہے۔چونکہ ایران کی موجودہ رجیم اسلامی تحریکات کی حمایت کرتی ہے،اس لیے سنی عرب ممالک ایران سے عداوت رکھتے ہیں۔امریکہ انھیں یہ باورکراتا ہے کہ ایران ان کی بادشاہت کو ختم کردے گا اس لیے ایران کا کمزور رہنا ضروری ہے۔

آخرعرب حکمران دفاعی شعبہ میں خود کفیل کیوں نہیں ہونا چاہتے،مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کو ہر طرح کے ہتھیار رکھنے اور ایٹمی طاقت بننے کا اختیار حاصل ہے اور اس عمل میں اس کی ہر طرح مدد بھی کی جارہی ہے اور عرب حکومتوں کو ایک فائٹر جیٹ رکھنے کی اجازت بھی نہیں ہے۔کیا اتنی موٹی بات شاہوں کی سمجھ میں نہیں آتی؟وہ کیوں اسلامی رجیم سے خوف زدہ ہیں؟ صرف دنیا کے عارضی عیش کے لیے،کیا وہ یہاں ہمیشہ رہیں گے؟کیا انھیں اللہ کو منہ نہیں دکھانا ہے؟وہ کعبۃ اللہ اور روضہ نبوی کے مجاوربن کر اہل اسلام سے دولت کمارہے ہیں،خود کو خادم الحرمین کہتے ہیں اور دین اسلام کا سودا باطل سے کرتے ہیں۔

کیا خامنہ ای کی شہادت سے ایران کمزور پڑجائے گا؟ایسا نہیں ہے۔جیسا کہ میں نے ابتداء میں عرض کیا کہ خامنہ ای کسی ایک شخص کا نام نہیں ہے،بلکہ ایک نظریہ کا نام ہے اور نظریہ کبھی مرتا نہیں ہے۔وہ ناکام ہونے کی صورت میں بھی زندہ رہتا ہے۔اس کی تازہ مثال بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی ہے۔جسے پندرہ سال تک قیدوبند میں رکھاگیا،اس کی قیادت کو سولی پر لٹکادیا گیا،اس کی املاک و دفاتر اور تمام وسائل پر قدغن لگادیے گئے،لیکن کیا وہ ختم ہوگئی؟کیا اس کے نام لیوا کم ہوگئے؟نہیں،بلکہ وہ دلوں میں زندہ رہی،اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوااور جیسے ہی اسے کھلی ہوا میں سانس لینے کا موقع ملا اس نے اپنی طاقت کا مظاہرہ پیش کردیا۔ دنیا میں جو تحریکیں نظریات کی بنیاد پر قائم ہوتی ہیں وہ قیدو بند اور دارورسن سے مزید غذا حاصل کرتی ہیں۔ چہ جائیکہ اسلامی تحریکات جن کے لیے موت بھی ابدی حیات کا پیغام لاتی ہے اور ہر ستم پر ان کی زبان”فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ“(ربِ کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا۔)کا نعرہ بلند کرتی ہے۔اس اصول کی بنیاد پر ایران میں موجودہ رجیم بھی باطل کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے گی،بلکہ میدان جنگ میں کارہائے نمایاں انجام دے گی خواہ اس راہ میں اس کے کتنے ہی جیالے اور رہبر کام آجائیں۔مجھے یقین ہے کہ آیت اللہ امام سید علی حسینی خامنہ ایؒ کی شہادت نہ صرف ایران کو عظمت عطا کرے گی بلکہ ساری دنیا میں عدل و انصاف پر مبنی اسلامی نظریہ کی فوقیت و برتری اور مثبت انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔