خیالات کو حقیقت میں کیسے تبدیل کریں

از:- ڈاکٹر ظفردارک قاسمی

خیالات و احساسات کی دنیا بھی بڑی عجیب و غریب ہوتی ہے جب ان کا تعلق سماجی اور معاشرتی مسائل سے ہوتا ہے تو ایسے خیالات کی عظمت میں چار چاند لگ جاتے ہیں ۔ البتہ جب یہ خیالات واہیات اور غیر ضروری مسائل سے وابستہ ہوتے ہیں تو ایسے خیالات کی معاشرے میں کوئی وقعت نہیں ہوتی ہے ۔ اس لیے خیالات کو ہمیشہ ایسے مسائل اور نظریات سے وابستہ کیا جائے جن کا تعلق سماج ، قوم اور ملک سے ہو تاکہ سماج ان کی اہمیّت کو نظر انداز نہ کرسکے ۔ دریں اثنا اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کہ تاریخِ انسانی اس حقیقت سے بھری پڑی ہے کہ عظیم تہذیبیں اور تحریکیں ایک خیال سے شروع ہوئیں۔ سائنس میں ترقی ہو یا فلسفہ، سیاست ہو یا سماجی اصلاحات ہر میدان میں خیال نے ہی حقیقت کی بنیاد رکھی۔ تعلیم کی ترویج، انسانی حقوق کا شعور، عدل و انصاف کا قیام، یہ سب ایسے خیالات تھے جو وقت کے ساتھ عملی صورت اختیار کر گئے اور انہیں کی بنیاد پر آج معاشرے زندہ ہیں۔

انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ دنیا میں جتنی بھی ترقی، ایجادات و اختراعات، سماجی ، سیاسی اور معاشی تبدیلیاں اور فکری و نظریاتی انقلابات رونما ہوئے ہیں، ان سب کی بنیاد بھی خیال و فکر پر قائم ہے۔ خیال دراصل انسانی ذہن کی وہ تخلیقی قوت ہے جو انسان کو دیگر تمام مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے۔ اس کی عظمت و جلالت میں چار چاند لگاتی ہے ۔ یہی خیال جب شعوروتدبر ، ارادہ اور عمل کے مراحل سے گزرتا ہے تو محض ایک تصور نہیں رہتا بلکہ حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے۔ اسی عمل و کردار کو ہم خیالات کا حقیقت میں بدل جانا کہتے ہیں۔ یہ حقیقت واضح رہنی چاہیے کہ خیال کی ابتدا انسانی ذہن میں ایک سوال، ایک خواہش یا ایک مسئلے کے حل کے طور پر آتی ہے۔ انسان جب کسی کمی، ناانصافی، مشکل یا امکان کو محسوس کرتا ہے تو اس کے ذہن میں ایک تصور اور ایک نظریہ جنم لیتا ہے کہ ان حالات کو کیسے بدلا جا سکتا ہے اور معاشرے سے ان تمام غیر سنجیدہ عوامل کا قلع قمع کیسے ہو ۔ ہاں یہ سچ ہے کہ یہ ابتدائی خیال اکثر غیر واضح اور مبہم ہوتا ہے کیونکہ انسان کے ذہن میں سماج سے برائی کو معدوم کرنے اور اچھائی کو نافذ کرنے کا خیال و تصور تو ہوتا ہے مگر اس کو عملی جامہ پہنانے کا مکمل یا دوسرے الفاظ میں اس کا اگلا قدم کیا ہوگا اس حوالے سے اس کے پاس کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں ہوتا ہے ۔ مگر یہی مبہم تصور آگے چل کر واضح منصوبہ اور ٹھوس عمل میں تبدیل ہو جاتا ہے ۔ اس طرح یہ کہنا بجا ہے کہ خیال حقیقت کی پہلی اینٹ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: زمانے کے تغیرات اور مسلمان

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خیال کو حقیقت میں بدلنے کے اسباب و عوامل کیا ہیں۔ اس حوالے سے جب ہم ماہرینِ نفسیات کی آراء اور ان کے افکار و نظریات کا مطالعہ کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ خیالات کو حقیقت میں بدلنے کا پہلا بنیادی عنصر شعورو فہم، تدبر و تفکر اور ادراک و بصیرت جیسی صفت ہے۔ انسان جب اپنے خیال کی نوعیت، اس کے تقاضوں اور اس کے نتائج پر غور کرتا ہے تو خیال پختگی اختیار کرتا ہے۔ محض وقتی جذبات یا خام خیالات دیرپا حقیقت میں تبدیل نہیں ہو سکتے۔ اس کے لیے گہرے غور و فکر، علم اور بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے بڑے مفکرین اور مصلحین نے ہمیشہ علم اور تدبر کو خیال کی بنیاد قرار دیا ہے۔ جب اس تناظر میں انسان آگے بڑھتا ہے تو وہ اپنے بصیرت اور فہم و شعور کے ذریعہ خیال کو حقیقت میں تبدیل کردیتا ہے اور یہ خیال چوںکہ شعور اور آگاہی کی بنیاد پر اپنا ہدف طے کرتا ہے تو اس کے نتائج بھی معاشرے پر بڑے گہرے اور سنجیدہ مرتب ہوتے ہیں ۔ اس کے برعکس ہر وہ خیال اور نظریہ جو فہم و شعور اور علم و بصیرت پر مبنی نہیں ہوتا ہے وہ خیال محض ادھورا اور ناقص ہوتا ہے، اس خیال سے معاشرہ اس قدر استفادہ نہیں کر پاتا ہے جتنا استفادہ اس خیال سے کرتا ہے جو علم و تحقیق اور شعور و آگہی پر مبنی ہوتا ہے ۔ لہٰذا سماج میں ہر وقت ایسے خیال کی اہمیّت و افادیت تسلیم کی جاتی ہے جو شعور و آگہی سے آراستہ و پیراستہ ہوتا ہے۔

خیال کو حقیقت میں بدلنے کا دوسرا اہم عنصر یقین اور خود اعتمادی ہے۔ جب تک انسان خود اپنے خیال پر اعتماد نہ کرے، وہ دوسروں کو اس پر قائل نہیں کر سکتا۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ بہت سے عظیم خیالات ابتدا میں مذاق، مخالفت اور تنقید کا نشانہ بنے، مگر جن لوگوں نے اپنے نظریے پر یقین رکھا، وہی کامیاب ہوئے۔ یقین انسان کو حوصلہ دیتا ہے کہ وہ مشکلات کے باوجود اپنے راستے پر قائم رہے۔ اس لیے خیال کو اگر حقیقت میں میں بدلنا ہے تو بنیادی طور پر ایسے فرد کو یقین اور خود اعتمادی جیسی بنیادی قدر کو مستحکم کرنا ہوگا ۔

یہ بھی پڑھیں: بنگال میں سیاسی طوفان کی آہٹ

ظاہر ہے جب انسان کو اپنے نظریہ پر خود ہی اعتماد و بھروسہ نہیں ہوگا تو وہ اس کو حقیقت میں کس طرح تبدیل کرسکتا ہے ؟ خود اعتمادی اور یقین کامل سے وہ کمزور خیال کو بھی حقیقت کا رنگ دے سکتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا بجا ہے کہ خیال کو حقیقت میں بدلنے کے لیے خود اعتمادی کی ضرورت سے قطعی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ گویا خود اعتمادی انسان کی شخصیت کی ایک بنیادی اور نہایت اہم خوبی ہے۔ خود اعتماد انسان حالات سے خوف زدہ نہیں ہوتا بلکہ مسائل کا سامنا حوصلے اور دانش مندی سے کرتا ہے۔ خود اعتمادی انسان کو آگے بڑھنے، درست فیصلے کرنے اور ناکامیوں سے سیکھنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔ یہ خوبی تعلیم، کردار اور مثبت سوچ کے ذریعے پروان چڑھتی ہے۔ جس فرد میں خود اعتمادی ہوتی ہے وہ دوسروں کے دباؤ میں آئے بغیر اپنی راہ متعین کرتا ہے اور معاشرے میں ایک فعال، باوقار اور مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔ خود اعتمادی کے بغیر صلاحیتیں بھی دب کر رہ جاتی ہیں اور خیال کو بھی حقیقت میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا ہے ۔

خیال کو حقیقت میں تبدیل کرنے اور اس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تیسرا مرحلہ ارادہ اور عزم مصمم ہے۔ خیال کو حقیقت میں بدلنے کے لیے مضبوط ارادے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ارادہ وہ قوت ہے جو انسان کو خواب دیکھنے سے آگے بڑھا کر عملی میدان میں لے آتی ہے۔ کمزور ارادہ بڑے سے بڑے خیال کو بھی ناکامی میں بدل سکتا ہے، جبکہ مضبوط عزم معمولی خیال کو بھی عظیم حقیقت میں ڈھال سکتا ہے۔ ارادہ انسان کے اندر نظم و ضبط اور مستقل مزاجی پیدا کرتا ہے۔ ہم نے پڑھا ہے کہ عزم مصمم کسی کام کو انجام دینے میں کتنا ضروری ہے۔ جب انسان عزم و ہمت اور استقلال سے مسلح نہیں ہوگا اس وقت تک وہ کسی بھی کام اور نظریہ یا فکر کو کامیابی سے ہمکنار نہیں کر سکتا ہے ۔ عزم مصمم مشکل تر کام کو بھی آسان بنا سکتا ہے ۔ عزم مصمم نہیں تو آسان تر کام بھی مشکل اور محال ہو جاتا ہے ۔ خیال کو حقیقت میں تبدیل بھی اسی وقت کیا جاسکتا ہے جب کہ عزم مصمم پایا جاتا ہو ۔ آج بہت سارے مثبت خیالات ہمارے ذہنوں میں جنم لیتے ہیں لیکن وہ حقیقت میں محض اسی لیے تبدیل نہیں ہوپاتے ہیں کہ ان کے انجام دینے کے لیے عزم و ارادہ کمزور ہے ۔ چنانچہ کسی بھی مثبت خیال اور نظریہ کو حقیقت میں بدلنے کے لیے عزم پختہ کرنا ہوگا۔

خیال و فکر اور نظریہ کو حقیقت میں تبدیل کرنے کاچوتھا اور سب سے اہم مرحلہ عمل ہے۔ یہ سب جانتے ہیں کہ عمل کے بغیر خیال محض ایک تصور رہ جاتا ہے۔ تاریخ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ دنیا میں کوئی بھی تبدیلی آج تک بغیر عمل کے ممکن نہیں ہوسکی ہے ۔ اس لیے عمل وہ شئ ہے جو خیال کو حقیقت سے جوڑتی ہے۔ ہاں یہ بات درست ہے کہ یہ عمل کبھی فوری نتائج نہیں دیتا بلکہ مرحلہ وار آگے بڑھتا ہے۔ اسی لیے عملی زندگی میں منصوبہ بندی، حکمتِ عملی اور تدریج کو بہت اہمیت حاصلِ ہے۔ عمل کے بعد فوری نتائج کی امید کرنا اس لیے بھی مناسب نہیں ہے کہ پھر اس کام میں ثبات اور پائداری نہیں ہوتی ہے ۔ ہمارا مزاج یہ ہے کہ ہم عمل کے بعد فوری نتیجہ دیکھنا چاہتے ہیں، اس لیے بہت سارے مثبت خیالات اور افکار و نظریات ناکام ہوگئے کہ ان خیالات کو عمل کی دنیا میں نہیں لے جایا گیا ۔
عمل کے دوران انسان کو صبر اور استقامت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ابتدائی کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں یا نتائج توقع کے مطابق نہیں نکلتے۔ اس لیے یہاں پہنچ کر بہت سے لوگ اپنے خیالات سے دستبردار ہو جاتے ہیں، مگر جو لوگ صبر اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہیں، وہی کامیابی کی منزل تک پہنچتے ہیں۔ ناکامی دراصل سیکھنے کا ایک مرحلہ ہے جو خیال کو مزید نکھارتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جیفری اپسٹین فائل کی حقیقت

خیالات کو حقیقت میں بدلنے میں سماجی ماحول کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ سماج کا رول خیال کو حقیقت تک لے جانے میں اس لیے بھی اہم ہے کہ اس خیال کا تعلق سماج سے ہی ہوتا ہے ۔ اگر کوئی جدید خیال کسی صاحب نظر کے ذہن میں آتا ہے تو سماج کو چاہیے کہ اس کو کھلے دل اور کھلے من سے قبول کرے۔ گویا ایک مثبت، علمی اور حوصلہ افزا ماحول کا سماج میں پایا جانا ناگزیر ہے ۔ جبکہ منفی اور جمود کا شکار ماحول تخلیقی خیالات کو دبا دیتا ہے۔ اسی لیے مہذب معاشرے علم، مکالمے اور آزادیِ فکر کو فروغ دیتے ہیں تاکہ نئے خیالات جنم لے سکیں اور حقیقت کا روپ دھار سکیں۔ عہد حاضر میں جب ہم اپنے سماج پر نظر ڈالتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ کہ ہمارا معاشرہ جدید نظریات اور افکار و خیالات کے متعلق افراط و تفریط کا شکار ہے ۔ معاشرے کا ایک طبقہ وہ ہے جو نئے خیالات کو حرف آخر سمجھتا ہے ، اور طبقہ وہ ہے جو کسی بھی خیال اور نظریہ کو قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہے ۔ اس لیے کوئی بھی مثبت خیال اسی وقت حقیقت میں تبدیل ہوسکتا ہے جب معاشرے میں اس کے متعلق متوازن آراء پائی جائیں۔

یہاں اس بات کا اظہار بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی فکر میں بھی خیال و فکر اور عمل کا گہرا تعلق پایا جاتا ہے ۔ اسلامی تعلیمات انسان کو تدبر و تفکر اور تعقل و تذکر کی دعوت دیتی ہیں اور ساتھ ہی عمل صالح پربھی زور دیتی ہیں۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ محض سوچ کافی نہیں، بلکہ درست فکر کو نیک عمل کے ساتھ جوڑنا ہی حقیقی تبدیلی کا ذریعہ بنتا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ خیالات کا حقیقت میں بدل جانا ایک طویل مگر بامعنی سفر ہے۔ اس سفر میں شعور، یقین، ارادہ، عمل ، استقامت اور سماج کا توسع پسند ہونا سب لازم و ملزوم ہیں۔ جب انسان اپنے خیال کو مقصد بنا لے، اس کے لیے محنت کرے اور مشکلات سے نہ گھبرائے تو خیال محض ذہنی تصور نہیں رہتا بلکہ ایک زندہ حقیقت بن کر دنیا میں اثر انداز ہوتا ہے۔ یہی وہ عمل ہے جو افراد کو عظیم بناتا ہے اور قوموں کی تقدیر بدل دیتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں ایسے بہت سارے افراد اور نوجوان ہیں جو خیالات کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے خواہاں تو ہیں مگر متذکرہ بالا اسباب و عوامل سے ہم آہنگ نہ ہونے کی وجہ سے اپنے مثبت اور تعمیری خیالات حقیقت میں تبدیل نہیں کر پاتے ہیں ۔

مضمون نگار مصنف اور نیو ایج اسلام کے مستقل کالم نگار ہیں ۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔