حکمراں اتحاد میں تبدیلی کی چہ مگوئیاں؛ امکان ہے کہ وزیر اعلیٰ کا عہدہ بی جے پی کے کسی رہنما کو ملے
پٹنہ/سیل رواں ڈیسک
بہار کی سیاست میں ممکنہ تبدیلیوں کی قیاس آرائیاں زور پکڑتی جا رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ریاست کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو راجیہ سبھا بھیجے جانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو بہار میں نئی قیادت کے انتخاب کا سوال اہم ہو جائے گا۔
سیاسی حلقوں کے مطابق حکمراں اتحاد نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کے اندر اس امکان پر گفتگو جاری ہے کہ نتیش کمار کو مرکزی سیاست میں کردار دیا جائے اور انہیں پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا میں بھیجا جائے۔ اس صورت میں بہار میں وزیر اعلیٰ کے عہدے پر نئی تقرری ناگزیر ہوگی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر نتیش کمار راجیہ سبھا منتقل ہوتے ہیں تو ریاست میں وزیر اعلیٰ کا منصب ممکنہ طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے کسی سینئر رہنما کو دیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں پارٹی لیڈروں میں سے متعدد نام زیر غور بتائے جا رہے ہیں، تاہم ابھی تک کسی ایک نام پر اتفاق رائے سامنے نہیں آیا۔
ادھر سیاسی مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں نتیش کمار کے بیٹے نشانت کمار کو بھی عملی سیاست میں متعارف کرائے جانے کے امکانات پر گفتگو ہو رہی ہے، اگرچہ اس بارے میں سرکاری سطح پر کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
فی الحال اس پورے معاملے پر حکمراں اتحاد کی آئندہ سیاسی سرگرمیوں اور اندرونی مشاورت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر یہ تبدیلی عمل میں آتی ہے تو یہ بہار کی سیاست میں ایک بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔