پٹنہ20؍جنوری 2026
____________________
ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ جناب مولانا مفتی محمد سعیدالرحمن قاسمی نے آزاد اور غیر ملحق دینی مدارس کےسلسلہ میں آلہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے مدارس کے آئینی حقوق کوتحفظ دینے اور اس کے دستوری ڈھانچے کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے وقارواعتبار کو مجروح ہونے سے بچایا کیونکہ دستور ہندنے مدرسہ کھولنے کا حق دیا ہے ،دستور کی دفعہ 30 میں یقین دہائی کرائی گئی ہےکہ ہراقلیت کو اپنے مذہبی، لسانی ،تقافتی اور تعلیمی تحفظ اورترقی کے لئے تعلیم دینے اورتعلیمی ادارے قائم کرنے کا حق ہے ،جس کو سپریم کورٹ کی ایک رولنگ 97-96میں تعلیم کو بنیادی حق میں شمار کیا گیا ہے ،لیکن ارباب اقتدار پہلے مرحلہ میں غیر منظور شدہ مدارس کو بند کرنا چاہتے ہیں ،پھر دوسرے مرحلہ میں منظور شدہ مدارس کے نصاب اور طریقہ تعلیم میں ایسی تبدیلی لانا چاہتے ہیں کہ وہ مدارس ہی باقی نہ رہ سکیںچنانچہ الہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلہ نے شب خون مارنے والوں کے ہاتھ پاؤں کوپابند سلاسل کر دیا کہ دستورہند میں اقلیتوں کو تعلیمی ادارے چلانے کا پوراحق حاصل ہے ،ناظم صاحب نے کہا کہ یو پی کی حکومت نے شرداوتی کے تیس مدارس کو غیر قانونی کا مفروضہ بتا کر بند کرنے کامنصوبہ بنایا جس کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ میں رٹ پیٹشن داخل کیا گیا ،عدالت نے دوٹوک انداز میں صاف کردیا کہ محض عدم منظور ی کی بنیاد پر کسی مدرسہ کو نہ بند کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس کی تعلیمی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جاسکتی ہے عدالت نے اپنے فیصلہ میں یہ بھی کہا کہ اتر پردیش غیرسرکاری عربی وفارسی مدارس ریگولیشن میں ایسا کوئی اختیار موجود نہیں جس کی بنیاد پر انتظامیہ غیر منظور شدہ دینی اداروںکو بند کر سکے ،یہ دراصل عدالت عظمیٰ کے آئینی اصول کی توثیق ہے اور امید کی جانی چاہیے کہ یہ فیصلہ ملک کی تمام دوسری ریاستوں کی عدالتوں کے لئے ایک نظیر ثابت ہو، ،ناظم صاحب نے مزید کہا ارباب مدارس کو بھی اپنی ذمہ داریاں محسوس کرنی چاہیے اور ملک کے بدلتے ہوئے منظر ناموں میں مدارس کی حفاظت اورترقی کیلئے فکر مند رہنا چاہیے ،نظام تعلیم کو بہتر سے بہتر بنانے کی جدوجہد کرنی چاہیے،نظام میں شفافیت سے ادرے کا وقار و معیار بلندہو تا ہے ا سلئے کہ مدارس اسلام کے مضبوط قلعے ہیں جہاں علم دین کی اشاعت کے ساتھ امن وسکون کا پیغام ملتا ہے ،یہ وہ مدارس ہیں جہاں کے فضلاء نے تحریک آزادی میںقائدانہ کردار اداکیا ،اصحاب مدارس علماء کی سرفروشانہ قربانیوں کا باربار تذکرہ کریں اور ملی وسماجی تقریبات میں برادران وطن کو مدعو کرکے ان کے سامنے مدارس کے علماءکرام کی مجاہدانہ کاوشوں کا تذکرہ کریں۔