مدارس کے طلبہ سے مثالی علماء تک صلاحیت اور خود اعتمادی کا سفر

خامہ بکف: محمد عادل ارریاوی

_____________________

آج کے دور میں مدارس کے طلبہ کے اندر ایک قابلِ غور اور تشویش ناک رجحان یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ ان میں سے اکثر طلبہ انجمنوں اور ادبی و تعلیمی سرگرمیوں میں دلچسپی نہیں لیتے اور نہ ہی ان میں عملی طور پر حصہ لیتے ہیں۔ حالانکہ یہی انجمنیں طلبہ کی شخصیت سازی ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور ان کے اندر اعتماد پیدا کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہوتی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جب طلبہ ان مواقع کو نظر انداز کرتے ہیں تو اس کے منفی اثرات بعد میں ظاہر ہوتے ہیں جو بسا اوقات نہایت شرمندگی کا باعث بنتے ہیں۔
اگر آج ایک طالب علم اپنے زمانۂ طالب علمی میں انجمن سے وابستہ نہیں ہوگا اس میں شرکت نہیں کرے گا اور اپنی تقریری و تحریری صلاحیتوں کو پروان نہیں چڑھائے گا تو کل جب وہ عالمِ دین بن کر مدرسہ سے فارغ ہوگا اور اسے کسی مسجد میں خطاب کرنے یا کسی جلسہ میں وعظ و نصیحت کرنے یا عوام کے سامنے دین کی بات رکھنے کا موقع دیا جائے گا تو اس وقت وہ شدید پریشانی اور شرمندگی کا شکار ہوگا کیونکہ اسے مؤثر انداز میں بات کرنا ہی نہیں آئے گا۔
یہ بات درست ہے کہ درسی کتابیں پڑھ کر ایک طالب علم عالم تو بن سکتا ہے وہ علمی طور پر مضبوط بھی ہو سکتا ہے لیکن اگر اس کے اندر اظہارِ بیان کی صلاحیت نہیں ہے تو اس کا علم محدود ہو کر رہ جائے گا اور صرف خاص طبقہ ہی اس سے فائدہ اٹھا سکے گا۔ عوام الناس تک دین کی بات پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے پاس اچھی تقریر کرنے کی صلاحیت ہو وہ اپنے خیالات کو واضح مؤثر اور دلنشین انداز میں پیش کر سکے۔

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم ایسے عالم بنیں جو صرف خاموش نہ ہوں بلکہ بہترین مقرر ہوں جو لوگوں کے دلوں میں اتر کر بات کریں جن کی گفتگو میں اثر ہو جو خاص اور عام دونوں طبقوں کے لیے مفید ثابت ہوں۔ ایسا عالم جو اپنے علم کو زبان دے سکے جو اپنے پیغام کو لوگوں تک صحیح انداز میں پہنچا سکے وہی درحقیقت کامیاب عالم ہے۔

اسی لیے ضروری ہے کہ بچوں کو بچپن ہی سے تحریر و تقریر کی عادت ڈالی جائے انہیں لکھنے کی مشق کروائی جائے بولنے کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ ان کے اندر اعتماد پیدا ہو اور وہ مستقبل میں ایک اچھے مصنف اور بہترین مقرر بن سکیں۔ تحریر سیکھنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس کے ذریعے انسان اپنے خیالات کو محفوظ کر سکتا ہے اور دوسروں تک آسانی سے پہنچا سکتا ہے۔

ہر طالب علم کو چاہیے کہ وہ ہر فن میں مہارت حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ صرف ایک ہی میدان تک خود کو محدود نہ رکھے بلکہ حالات کے مطابق جس فن کی ضرورت پیش آئے اس میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرے۔ ایک ہمہ جہت شخصیت ہی معاشرے میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔

میں تمام طلبہ سے نہایت خلوص کے ساتھ گزارش کرتا ہوں کہ وہ مدرسہ کی چار دیواری کے اندر رہتے ہوئے اپنے وقت کو قیمتی سمجھیں اور ہر ممکن فن میں مہارت حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ چاہے وہ تقریر ہو تحریر ہو یا کوئی اور مفید ہنر ہر چیز کی مشق کریں۔ اپنے اساتذہ سے رہنمائی حاصل کریں اپنے ساتھیوں سے سیکھیں اور اپنے آپ کو ہر لحاظ سے بہتر بنانے کی کوشش کریں۔

یاد رکھیں وہی طالب علم کامیاب ہوتا ہے جو سیکھنے کا جذبہ رکھتا ہے محنت کرتا ہے اور اپنے اندر کی صلاحیتوں کو پہچان کر انہیں نکھارتا ہے۔
اللہ ربّ العزت ہم سب کو عالم با عمل بنائے دین کا پکا سچا رہبر بنائیں آمین یارب العالمین ۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔