کپتان گنج بستی (خصوصی نمائندہ):
ملک کے طول و عرض میں قائم متعدد مدارسِ اسلامیہ، دینی و علمی مراکز اور بالخصوص دارالعلوم اہلِ سنت فیض النبی کپتان گنج بستی میں 16 ذی القعدہ 1447ھ بمطابق 4 مئی 2026ء بروز دوشنبہ، شیرِ ملت، قوم و ملت کے بے باک ترجمان، مجاہدِ سنیت، مردِ آہن، محسنِ قوم و ملت، ناشرِ مسلکِ اعلیٰ حضرت، عاشقِ اعلیٰ حضرت، خلیفۂ حضور مفتیِ اعظم ہند و حضور مجاہدِ ملت، حضرت علامہ الحاج عبد القدوس کشمیری نور اللہ مرقدہ (سابق خطیب و امام ہانڈی والی مسجد و سابق صدر آل انڈیا تبلیغِ سیرت، ممبئی مہاراشٹر) کا بیسواں سالانہ عرسِ مقدس نہایت تزک و احتشام، عقیدت و احترام اور روحانیت کے ساتھ منایا گیا۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد درود و سلام پیش کیا گیا۔ اس موقع پر قرآن خوانی، ایصالِ ثواب، فاتحہ خوانی، ذکر و اذکار، نعت و منقبت اور دعائیہ محافل کا اہتمام کیا گیا۔ ساتھ ہی حضرت شیرِ ملت رحمۃ اللہ علیہ کی حیاتِ طیبہ، علمی و دعوتی خدمات، مسلکی استقامت اور ملی و سماجی کارناموں پر مفصل روشنی ڈالی گئی۔ اس موقع پر دارالعلوم ہذا کے طلبۂ کرام نے کثیر تعداد میں شرکت کر کے عقیدت کے ساتھ خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اس موقع پر جاری کردہ پریس ریلیز میں خلیفۂ حضور شیخ الاسلام، ادیبِ باکمال حضرت مفتی عباس ازہری مصباحی (شیخ الادب ادارہ ہذا) نے فرمایا کہ شیرِ ملت حضرت علامہ عبد القدوس کشمیری رحمۃ اللہ علیہ اپنے عہد کے جلیل القدر عالم، بے باک خطیب اور اہلِ سنت کے مخلص ترجمان تھے۔ آپ نے جرأت و استقامت کے ساتھ باطل نظریات کا رد کیا اور حق و صداقت کا پرچم بلند رکھا۔ آپ کی حیاتِ مبارکہ اشاعتِ دین، خدمتِ ملت اور مسلکِ اعلیٰ حضرت کے فروغ کے لیے وقف رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اکابرینِ دین کی یاد منانا دراصل ان کی تعلیمات کو زندہ رکھنے اور نئی نسل کو دینی اقدار سے جوڑنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔
اسی تسلسل میں خطیبِ ملت، مبلغِ اہلِ سنت حضرت مفتی افتخار علیمی (مہتمم نوری جامع مسجد پگار بستی) نے فرمایا کہ شیرِ ملت کی حیاتِ مبارکہ حق گوئی، اتحادِ ملت، اخلاص و للہیت اور خدمتِ خلق کا درخشاں نمونہ ہے۔ انہوں نے اپنے دور میں خلوص و للہیت کے ساتھ قوم و ملت کی رہنمائی کی اور دینی اقدار کے تحفظ کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔ آج کے پُر فتن دور میں ان کی تعلیمات ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حضرت علامہ عبد القدوس کشمیری رحمۃ اللہ علیہ ان نابغۂ روزگار شخصیات میں سے تھے جن کی زندگی جرأتِ اظہار، خدمتِ دین اور قیادت و رہنمائی سے عبارت تھی۔ آپ سابق خطیب و امام ہانڈی والی مسجد ممبئی تھے، مگر آپ کا منبر محض ایک مسجد تک محدود نہ تھا بلکہ آپ پوری قوم کے احساسات کے ترجمان اور اہلِ سنت کی توانا آواز تھے۔ آپ کے خطابات میں تاثیر، فکر میں گہرائی اور کردار میں غیر معمولی استحکام پایا جاتا تھا۔ 1992 کے ممبئی فسادات کے نازک حالات میں آپ نے دیگر اکابر علماء کے ساتھ میدانِ عمل میں اتر کر ملت کی رہنمائی، دلجوئی اور حوصلہ افزائی کا فریضہ انجام دیا۔
آپ کا ایک بصیرت افروز ارشاد آج بھی اہلِ درد کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہے:
“ایسا کوئی کام نہ کرنا کہ قوم کا جنازہ تمہارے کندھوں پر جائے، بلکہ تمہارا جنازہ قوم کے کندھوں پر اٹھے۔”
یہ الفاظ خدمتِ ملت، ایثار اور باوقار زندگی کا جامع درس دیتے ہیں۔
آپ کی شخصیت جلال و جمال کا حسین امتزاج تھی—حق کے معاملے میں فولاد اور کمزوروں کے لیے سراپا شفقت۔ آپ نے مدارس و مساجد کی سرپرستی، نوجوانوں کی دینی تربیت اور اتحادِ ملت کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ محض خطیب نہیں بلکہ ایک عملی قائد تھے، جنہوں نے قوم کو علم، کردار اور شعور کی راہ دکھائی۔
آپ کے وصال کو دو دہائیاں گزر چکی ہیں، مگر آپ کی یادیں، خدمات اور افکار آج بھی زندہ ہیں اور اہلِ سنت کے قلوب کو منور کر رہے ہیں۔ آپ کے جانشین شہزادۂ شیرِ ملت حضرت علامہ اعجاز احمد کشمیری صاحب قبلہ (خطیب و امام ہانڈی والی مسجد و نائب صدر جمعیت علمائے اہلِ سنت، ممبئی) اسی مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے دینی، ملی اور سماجی میدان میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
تقریب کے دوران طلبۂ دارالعلوم نے حمد و نعت اور منقبت کے ذریعے اپنے جذباتِ عقیدت کا اظہار کیا، جبکہ علماء و فضلاء نے حضرت شیرِ ملت کی علمی بصیرت، روحانی فیوض و برکات اور اصلاحی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ پورا ماحول محبتِ رسول ﷺ، عقیدت و روحانیت سے معطر رہا۔
آخر میں حضرت علامہ عبد القدوس کشمیری نور اللہ مرقدہ کے ایصالِ ثواب کے لیے اجتماعی دعا کی گئی، جس میں امتِ مسلمہ کی سلامتی، اتحاد، ترقی اور ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے خصوصی مناجات پیش کی گئیں۔ حاضرین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اکابرینِ اہلِ سنت کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے دینِ اسلام کی خدمت اور اشاعت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔
اللہم اغفر لہ وارحمہ، ونور مرقدہ، وادخلہ فی جنت الفردوس، وارفع درجاتہ فی علیین، بجاہ سید المرسلین ﷺ۔ آمین۔