مشرقِ وسطیٰ: آگ اور خون کے درمیان ایک فیصلہ کن موڑ

از:- محمد قمر الزماں ندوی

ایران پر امریکہ اور اسرائیل نے اچانک حملہ کرکے عالم انسانی کی تاریخ کا ایک اور ورق سیاہ کر دیا اور تمام اخلاقی اقدار اور انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا کر پوری دنیا میں خوف و دہشت اور غیر یقینی صورتحال پیدا کر دیا ہے۔

اس جنگ کے جو دور رس اثرات مرتب ہوں گے اور انسانی جانوں کا جو ضیاع ہوگا نیز جو معاشی تباہی پیدا ہوگی اس کا اندازہ لگانا ممکن نہیں ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت تاریخ کے ایک نہایت نازک اور فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے۔ یہ خطہ، جو صدیوں سے تہذیبوں کا گہوارہ اور عالمی سیاست کا محور رہا ہے، آج پھر آگ اور خون کی لپیٹ میں ہے۔ حالیہ کشیدگی خصوصاً خلیجی ممالک، اسرائیل اور جنوبی لبنان کے گرد بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے پورے عالمِ عرب کو اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ خلیجی ریاستوں سے لے کر شمالی افریقہ تک، ہر طرف امید اور بیم کی کیفیت طاری ہے۔

یہ محض ایک علاقائی جنگ اور تنازع نہیں رہا، بلکہ عالمی طاقتوں کی صف بندی اور مفادات کی کشمکش نے اسے ایک وسیع تر بحران میں بدل دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا طاقت کے بل پر کسی خودمختار ریاست کی قیادت کو ہٹانا، یا اپنی پسند کی حکومت مسلط کرنا، کسی بھی جنگ کا اخلاقی یا قانونی جواز بن سکتا ہے؟ تاریخ اس سوال کا جواب نفی میں دیتی ہے۔

جنگ: مسائل کا حل یا مزید تباہی؟

جنگ کبھی بھی مسائل کا پائیدار حل ثابت نہیں ہوئی۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں سے لے کر حالیہ علاقائی تنازعات تک، ہر جنگ نے نفرت، تقسیم اور عدم استحکام کو جنم دیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتِ حال میں بھی یہی خدشہ نمایاں ہے کہ عسکری کارروائیاں وقتی سیاسی فائدہ تو دے سکتی ہیں، مگر طویل المدت طور پر یہ پورے خطے کو عدم استحکام کی دلدل میں دھکیل دیں گی۔

اگر ہم ماضی قریب پر نظر ڈالیں تو عراق میں 2003ء کی جنگ اور لیبیا میں 2011ء کی مداخلت اس بات کی مثال ہیں کہ بیرونی طاقت کے ذریعے حکومتوں کی تبدیلی نے امن کے بجائے انتشار، خانہ جنگی اور دہشت گردی کو فروغ دیا۔ ریاستی ڈھانچے ٹوٹ گئے، معیشتیں بکھر گئیں اور عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔
آج اگر اسی طرزِ عمل کو دوبارہ اختیار کیا جاتا ہے تو نتائج مختلف ہونے کی کوئی معقول وجہ دکھائی نہیں دیتی۔ طاقت کے ذریعے تبدیلی وقتی فتح تو ہو سکتی ہے، مگر دلوں کو مسخر نہیں کیا جا سکتا۔

خودمختاری اور عالمی قانون کا سوال

بین الاقوامی نظام کی بنیاد ریاستوں کی خودمختاری پر ہے۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت یا اس کی قیادت کی جبری تبدیلی عالمی قوانین کی روح کے منافی ہے۔ اگر کسی ریاست کی قیادت عالمی برادری کو پسند نہیں، تو اس کا حل سفارتی دباؤ، مذاکرات اور عوامی رائے کے احترام میں تلاش کیا جانا چاہیے، نہ کہ میزائلوں اور بموں میں۔

کسی ملک پر یہ الزام لگا کر کہ اس کی قیادت ناقابلِ قبول ہے، عسکری کارروائی کا جواز پیدا کرنا دراصل ایک خطرناک نظیر قائم کرتا ہے۔ اگر یہ اصول تسلیم کر لیا جائے تو دنیا کا کوئی ملک بھی محفوظ نہیں رہے گا۔
انسانی المیہ: اصل قیمت کون ادا کر رہا ہے؟۔

ہر جنگ میں سب سے زیادہ نقصان عام اور بے قصور شہریوں کا ہوتا ہے۔ حالیہ جنگ میں بھی ہزاروں جانیں جا چکی ہیں، لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، بچے یتیم اور خاندان اجڑ چکے ہیں۔ نفسیاتی صدمات کی وہ کہانیاں جو کیمروں کی آنکھ سے اوجھل رہتی ہیں، نسلوں تک اپنا اثر چھوڑتی ہیں۔

خلیجی ممالک میں مقیم لاکھوں افراد بے چینی اور غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔ سرمایہ کاری رک جانے کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے، روزگار کے مواقع سکڑ جاتے ہیں اور معیشت کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پوری دنیا کو متاثر کرتا ہے۔ اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو مہنگائی آسمان سے باتیں کرے گی، غذائی قلت بڑھے گی اور کمزور معیشتیں فاقہ کشی کے دہانے پر پہنچ سکتی ہیں بلکہ پہنچ چکی ہے۔

یہ سوال اپنی جگہ موجود رہے گا کہ اس تباہی کا ذمہ دار کون ہوگا؟ کیا وہ طاقتیں جو جنگ کا آغاز کرتی ہیں، یا وہ قیادتیں جو مفاہمت کے مواقع ضائع کرتی ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ذمہ داری مشترکہ ہوتی ہے، مگر قیمت ہمیشہ عام آدمی ادا کرتا ہے۔

سیاسی مفادات اور اخلاقی ذمہ داری

جنگوں کے پیچھے عموماً سیاسی، اور معاشی مفادات کارفرما ہوتے ہیں۔ اسلحے کی صنعتیں فعال ہو جاتی ہیں، عالمی طاقتیں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوشش کرتی ہیں اور علاقائی قوتیں اپنے اپنے مفادات کا تحفظ چاہتی ہیں۔ مگر اخلاقی سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے: کیا طاقت کا استعمال واقعی ناگزیر ہے؟
سیاسی قیادتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کے اظہار سے زیادہ اہم طاقت کا ضبط ہے۔ اصل قیادت وہی ہے جو تصادم کو روکنے کی صلاحیت رکھتی ہو، نہ کہ اسے بھڑکانے کی۔

ممکنہ راستہ: سفارت، مکالمہ اور انصاف

مشرقِ وسطیٰ کا امن صرف عسکری توازن سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے انصاف پر مبنی سیاسی حل ناگزیر ہے۔ فلسطین کے مسئلے سے لے کر خطے کی سرحدی کشیدگیوں تک، ہر تنازع کا پائیدار حل مذاکرات اور باہمی احترام میں پوشیدہ ہے۔

عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ یکطرفہ حمایت کے بجائے متوازن اور اصولی موقف اختیار کرے۔ اقوامِ متحدہ اور علاقائی تنظیموں کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ اقتصادی بحالی کے منصوبے، انسانی امداد اور تعمیرِ نو کے جامع پروگرام ہی خطے کو تباہی سے نکال سکتے ہیں۔

خونریزی کا راستہ بند ہونا چاہیے

آج مشرقِ وسطیٰ جس دوراہے پر کھڑا ہے، وہاں سے واپسی کا راستہ ابھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ مگر وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ اگر جنگ کا دائرہ وسیع ہوا تو اس کے اثرات صرف ایک یا دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ عالمی امن اور معیشت بھی اس کی لپیٹ میں آجائیں گے۔

قیادتوں کو یہ ادراک کرنا ہوگا کہ طاقت کا بے محابا استعمال وقتی برتری تو دے سکتا ہے، مگر پائیدار امن نہیں۔ کسی خودمختار ملک کی قیادت کو ہٹانا اور اپنی مرضی کا نظام مسلط کرنا نہ اخلاقی طور پر درست ہے، نہ قانونی طور پر۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں فتح کے جشن سے زیادہ شکست کے نوحے چھوڑتی ہیں۔ اب بھی اگر دانش مندی، تحمل اور انصاف کو ترجیح دی جائے تو اس خونریزی کو روکا جا سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر آنے والا وقت مزید عدم استحکام، مہنگائی، غربت اور انسانی المیوں کی خبر دے گا ، اور اس کا بوجھ پھر عام انسان کے کندھوں پر ہوگا۔

مشرقِ وسطیٰ کو جنگ نہیں، امن کی ضرورت ہے؛ غلبے کی نہیں، انصاف کی ضرورت ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو خطے کو آگ کے الاؤ سے نکال کر استحکام اور خوشحالی کی جانب لے جا سکتا ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔