مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ کے کانفرنس ہال میں ’’اردو میں عربی و فارسی کے الفاظ: املاء و رسم الخط‘‘ کا اجراء

زبان محض افہام و تفہیم کا ذریعہ نہیں بلکہ تہذیب و ثقافت کی امین ہوتی ہے، اس لئے اس کے املاء و رسم الخط کا تحفظ ضروری ہے: مولانا ابوالکلام قاسمی شمسی

مولانا مشہود احمد قادری نے کہا:یہ کتاب اساتذہ، طلبہ، محققین اور اردو زبان سے دلچسپی رکھنے والے تمام افراد کے لیے ایک قیمتی تحفہ ثابت ہوگی۔

پٹنہ/سیل رواں: مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی کی تازہ تحقیقی تصنیف ’’اردو میں عربی و فارسی کے الفاظ: املاء و رسم الخط‘‘ کی تقریب رونمائی مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی، پٹنہ کے ہاسٹل کے سیمینار ہال میں نہایت شاندار انداز میں منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ کے پرنسپل مولانا سید شاہ مشہود احمد قادری ندوی نے کی۔

اپنے صدارتی خطاب میں مولانا سید شاہ مشہود احمد قادری ندوی نے مصنف کو اس اہم علمی و تحقیقی کارنامے پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اردو ایک مخلوط زبان ہے جس میں مختلف زبانوں کے الفاظ شامل ہیں، خصوصاً عربی و فارسی کے بے شمار الفاظ اردو کا حصہ بن چکے ہیں، جن کے املاء اور رسم الخط کے حوالے سے ماہرین زبان کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی نے اس اہم اور حساس موضوع پر قلم اٹھا کر ایک بڑا علمی کام انجام دیا ہے، ان کے مطابق یہ کتاب اساتذہ، طلبہ، محققین اور اردو زبان سے دلچسپی رکھنے والے تمام افراد کے لیے ایک قیمتی تحفہ ثابت ہوگی۔
مصنف کتاب مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی نے اپنے خطاب میں کہا کہ زبان محض افہام و تفہیم کا ذریعہ نہیں بلکہ تہذیب و ثقافت کی امین بھی ہوتی ہے، اردو زبان مختلف زبانوں کے الفاظ کا حسین امتزاج ہے، جس کا ایک بڑا حصہ عربی و فارسی سے ماخوذ ہے، اس لیے ان الفاظ کے اصل ماخذ اور صحیح املاء و رسم الخط کی رعایت ضروری ہے، انہوں نے کہا کہ اردو زبان کے قواعد و ضوابط مرتب کرتے وقت مستعمل عربی الفاظ کے املاء اور رسم الخط کی اصلاح پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی، بلکہ پہلے سے رائج طریقۂ املاء کو بنیاد بنا کر اصول وضع کر دیے گئے، جس کے نتیجے میں عربی و فارسی کے بہت سے الفاظ اپنی اصل صورت سے دور ہو گئے، انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی تحقیق حرف آخر نہیں ہوتی، ان کی یہ کاوش مزید تحقیق اور علمی مباحث کے دروازے کھولنے کا ذریعہ بنے گی۔
اس موقع پر معروف عالم دین مولانا ڈاکٹر شکیل قاسمی نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب اردو زبان کے حوالے سے ایک نہایت اہم علمی سرمایہ ہے، انہوں نے کہا کہ مصنف نے برسوں کی محنت اور تحقیق کو کتابی شکل دے کر اہل اردو پر احسان کیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ کہ اردو اکیڈمیوں اور جامعات کی سطح پر ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو اس کتاب کا جائزہ لے اور اس کو نصاب کا حصہ بنانے پر غور کرے۔
سینئر صحافی ڈاکٹر ریحان غنی نے مولانا ابوالکلام قاسمی شمسی کو کتاب کی اشاعت پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ اردو زبان مختلف ارتقائی مراحل سے گزر کر موجودہ شکل میں پہنچی ہے اور اس میں عربی و فارسی کے الفاظ کی بڑی تعداد شامل ہیں، ایسے میں اس موضوع پر مصنف کی علمی کاوش قابل ستائش اور لائق تحسین ہے۔

پروفیسر صفدر امام قادری نے اپنے خطاب میں کہا کہ اردو زبان میں تقریباً بائیس فیصد الفاظ عربی و فارسی سے ماخوذ ہیں، جب کہ باقی الفاظ دیگر زبانوں سے آئے ہیں، انہوں نے کہا کہ ان الفاظ کے صحیح املاء اور رسم الخط کے مسئلے پر سنجیدگی سے غور و فکر کی ضرورت ہے اور مولانا کی یہ تصنیف اس موضوع پر مزید بحثوں اور تحقیقات کے لیے راستہ کھولے گی
قاری صہیب معزز، رکن قانون ساز کونسل (ایم ایل سی)نے مولانا ابوالکلام قاسمی شمسی کی علمی و ملی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شخصیت نئی نسل کے لیے ایک مثالی نمونہ ہے۔ پیرانہ سالی کے باوجود وہ تصنیف و تحقیق، سماجی و ملی رہنمائی اور تعلیمی خدمات میں سرگرم ہیں، جو قابلِ تقلید ہے۔

ڈاکٹر مولانا محمد عالم قاسمی، امام و خطیب جامع مسجد دریاپور سبزی باغ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مولانا کو علمی کاموں کا غیر معمولی ذوق اور صلاحیت عطا فرمائی ہے، وہ مسلسل تصنیف و تحقیق میں مصروف رہتے ہیں، ساتھ ہی ملی و قومی مسائل پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں اور ان کے حل کے لیے عملی کوششیں کرتے ہیں، سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوان نسل کی فکری رہنمائی بھی ان کی نمایاں خدمات میں شامل ہیں ۔

پروفیسر یونس حکیم نے کہا کہ اس کتاب کا بنیادی مقصد اردو زبان کے صحیح املاء اور درست رسم الخط کو فروغ دینا ہے، اردو میں عربی و فارسی کے بے شمار الفاظ رائج ہیں، لیکن ان کے استعمال میں اکثر غلطیاں سرزد ہوتی ہیں، یہ کتاب اردو کے طلبہ، اساتذہ اور شائقین کے لیے بہت مفید ثابت ہوگی۔

اس موقع پر ثناءاللہ ثنا دوگھروی نے مولانا کی کتاب پر منظوم تاثرات پیش کیے، جسے سامعین نےبہت پسند کیا۔

تقریب کی نظامت ڈاکٹر مولانا نورالسلام ندوی نے نہایت خوش اسلوبی اور سلیقے کے ساتھ انجام دی۔ آغازِ تقریب مولانا قاری شمیم اختر ندوی اور حافظ محمد عمران عالم کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، جبکہ محمد فیاض عالم نے بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں نعت پاک کا نذرانہ پیش کیا۔

تقریب میں علماء، دانشوروں، اساتذہ، طلبہ، صحافیوں اور اردو زبان سے وابستہ متعدد شخصیات نے شرکت کی، جن میں بطور خاص مولانا کلیم اختر ، مولانا آفتاب عالم، ڈاکٹر محفوظ الرحمٰن، ڈاکٹر نجم الحسن عارض،دانش عابدین، سرفراز عالم، عبد القدوس، ڈاکٹر شاہد وصی، عتیق الرحمٰن عرف شعبان وغیرہ کے علاوہ بڑی تعداد میں طلبہ موجود رہے

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔