امور/ سیل رواں: جمعیت علماء ضلع پورنیہ (مشرقی زون) کے زیر اہتمام موجودہ حالات کے تناظر میں ایک اہم مشاورتی، تنظیمی اور فکری نشست 25 جون 2026 بروز جمعرات، مطابق 9 محرم الحرام 1448ھ کو مسجد علی، نزد بجلی پاور ہاؤس، امور میں منعقد ہوگی۔ یہ نشست صبح 9:00 بجے سے دوپہر 12:00 بجے تک جاری رہے گی، جس میں ضلع کے مختلف علاقوں سے ائمہ کرام، علماء، مدارس کے ذمہ داران، جمعیت کے کارکنان اور معزز اراکین شرکت کریں گے۔
اجلاس کی صدارت جمعیت علماء ضلع پورنیہ کے صدر مولانا امتیاز احمد قاسمی صاحب فرمائیں گے۔ اس موقع پر متعدد ممتاز علماء اور سماجی شخصیات بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوں گی جن میں
- مفتی شمس توحید مظاہری (ناظم دارالعلوم امور)، مولانا سرفراز عالم ندوی (رکن مجلس عاملہ جمعیت علماء دہلی)،
- مولانا محمد عمران ندوی (پرنسپل مدرسہ اشاعت العلوم امور)،
- مولانا عارف حسین ندوی (ناظم تنظیم و ترقی جمعیت علماء ضلع پورنیہ)
- اور حاجی ناہید غنی صاحب (نائب سکریٹری جمعیت علماء ضلع پورنیہ) شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس نشست میں مدارس اسلامیہ کو درپیش موجودہ چیلنجز اور خطرات، مختلف سرکاری و قانونی دستاویزات کی اصلاح میں عوام کو پیش آنے والی دشواریوں اور رکاوٹوں، نیز ملک کے موجودہ حالات میں مسلمانوں کی دینی، تعلیمی، سماجی اور تنظیمی ذمہ داریوں پر تفصیلی غور و خوض کیا جائے گا۔ مقررین ان موضوعات کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالیں گے اور حالات کا سنجیدہ جائزہ لیتے ہوئے مستقبل کے لیے ایک مؤثر لائحۂ عمل پیش کریں گے۔
اجلاس میں جمعیت علماء کی تنظیمی سرگرمیوں، عوامی مسائل کے حل میں اس کے کردار، مدارس اور مساجد کے تحفظ، نئی نسل کی دینی و اخلاقی تربیت اور ملی اتحاد و بیداری کے فروغ جیسے امور بھی زیر بحث آئیں گے۔ توقع ہے کہ نشست کے اختتام پر اہم تجاویز اور سفارشات بھی مرتب کی جائیں گی تاکہ ضلع بھر میں دینی و سماجی خدمات کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
جمعیت علماء ضلع پورنیہ (مشرقی زون) کے جنرل سیکریٹری مولانا ابو صالح قاسمی اور ناظم تنظیم وترقی مولانا عارف حسین ندوی نے تمام ائمہ مساجد، مدرسین، مدارس کے ذمہ داران، جمعیت کے عہدیداران اور اراکین سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اس اہم نشست میں بروقت شرکت کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں باہمی مشاورت، اتحادِ عمل اور منظم جدوجہد وقت کی اہم ضرورت ہے، اس لیے ذمہ دارانِ ملت کی زیادہ سے زیادہ شرکت اجلاس کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ نشست نہ صرف موجودہ مسائل کے حل کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگی بلکہ ملت کے مختلف طبقات کے درمیان رابطہ، ہم آہنگی اور مشترکہ لائحۂ عمل کی تشکیل میں بھی معاون بنے گی۔