ـــــــــــــــــــــــــــ
عالمی کرکٹ کی تاریخ میں جہاں سنسنی خیز مقابلے اور یادگار لمحات رقم ہوئے ہیں، وہیں بعض مواقع پر ایسے تنازعات بھی سامنے آئے جب مختلف ٹیموں نے آئی سی سی کے عالمی ٹورنامنٹس میں میچ کھیلنے سے انکارکر دیا۔ ان فیصلوں کے پسِ پردہ کہیں سیکیورٹی خدشات تھے تو کہیں سیاسی حالات اور سفارتی کشیدگی آڑے آئی۔ 2026 کے مجوزہ ٹی20 ورلڈ کپ سے قبل بھی اسی نوعیت کی بحث زور پکڑ رہی ہے۔ ذیل میں ایسے ہی چھ نمایاں واقعات کا جائزہ پیش ہے:
1996 ون ڈے ورلڈ کپ: سری لنکا میں سیکیورٹی خدشات
1996 کے ورلڈ کپ کے دوران سری لنکا میں خانہ جنگی اور کولمبو میں بم دھماکوں کے بعد آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز نے سری لنکا جا کر میچ کھیلنے سے انکار کر دیا۔ نتیجتاً دونوں ٹیموں کو واک اوور دینا پڑا، جس نے ٹورنامنٹ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
2003 ورلڈ کپ: افریقہ میں میچز پر اعتراض
انگلینڈ نے زمبابوے کے خلاف ہرارے میں میچ کھیلنے سے انکار کیا، جبکہ نیوزی لینڈ نے نایروبی (کینیا) میں سیکیورٹی خدشات کے باعث میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا۔
ان فیصلوں نے ورلڈ کپ کے شیڈول اور پوائنٹس ٹیبل کو خاصا متاثر کیا۔
2009 ٹی20 ورلڈ کپ: زمبابوے کی دستبرداری
2009 کے ٹی20 ورلڈ کپ سے زمبابوے نے آخری وقت میں دستبرداری اختیار کر لی۔ اس کی وجہ برطانیہ کے ساتھ سیاسی تناؤ بتائی گئی، جس کے بعد اسکاٹ لینڈ کو متبادل ٹیم کے طور پر شامل کیا گیا۔
2016 انڈر 19 ورلڈ کپ: آسٹریلیا کی عدم شرکت
بنگلہ دیش میں منعقدہ انڈر 19 ورلڈ کپ میں آسٹریلوی ٹیم نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر شرکت سے انکار کر دیا۔ اس فیصلے کو اس وقت خاصی اہمیت حاصل ہوئی کیونکہ نوجوان سطح کے عالمی ایونٹ میں یہ ایک غیر معمولی قدم تھا۔
2025 چیمپئنز ٹرافی: پاکستان میں میچ کھیلنے سے انکار
2025 کی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں بھارتی ٹیم نے پاکستان جا کر میچ کھیلنے سے انکار کر دیا، جس کے بعد بھارت کے میچز نیوٹرل مقام (متحدہ عرب امارات) میں کرائے گئے۔ اس فیصلے نے ایک بار پھر کرکٹ اور سیاست کے تعلق پر بحث چھیڑ دی۔
2026 ٹی20 ورلڈ کپ: بنگلہ دیش کا ممکنہ انکار
آئندہ 2026 کے ٹی20 ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کی جانب سے بھارت میں میچ کھیلنے پر تحفظات سامنے آئے ہیں۔ بنگلہ دیشی بورڈ نے سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے میچز سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کی تھی، تاہم آئی سی سی نے یہ تجویز مسترد کر دی۔ اگر بنگلہ دیش نے اپنے مؤقف پر نظرِ ثانی نہ کی تو اس کی ٹورنامنٹ میں شرکت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
نتیجہ
یہ واقعات اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ عالمی کرکٹ صرف کھیل تک محدود نہیں بلکہ عالمی سیاست، سیکیورٹی اور سفارتی تعلقات بھی اس پر براہِ راست اثر انداز ہوتے رہے ہیں۔ آنے والا ٹی20 ورلڈ کپ اس حوالے سے ایک اور اہم امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔
رپورٹ: سیل رواں ڈیسک