عارف حسین (ایڈیٹر سیل رواں)
مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی کے دوران ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی عوام کو بار بار سڑکوں پر نکلنے اور اپنی حکومت کے خلاف مزاحمت کرنے کی اپیل دراصل امریکی حکمتِ عملی کی ایک بڑی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔ امریکہ چاہے جتنی فضائی برتری حاصل کر لے، حقیقت یہ ہے کہ صرف بمباری کے ذریعے کسی مضبوط اور منظم ریاست میں رجیم چینج [Regime change] ممکن نہیں ہوتی۔ اس کے لیے بالآخر زمینی محاذ کھولنا ہی پڑتا ہے۔
ماضی پر نظر ڈالیں تو عراق، لیبیا اور شام کی مثالیں سامنے آتی ہیں جہاں بیرونی مداخلت کو کامیاب بنانے کے لیے اندرونی یا کرائے کے جنگجوؤں کا سہارا لیا گیا۔ ان ممالک میں مختلف عسکری گروہ حکومتی افواج کے خلاف صف آرا ہوئے اور بعض صورتوں میں یہی گروہ بیرونی طاقتوں کے لیے ہر اول دستہ ثابت ہوئے۔ یہاں تک کہ داعش جیسے گروہ بھی میدان میں سرگرم رہے جنہوں نے خطے کو تباہی اور خونریزی کے ایک طویل دور میں دھکیل دیا۔
لیکن ایران کا معاملہ مختلف ہے۔ وہاں ایسا کوئی مضبوط عسکری نیٹ ورک موجود نہیں جو ریاستی ڈھانچے کے خلاف مسلح بغاوت کر سکے۔ ایران کا جغرافیہ، اس کی سرحدوں کی ساخت اور اس کا داخلی نظم و ضبط بھی ایسا ہے کہ باہر سے جنگجوؤں کو منظم کر کے اندر داخل کرنا آسان نہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس نے امریکہ کی عسکری حکمتِ عملی کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
اسی لیے امریکی قیادت کی نظریں اب ایرانی عوام پر مرکوز ہیں۔ ٹرمپ کی اپیلیں دراصل اس امید کی عکاسی کرتی ہیں کہ شاید ایران کے اندر سے کوئی عوامی بغاوت جنم لے اور بیرونی دباؤ کے ساتھ مل کر حکومت کو کمزور کر دے۔ یہ وہی طریقہ ہے جسے مختلف مواقع پر سیاسی اور سماجی ہنگاموں کے ذریعے آزمایا جاتا رہا ہے۔
علاقائی سیاست بھی اس معاملے میں کم پیچیدہ نہیں۔ جب افغانستان کی جانب سے ایران کی مدد کے امکانات کا ذکر سامنے آیا تو عین اسی وقت پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی بڑھنے لگی اور سرحدی حملوں کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ اس صورتحال نے کئی مبصرین کو یہ سوال اٹھانے پر مجبور کر دیا کہ آیا یہ محض اتفاق ہے یا کسی وسیع تر جغرافیائی حکمتِ عملی کا حصہ۔
حقیقت یہی ہے کہ ایران کے معاملے میں امریکہ کو وہ سہولتیں حاصل نہیں جو اسے ماضی میں دیگر ممالک میں میسر رہی تھیں۔ نہ اندرونی مسلح گروہ دستیاب ہیں اور نہ ہی جغرافیائی حالات ایسے ہیں کہ بیرونی جنگجو آسانی سے میدان میں اتارے جا سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی قیادت براہِ راست فوجی مداخلت کے بجائے ایرانی عوام کو سڑکوں پر لانے کی کوشش کر رہی ہے۔
اگر ایران کے اندر کوئی امریکی سرپرستی میں سرگرم عسکری گروہ موجود ہوتا تو شاید حالات کا نقشہ مختلف ہوتا۔ فضائی حملوں کے بعد یہی گروہ زمینی لڑائی لڑتے اور کسی نہ کسی صورت میں نظام کی تبدیلی کا راستہ ہموار کرنے کی کوشش کرتے۔ مگر ایران میں ایسا نہ ہونا ہی دراصل وہ حقیقت ہے جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آئی ہے۔
اسی لیے آج واشنگٹن کی تمام تر عسکری طاقت کے باوجود ایرانی عوام کو مخاطب کر کے اپیلیں کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایران کا معاملہ ماضی کے تجربات سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور مشکل ثابت ہو رہا ہے۔