مذہب اور جدیدیت کا تصور

از:- ڈاکٹر ظفردارک قاسمی

مذہب اور جدیدیت میں کشمکش ہے یا باہمی تعاون ؟ اس حوالے سے سماج میں عجیب طرح کی کیفیت پائی جاتی ہے ۔ مذہب سے وابستہ طبقہ جدیدیت کا نام سنتے ہی وحشت میں مبتلا ہو جاتا ہے تو ادھر جدیدیت سے مانوس طبقہ مذہب کے متعلق غیر سنجیدہ باتیں کرنے لگتا ہے ۔

گویا دونوں محاذوں یا دونوں طبقوں میں عدم توازن اور بے اعتدالی ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جدیدیت اور مذہب کے نام پر یہ جنگ مذہبی اور سیکولر طبقہ میں کیوں واقع ہے ؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے سے قبل ہمیں مذہب کے تصور کو اچھی طرح سمجھ لینا ضروری ہے ۔ چنانچہ ماہرین نے مذہب کا مفہوم اس طرح بیان کیا ہے:

"مذہب انسان کے عقائد، عبادات اور اخلاقی اصولوں کا ایسا منظم نظام ہے جو اسے خالقِ کائنات، کائنات اور اپنی ذات کے ساتھ تعلق سمجھنے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہ انسان کو مقصدِ حیات، نیکی، انصاف، محبت اور امن کا پیغام دیتا ہے۔ مذہب میں عقیدہ، عبادت، اخلاقیات اور معاشرتی اصول بنیادی ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ فرد کی روحانی تسکین کے ساتھ ساتھ اجتماعی زندگی کو بھی نظم و ضبط عطا کرتا ہے۔ یوں مذہب انسان کو خدا کی معرفت، اخلاقی بلندی اور سماجی ہم آہنگی کے راستے پر گامزن کرتا ہے اور اسے ایک بامقصد زندگی بخشتا ہے۔” متذکرہ بالا الفاظ کی روشنی میں یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ مذہب بنیادی طور پر معاشرے میں امن و امان اور فلاح و بہبود کو فروغ دیتا ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ ہمیں جدیدیت کے مفہوم کو بھی سمجھنا ہوگا تاکہ دونوں اصطلاحوں سے مکمل واقفیت پیدا کی جاسکے:

” جدیدیت ایک فکری، تہذیبی اور سماجی رویہ ہے جو عقل، سائنس اور تجربے کو علم و عمل کی بنیاد مانتا ہے۔ اس کا مقصد قدیم روایات اور جامد خیالات کو توڑ کر ایک ایسا نظام قائم کرنا ہے جو انفرادی آزادی، جمہوری اقدار، مساوات، سائنسی ترقی اور سماجی اصلاحات پر مبنی ہو۔ جدیدیت میں مسلسل تبدیلی، جدت پسندی، اور معاشرت کو نئے حالات کے مطابق ڈھالنے کا تصور شامل ہے۔ یہ اندھی تقلید کے بجائے سوال، تحقیق اور دلیل کو اہمیت دیتی ہے۔ یوں جدیدیت انسانی فکر، سماج اور تہذیب کو ترقی اور آگہی کی نئی راہوں پر لے جاتی ہے”

جدیدیت اور مذہب کے مفہوم سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ مذہب اور جدیدیت میں حقیقی معنوں میں کوئی تصادم نہیں ہے ۔ بلکہ تصادم یا تضاد عمدا پیدا کیا گیا ہے ۔ جدیدیت میں جہاں روایت پرستی ، جامد اور غیر منطقی افکار پر تنقید کی جاتی ہے تو وہیں مذہب بھی تدبر و تفکر اور سماجی تقاضوں اور ضرورتوں کو قبول کرتا ہے ۔

اسلام کا تو پورا نظام عقل و شعور اور فطرت و وجدان پر مشتمل ہے ۔ اس لیے صحیح بات تو یہی ہے کہ جدیدیت اور مذہب کے نام پر معاشرے میں آج جس طرح کا تضاد یا باہم پرخاش نظر آرہی ہے وہ محض اس لیے ہے کہ مذہب کا ناقص علم اور جدیدیت کی غلط تشریح کی وجہ سے ہے ۔ یعنی دونوں طبقوں میں عدم واقفیت کی بنیاد پر تصادم یا تضاد نظر آرہا ہے ۔ اس لیے آج بنیادی طور پر ضرورت ہے کہ مذہب اور جدیدیت میں مساوی قدریں اور یکسانیت کے پہلوؤں کو اجاگر کیا جائے تاکہ معاشرہ تعمیر و ترقی اور علم و تحقیق کی اعلیٰ منازل طے کرسکے ۔ یاد رکھیے! مذہب و جدیدیت کے نام پر جتنی دوری پیدا کی جائے گی اور ایک دوسرے کے خلاف جتنا بولا یا لکھا جائے گا معاشرے کو اتنا ہی نقصان ہوگا ۔ بناء بریں ضرورت ہے کہ کہ جدیدیت اور مذہب کے نام پر اجنبیت کو ختم کیا جانا عصر حاضر کی ضرورت ہے۔

یہ عرض کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مذہب و دین سے وابستگی اور اس کی درست فہم نوع انسانی کو عروج و ارتقاء کی منازل طے کراتی ہے ۔ اسی وجہ سے معاشرتی زندگی کو مثبت خطوط پر استوار کرنے اور صالح خطوط پر گامزن کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مذہب کی اتباع کی جائے اور مذہب کے مطابق زندگی گزاری جائے ۔ مذہب سے ہم آہنگ وہ معاشرے اور اقوام ہوتی ہیں جن کے خیالات اور نظریات مذہب سے متعلق درست ہوں ۔ مذہب پر بے جا تنقید نہ کی گئی ہو وغیرہ وغیرہ۔ گویا مذہب ایک ایسا جامع اور کامل راستہ ہے جس پر چل کر صالح اور صحت مند معاشرے کی تشکیل کو یقینی بنایا جاسکتا ہے ۔ آج ہمارے سامنےمذہب کی تفسیر و تشریح کرنے والے افراد کا ایک طبقہ تو وہ ہے جو مذہب کو اسی طرح سے پیش کررہا ہے جس طرح سے وہ ہے۔ لیکن کائنات میں اب ایسے افراد بہت کم ہیں جو مذہب کی من و عن تعبیر و تشریح پیش کرتے ہوں ، صحیح بات تو یہ ہے کہ تمام مذاہب میں اب ایسے افراد پیدا ہوگئے ہیں جو مذہب کو اپنے مسلک و مشرب اور اپنی سوچ و فکر کے اعتبار سے پیش کرتے ہیں، اس پر المیہ یہ ہے کہ نام نہاد مذہبی طبقہ اسی کو اصل مذہب سے تعبیر کرتا ہے اور عوام کو مذہب کے نام پر بیوقوف بناتا ہے ۔ جو لوگ مذہب کو اپنی وضع کردہ اصطلاحوں ، تعبیرات اور مسالک کے اصولوں کو مد نظر رکھ کر دیکھتا ہے یعنی یہ طبقہ بجائے اس کے کہ خود مذہب کا تابع ہو ، مذہب کو اپنے افکار و نظریات کا پابند بناتا ہے ۔ اگر مذہب و دین کی کوئی بات اس کے اپنے مفادات سے ٹکراتی ہے تو اس کو اس طرح سے توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتاہے کہ وہ اس کے خیالات سے ہم آہنگ ہو جائے، اس تحریف کو نام دیا جاتا ہے کہ مذہب کو عقلی و منطقی تناظر میں پیش کیا گیا ہے ۔ در اصل یہی نظریہ ہے جو پروان تو مذہب کے نام پر چڑھایا جارہا ہے مگر مذہب کا اس میں کوئی عنصر نہیں ہے ۔ مذہب کے نام پر فروغ پانے والا یہ نظریہ ہی جدیدیت کے متصادم ہے ۔ اس پہلو کو اچھی طرح سے سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ اسی طرح تمام ارباب علم و تحقیق کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ مذہب کے نام پر آج معاشرے میں جو تحریف و ترمیم جاری ہے اس پر کس طرح قد غن لگائی جائے اور مذہب کی حقیقی روح کو معاشرے میں کیسے فروغ دیا جائے ؟

جدید تقاضوں سے ہم آہنگی اور فطرت کے نام پر جس طرح سے مذہب کو بدنام کیا گیا ہے اور مذہب کی اصل روح کو مجروح کیا گیا ہے، اس نے سماج کو دولخت کیا ہے ۔ صحیح بات یہ ہے کہ کتنے افراد مذہب کے نام پر اس تشریح سے برگشتہ ہوگئے ہیں ۔مذہب جو کہ اصلاح اور فلاح و بہبود کا جامع تصور پیش کرتا ہے اور جدیدیت کے مثبت پہلوؤں کو اپنے اندر سمونے کی صلاحیت رکھتا ہے ، آج اس کے بارے میں جدید ذہنوں اور نئی نسل کے اندر منفی رجحانات پروان چڑھ رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ مذہب میں کوئی کمی ہے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے مذہب کی حقیقی تعلیمات اور اس کے آفاقی پیغام کو مخدوش کردیا اور مذہب کے نام پر ان تصورات اور خیالات نے جگہ لے لی جو ہمارے اپنے وضع کردہ ہیں ؛ جنہیں ہم نے اپنے محدود مفادات کے لیے ایجاد کیا ہے ۔

اسی طرح ہمارے یہاں یہ بھی مسئلہ قابل غور ہے کہ مذہب کے آفاقی تصور کو ہم نے چند مذہبی رسومات اور عبادات و اذکار میں محدود کردیا ہے ۔ عام آدمی مذہب کو صرف اِتنا جانتا ہے کہ چوبیس گھنٹے میں چند عبادتیں ہیں ان کو ادا کرلیا جائے ۔ مثلاً ایک عام مسلمان مذہب کو بس اتنا سمجھتا ہے کہ پنج وقتہ نماز ادا کرلی جائے، یا دیگر جو فرض ارکان ہیں ان کو ادا کرلیا جائے۔ ایک ہندو اتنا سمجھتا ہے کہ ہندو مذہب میں جو عبادت یا پرستش کا تصور ہے بس اسے پورا کرلینا مذہب پر مکمل عمل کرنا ہے ۔ چنانچہ دنیا میں آج جتنے بھی مذاہب ہیں ان کی عوام صرف یہی سمجھتی ہے کہ چند مذہبی رسومات ادا کرنا کافی ہے ۔ یقین جانیے مذہب کا یہ تصور نہ صرف ناقص ہے بلکہ معاشرے کے لیے نقصان دہ بھی ہے۔ مذہب کا مکمل تصور اسی وقت کیا جاسکتا ہے کہ جب ہم مذہب کے پیغام اور اس کی تعلیمات کو تمام شعبہ حیات میں داخل و شامل کریں ۔ چنانچہ تمام مذاہب و ادیان کے مذہبی رہنماؤں کو مذہب کا جامع اور کامل تصور عوام تک پہنچانا ہوگا۔ واقعی سماج میں مذہب اور جدیدیت کو نفع بخش ثابت کرنا ہے تو سب سے پہلے اس حوالے سے پائے جانے والے منفی تصورات کو ختم کرنا ہوگا۔

ہاں یہ سچ ہے کہ جدیدیت کے لبادے میں معاشرے میں بد امنی ، بداخلاقی اور فکری و نظریاتی اضمحلال پنپتا ہے یا پھر جدیدیت مذہب سے دور کرتی ہے تو یقینی طور پر ایسی جدیدیت کی ہرگز ضرورت نہیں ہے ۔ برعکس اس کے جدیدیت سے سماج میں عصری تقاضوں کی تکمیل اور معاشرے کا فکری و نظریاتی شعور بیدار ہوتا ہے تو اس کو اختیار کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے ۔

اس لیے یہ کہنا بجا معلوم ہوتا ہے کہ جدیدیت اور مذہب میں کوئی تصادم یا ٹکراؤ نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جدیدیت ایک ایسی اصطلاح ہے جو فکری توازن اور اعتدال و توسع پیدا کرتی ہے ، مذہب و دین میں کہیں اس بات کی صراحت نہیں ہے کہ عصری تقاضوں اور ضرورتوں سے انحراف کیا جائے یا ان پر بے جا فتویٰ لگایا جائے ۔ جدیدیت اور مذہب میں ہم آہنگی سے معاشرے میں بقائے باہم ، رواداری اور مشفقانہ برتاؤ میں اضافہ ہوتا ہے تو یقیناً اس کی معاشرے کو ضرورت ہے ۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ جدیدیت کا ہر پہلو اور گوشہ نئی تحقیقات کی راہ کھولتا ہے جس کے نتیجہ میں معاشرہ علم و آگہی اور فہم و فراست کے جدید تصورات و خیالات سے بھی استفادہ کرتا ہے، اس طور پر بھی جدیدیت معاشرے کے لیے مفید و معاون ہے ۔
جدیدیت سے استفادہ اسی وقت اٹھایا جاسکتا ہے جب کہ ہمارے یہاں فکری توسع پایا جاتا ہو ، تنگ نظری اور محدود سوچ کے حامل معاشرے جدیدیت سے استفادہ نہیں کرسکتے ہیں ۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔