از : شکیل رشید ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز
ترنمول کانگریس پارٹی سے، لوگوں کے جانے، اور این ڈی اے کا ساتھ دینے کی جو خبریں آ رہی ہیں، اُسے منافقت اور غداری کے علاوہ اور کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ ویسے ہندوستانی سیاست میں، منافقت اور غداری کی بے شمار مثالیں پائی جاتی ہیں، جیسے کہ بال ٹھاکرے کی شیوسینا سے ایکناتھ شندے کا جانا، اور اچھی خاصی تعداد میں شیوسینکوں کو ساتھ لے جانا ۔ سب جانتے ہیں کہ شندے کی جو بھی سیاسی پہچان اور ساکھ ہے، وہ بال ٹھاکرے کی شیوسینا کی وجہ سے ہی ہے، ورنہ تو وہ کِسی زمانہ میں رکشہ چالک تھے ۔ اجیت دادا پوار کا نام بھی لیا جا سکتا ہے، کہ وہ این سی پی چھوڑ کر بی جے پی کے ساتھی بَن گیے تھے، اور اپنے سگے بیمار چچا شرد پوار کا ساتھ چھوڑ گیے تھے ۔ اجیت دادا کے ساتھ اچھی خاصی تعداد میں، سیاسی لیڈران اور ممبرانِ اسمبلی بھی شرد پوار کا ساتھ چھوڑ گیے تھے اور بی جے پی کی حکومت کا سہارا بنے تھے ۔ یہ دونوں مثالیں آج ترنمول کانگریس کی حالتِ زار سمجھنے کے لیے کافی ہیں۔
پہلی دونوں مثالوں سے کئی دلچسپ باتیں سامنے آئی تھیں، ایک تو یہ کہ جو بھی لیڈران پارٹی چھوڑ گیے تھے، وہ خود کو اصولوں پر چلنے والا، اور اپنے اپنے نظریات پر سختی سے جما رہنے والا بتایا کرتے تھے، اور اس کے لیے، خوب پروپیگنڈہ کیا کرتے تھے ۔ باغی شیوسینکوں کا دعویٰ تھا، کہ وہ بال ٹھاکرے کے نظریے پر چلتے ہیں، اور شیوسینا کو کبھی کِسی طرح کا نقصان پہنچنے نہیں دیں گے ۔ لیکن جب اُن پر مودی حکومت نے ای ڈی اور انکم ٹیکس کے افسران مسلط کیے، تو سارے نظریات دھرے کے دھرے رہ گیے، اور وہ شیوسینا توڑ کر بی جے پی کے قدموں پر گِر پڑے ۔ یہی حال این سی پی کا بھی ہوا تھا ۔ کرپشن کے الزامات لگا کر، اور ای ڈی و دیگر ایجنسیوں کا خوف دکھا کر، بی جے پی کی مرکزی حکومت نے این سی پی میں دراڑ ڈال دی تھی، اور لوگ بھاگ کھڑے ہوئے تھے ۔ مزید یہ کہ جانے والوں نے یہ تک نہیں سوچا تھا، کہ جس پارٹی نے، اور جِن لیڈروں نے، اُنہیں زمین سے اُٹھا کر آسمان تک پہنچایا تھا، اُن کا کیا ہوگا ؟ افسوس کی بات یہ تھی، کہ جانے والوں نے اپنے پُرانے ساتھیوں کے خلاف وہی زبان بولنا شروع کر دی تھی، جو زبان بی جے پی بولتی رہی تھی، اور آج بھی ویسی ہی صورتِ حال برقرار ہے ۔ ایک اور بات یہ ہوئی کہ سیکولر کہلانے والی پارٹیوں سے جو سیاست داں بی جے پی میں شامل ہوئے، یا بی جے پی کا سہارا بنے، وہ بی جے پی کے دائمی لیڈروں کے مقابلے کہیں زیادہ زہر اُگلنے اور کہیں زیادہ فرقہ پرستی کا مظاہرہ کرنے لگے، اِس کی ایک مثال آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما ہیں، جو مسلم دشمنی میں اس قدر آگے بڑھ گیے ہیں، کہ یہ سُن کر حیرت ہوتی ہے، کہ یہ کبھی خود کو ایک سیکولر سیاست داں کہتے تھے ! ایک دم تازہ مثال مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری کی ہے ۔ اِن کی تو ادا ہی نرالی ہے، کہ اب تک اِنہوں نے، وزیراعلیٰ کی حیثیت سے، جو کچھ بھی کام کیے ہیں، وہ مسلم دشمنی میں ہی کیے ہیں ۔ ترنمول کو چھوڑ کر بی جے پی میں جانے والے ادھیکاری کسی زمانے میں ممتا بنرجی کا دایاں ہاتھ ہوتے تھے، لیکن اب مودی اور امیت شاہ کا بایاں ہاتھ بن گیے ہیں، اور اِس کوشش میں ہیں، کہ ترنمول کے ممبرانِ اسمبلی اور ممبرانِ پارلیمنٹ کی بڑی تعداد کو توڑ کر بی جے پی میں شامل کرا دیں ۔ اور وہ اس میں بڑی حد تک کامیاب نظر آ رہے ہیں، یعنی ترنمول کا قلعہ اُن کی ضرب سے ٹوٹتا دکھائی دے رہا ہے ۔ لیکن سوال یہ ہے، کہ ادھیکاری ہوں یا ترنمول کے ممبرانِ پارلیمنٹ اور ممبرانِ اسمبلی، کیا کوئی بھی یہ دعویٰ کر سکتا ہے، کہ ممتا بنرجی نے اُنہیں چوٹی تک پہنچانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا، اُن کی ترقی میں اُن کی اپنی ذاتی محنت کا کردار ہے ؟ اگر کوئی یہ دعویٰ کرے بھی تو غلط ہوگا ۔ یوسف پٹھان کی مثال لیں، کیا وہ کبھی ممتا کے بغیر ممبر پارلیمنٹ بن سکتے تھے ؟ جواب ہے، نہیں ۔ لیکن وہ بھی بی جے پی کی گود میں جا رہے ہیں، شاید اس لیے کہ اُن کا بنگلہ نہ ڈھے جائے، اور اُنکے سالے پر مصیبت نہ ٹوٹ پڑے ۔ زیادہ تر ترنمول کے ممبران اسمبلی و پارلیمنٹ اپنی غرض اور اپنے مطلب کے لیے بی جے پی کے ساتھ گیے ہیں، اور یہ منافقت اور غداری کی ایک بدترین مثال ہے ۔ اب اُنہیں صرف اور صرف بی جے پی کے ہندوتو کے نظریے پر چلنا ہوگا ۔ شاید ان کے اپنے نظریے تھے ہی نہیں، یہ بس روپیہ کمانے آئے تھے، اور روپیہ کمانے کے لیے ہی ممتا کا ساتھ چھوڑ گیے ہیں ۔