ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ بائیکاٹ تنازع: مدن لال کا پاکستان اور بنگلہ دیش پر ردِ عمل

اسپورٹس/ نئی دہلی:

ــــــــــــــــــــــــــــــــــ

آئ سی سی مینز T20 ورلڈ کپ 2026 سے بنگلہ دیش کے ممکنہ بائیکاٹ پر کرکٹ حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے۔ اس معاملے پر 1983 ورلڈ کپ فاتح بھارتی ٹیم کے رکن اور سابق کرکٹر مدن لال نے پاکستان اور بنگلہ دیش پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے سیاست سے جوڑ دیا ہے۔

مدن لال نے کہا کہ بنگلہ دیش کا یہ فیصلہ اچانک نہیں بلکہ ایک منصوبہ بند حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کے پیچھے پاکستان کا کردار نمایاں نظر آتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان، بنگلہ دیش کو بھارت کے خلاف بائیکاٹ کے لیے اکسا رہا ہے تاکہ بھارت کو بین الاقوامی سطح پر نقصان پہنچایا جا سکے۔

انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر بنگلہ دیش T20 ورلڈ کپ سے الگ ہوتا ہے تو اس سے بھارت کو کوئی خاص نقصان نہیں ہوگا، بلکہ سب سے زیادہ نقصان خود بنگلہ دیش کی کرکٹ اور اس کے مالی مفادات کو پہنچے گا۔ مدن لال کے مطابق ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹ سے دوری بنگلہ دیش کرکٹ کے لیے طویل المدتی نقصان ثابت ہو سکتی ہے۔

مدن لال سابق بھارتی کرکٹر

اس موقع پر مدن لال نے سیکیورٹی خدشات کو بھی بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش کے میچ کولکتہ اور ممبئی جیسے شہروں میں ہونے تھے، جو نہ صرف کرکٹ کے بڑے مراکز ہیں بلکہ سیکیورٹی کے لحاظ سے بھی محفوظ مانے جاتے ہیں۔

قابلِ ذکر ہے کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے اپنے میچ بھارت کے بجائے کسی تیسرے ملک میں کرانے کی درخواست کی تھی، تاہم ICC کی جانب سے اس مطالبے کو قبول نہیں کیا گیا، جس کے بعد بائیکاٹ کی بات سامنے آئی۔

مدن لال نے کہا کہ کھیل کو سیاست سے دور رکھنا چاہیے، کیونکہ اس طرح کے فیصلے نہ صرف کھیل کی روح کے خلاف ہیں بلکہ عالمی کرکٹ کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔