از:- غلام نبی کشافی
آنچار صورہ سرینگر
__________________
ہمارے یہاں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو کثرت سے کتابیں تو رکھتے ہیں، لیکن انہیں مطالعہ کرنے کی توفیق حاصل نہیں ہوتی ۔ حال ہی میں ایک ویڈیو دیکھ رہا تھا، جس میں ایک مولوی صاحب علامہ زمخشری کے بارے میں گفتگو کر رہا تھا، مگر اس کا بیان طفلِ مکتب سے بھی کم تر محسوس ہو رہا تھا۔ حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ یہ لوگ کس طرح اپنی جہالت اور لاعلمی پر پردہ ڈال کر بے بنیاد اور غلط باتیں بیان کرتے پھرتے ہیں، حالانکہ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ مشہور مفسرِ قرآن علامہ زمخشری اگرچہ ایک زبردست عالمِ دین تھے، لیکن وہ معتزلی عقائد رکھتے تھے۔
انہوں نے قرآنِ مجید کی تفسیر ” الکشاف ” کے نام سے لکھی، مگر اس میں متعدد مقامات پر قرآن کی تشریح معتزلی عقائد کی روشنی میں کی ہے، جس کی وجہ سے اہلِ علم نے اس تفسیر پر اعتزالی افکار کے حوالے سے تنقید بھی کی ہے۔
جب میں اپنے بچپن میں علامہ اقبال کے اس شعر کو پڑھتا تھا ؛
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزولِ کتاب
گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحبِ کشاف
تو مجھ میں علامہ فخرالدین رازی اور علامہ زمخشری کے افکار و نظریات کو جاننے کی خواہش پیدا ہوجاتی تھی۔ تاہم وسائل کی کمی اور مالی حالت کی خرابی کے باعث ان تفاسیر تک رسائی اور حصول اس وقت ممکن نہ ہو سکا۔
اللہ تعالیٰ کا بیحد شکر ہے کہ آج وہ دونوں تفسیریں میری ذاتی لائبریری میں محفوظ وموجود ہیں ۔ لیکن آج کا یہ مضمون علامہ زمخشری اور ان کی تفسیر الکشاف کے بارے میں ہے۔ اس لئے مجھے امید ہے کہ یہ مضمون قارئین کو پسند آئے گا۔ (غلام نبی۔۔۔۔۔۔)
_____________________
علامہ ابوالقاسم محمود بن عمر بن محمد خوارزمی زمخشری (467–538ھ / 1072ء–1144ء) اپنے زمانے کے ممتاز معتزلی عالم اور مفسرِ قرآن تھے۔ اس کے علاوہ وہ فقہ، فلسفہ، علمِ کلام اور لسانیات میں بھی نمایاں مقام رکھتے تھے۔ ان کی پیدائش ایران کے خطۂ خوارزم کے مقام زمخشر میں ہوئی، اسی نسبت سے وہ زمخشری کہلائے۔
معتزلی ہونے کی وجہ سے ان کی اصل توجہ عقائد کی فلسفیانہ تعبیر و تشریح پر مرکوز رہی، اور وہ احادیثِ نبویہ سے نسبتاً کم استفادہ کرتے تھے، کیونکہ عقائد کے باب میں ان کا نقطۂ نظر خالص معتزلی نظریات پر قائم تھا۔ اسی بنا پر وہ معتزلی علماء میں ایک ممتاز مقام کے حامل سمجھے جاتے تھے۔
جب معتزلی علماء کے عقائد و نظریات کے خلاف ردِ عمل کی ایک شدید لہر اٹھی تو معاصر علما اور عام مسلمانوں کے ساتھ ان کا اختلاف اس حد تک بڑھ گیا کہ لوگ ان کی کتابوں کے بھی مخالف ہو گئے۔ چونکہ معتزلہ میں علماء کی بڑی تعداد موجود تھی، اس لئے انہوں نے بکثرت تصانیف بھی کیں، اور خاص طور پر علامہ زمخشری نے ایک درجن سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔
بعد ازاں جب معتزلی علما کی کتابوں کو جلانے کی کوششیں کی گئیں تو علامہ زمخشری کی بھی متعدد تصانیف نذرِ آتش ہو گئیں، البتہ جو کتابیں محفوظ رہ گئیں، ان میں ان کی مشہور تفسیر ” الکشاف ” بھی شامل تھی۔ یہ تفسیر آج تک موجود ہے اور علم و بلاغت کے اعتبار سے غیر معمولی شہرت رکھتی ہے۔ بعد کے ادوار میں لکھی جانے والی تفاسیر میں اس تفسیر کے حوالے بکثرت ملتے ہیں۔
علامہ زمخشری کو اپنی تفسیر پر غیر معمولی ناز تھا، اور وہ اس کے بارے میں یہ اشعار پڑھا کرتے تھے ؛
إنَّ التفاسيرَ في الدنيا بلا عدد
وليس فيها لعمري مثلُ كَشّافي
إن كنتَ تبغي الهدى فالزم قراءته
فالجهلُ كالداءِ والكشّافُ كالشافي
دنیا میں تفاسیر کی کوئی حد نہیں، لیکن میری جان کی قسم! کشاف جیسی کوئی تفسیر نہیں۔
اگر تو ہدایت کا طالب ہے تو اس کی قرأت کو لازم پکڑ، کیونکہ جہالت بیماری ہے اور کشاف شفا دینے والی ہے۔
(تاریخ تفسیر و مفسرین، ص 339، ایڈیشن 1985ء)
علامہ زمخشری کی تفسیر ” الکشاف ” اس اعتبار سے نہایت اہم ماخذ سمجھی جاتی ہے کہ اس میں قرآنِ کریم کے اعجاز، فصاحت اور بلاغت پر نہایت اعلیٰ درجے کی بحث ملتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس تفسیر میں معتزلی عقائد و نظریات کی واضح تائید بھی پائی جاتی ہے، اور اس مقصد کے لیے جگہ جگہ خاصی کھینچا تانی بھی کی گئی ہے۔
بعض کم علم یا ناواقف افراد اس تفسیر کی بیجا تعریف کرتے ہوئے علامہ زمخشری کے معتزلی ہونے کا انکار کرتے ہیں، یا یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے اعتزال سے توبہ کر لی تھی، حالانکہ یہ بات قطعی طور پر درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دور میں جو ” تفسیر الکشاف ” شائع ہوتی ہے، اس میں امام احمد بن المنیر الاسکندری کے حواشی شامل ہوتے ہیں، جو انہوں نے تفسیر میں موجود معتزلی عقائد کے رد میں تحریر کئے ہیں۔
اسی لئے تفسیر الکشاف کے سرِ ورق پر یہ عبارت درج ہوتی ہے:
وفي حاشية: الأول: كتاب الانتصاف فيما تضمَّنه الكشاف من الاعتزال للإمام أحمد بن المنير الإسكندري ۔
یعنی اس تفسیر کے حاشیے میں پہلی چیز یہ ہے کہ امام احمد بن المنیر الاسکندری کی تصنیف کتاب الانتصاف شامل ہے، جو تفسیرِ کشاف میں پائے جانے والے اعتزالی نظریات کے رد پر مشتمل ہے۔
اس سے بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ امام ابن المنیر کے حواشی کا اصل مقصد تفسیر الکشاف میں موجود معتزلی افکار کی تردید ہے، اور اسی لئے انہوں نے ان حواشی کا نام ” الانتصاف ” رکھا، جس کے معنی کسی چیز کے ازالے، حق کے حصول اور مقابل رد کے ہیں۔
عقیدۂ اہلِ سنت کے مطابق آخرت میں رویتِ باری تعالی ثابت ہے، جبکہ معتزلی علماء اس عقیدے کے قائل نہیں تھے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ ۔إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ
(القيامة: 22–23)
اس دن کئی چہرے تروتازہ ہوں گے، اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔
اس آیت کی تفسیر میں امام فخرالدین رازی لکھتے ہیں:
اعلم أن جمهور أهل السنة يتمسكون بهذه الآية في إثبات أن المؤمنين يرون الله تعالى يوم القيامة.
(التفسير الكبير: ج 30، ص 200 / دیوبند، ایڈیشن 2005ء)
یعنی جمہور اہلِ سنت اس آیت سے اس عقیدے کے اثبات پر استدلال کرتے ہیں کہ قیامت کے دن اہلِ ایمان اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے۔
اس کے بعد امام رازی نے معتزلی موقف پر تفصیلی بحث کی ہے، لیکن علامہ زمخشری نے اس آیت کی تفسیر میں اپنے معتزلی عقیدے کی ترجمانی کرتے ہوئے لفظ ” ناظرة ” سے توقع اور رجاء کا معنی لیا ہے۔ اس تعبیر کا رد کرتے ہوئے امام ابن المنیر نے حاشیہ میں رویتِ باری تعالیٰ کے اثبات پر مفصل کلام کیا ہے۔
(دیکھیے: تفسیر الکشاف، ج 4، ص 663 / کراچی ، تاریخ اشاعت درج نہیں)
علامہ ابن کثیر اس معتزلی نظریے کا واضح رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وقد ثبت رؤية المؤمنين لله عز وجل في الدار الآخرة في الأحاديث الصحاح من طرق متواترة عند أئمة الحديث لا يمكن دفعها ولا منعها.
(تفسير ابن كثير: ج 4، ص 578 / الریان ، قطر ، تاریخ اشاعت درج نہیں)
اسی طرح مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی بھی اس معتزلی عقیدے کی تردید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
“بکثرت احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی جو تفسیر منقول ہے، وہ یہ ہے کہ آخرت میں اللہ کے مکرم بندوں کو اپنے رب کا دیدار نصیب ہوگا۔”
(تفہیم القرآن: ج 6، ص 172)
اسی طرح تفسیر الکشاف میں سیکڑوں مقامات پر معتزلی عقائد کو صحیح ثابت کرنے کے لئے تاویل اور کھینچا تانی کی گئی ہے، یہاں تک کہ بعض مقامات پر علامہ زمخشری نے اہلِ سنت کے بارے میں سخت اور نامناسب تعبیرات بھی استعمال کی ہیں۔ تاہم اس مختصر مضمون میں ان تمام مثالوں کا احاطہ ممکن نہیں۔
غلام احمد حریری کی معروف تصنیف «تاریخ تفسیر و مفسرین» میں علامہ زمخشری اور ان کی تفسیر الکشاف پر سولہ صفحات پر مشتمل ایک مفصل تحقیقی مضمون شامل ہے، جو مطالعے کے لائق ہے۔
(دیکھیے: ص 337 تا 352)
علامہ زمخشری بلاشبہ ایک عظیم عالم اور غیر معمولی ذہانت کے حامل انسان تھے، اور ان کی تفسیر میں بہت سے مقامات پر عمدہ اور قیمتی نکات بھی ملتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے جمہور اہلِ سنت کے خلاف معتزلی عقائد کی بھرپور ترجمانی بھی کی ہے، جن میں رویتِ باری تعالیٰ کا انکار اور مرتکبِ گناہ کبیرہ مسلمان کے ہمیشہ جہنم میں رہنے کا عقیدہ نمایاں ہے۔
ان باطل نظریات کا محقق علما نے سختی سے رد کیا ہے، اور خاص طور پر تفسیر الکشاف پر امام ابن المنیر کے حواشی اس باب میں نہایت اہم ہیں۔ اسی سلسلے میں امام ذہبی لکھتے ہیں:
محمودُ بنُ عمرَ الزمخشريُّ المفسرُ النحويُّ صالحٌ، لكنه داعيةٌ إلى الاعتزال، أجارنا الله، فكن حذرًا من كشافه.
(ميزان الاعتدال: ج 5، ص 277)
محمود بن عمر زمخشری جو مفسر ، نحوی ، صالح ہیں ، لیکن ان کی تفسیر اعتزال کی طرف دعوت دیتی ہے ، اللہ ہمیں اس ( معتزلی تفسیر) سے بچائے ، لہذا ان کی تفسیر کشاف سے بچو ۔
لہٰذا آخر میں طالبانِ علم سے گزارش ہے کہ علامہ زمخشری کے عقائد اور فکری پس منظر کو سمجھے بغیر ان کی تفسیر «الکشاف» کا مطالعہ کرنا مناسب نہیں، کیونکہ اس میں جمہور اہلِ سنت سے شدید اختلاف کرتے ہوئے معتزلی افکار کے دفاع میں بہت کچھ لکھا گیا ہے، اور بعض مقامات پر نصوصِ شرعیہ کی بعید از اصول تاویلات بھی اختیار کی گئی ہیں۔ اس لیے پیشگی علمی آگاہی کے بغیر اس تفسیر کا مطالعہ فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
وما علينا إلا البلاغ