نی دہلی: انڈین نیشنل کانگریس نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے حالیہ دورۂ اسرائیل پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس دورے اور بعض دفاعی و سفارتی فیصلوں کا تعلق مبینہ طور پر امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین سے جڑی دستاویزات سے ہے۔ پارٹی نے اس سلسلے میں ایک مبینہ زمانی ترتیب (کرونولوجی) بھی پیش کی ہے۔
پارٹی کے ترجمان پون کھیڑا نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2017 کے بعد سامنے آنے والی بعض ای میلز اور روابط سے یہ تاثر ملتا ہے کہ بین الاقوامی شخصیات اور کاروباری حلقوں کے ذریعے پالیسی سازی پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان روابط میں کچھ بھارتی اور غیر ملکی شخصیات کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔
کانگریس کے مطابق مبینہ دستاویزات میں بھارتی صنعت کار انیل امبانی، مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری اور اسرائیل کے سابق وزیرِ اعظم ایہود باراک سمیت دیگر افراد کے ناموں کا حوالہ دیا گیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ انہی روابط کے بعد بھارت اور اسرائیل کے درمیان دفاعی اور تجارتی معاہدوں میں تیزی دیکھی گئی۔
پون کھیڑا نے کہا کہ یہ معاملہ صرف سیاسی نوعیت کا نہیں بلکہ بھارت کی خارجہ پالیسی کی خودمختاری اور قومی مفاد سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مبینہ ای میلز اور روابط کی مکمل وضاحت کرے اور پارلیمنٹ میں اس موضوع پر بحث کرائی جائے۔
دوسری جانب حکومت کی طرف سے ان الزامات پر تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ حکومتی حلقوں کا موقف ہے کہ اسرائیل کے ساتھ بھارت کے تعلقات طویل عرصے پر محیط ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان دفاع، زراعت، ٹیکنالوجی اور تجارت کے شعبوں میں تعاون مسلسل فروغ پا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے یہ معاملہ ایسے وقت اٹھایا گیا ہے جب وزیرِ اعظم کا دورۂ اسرائیل سفارتی لحاظ سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس مسئلے پر سیاسی گرما گرمی میں مزید اضافہ متوقع ہے۔