از:- محمد عادل ارریاوی
_____________________
الحمدللہ اس وقت میں جس علاقے میں تراویح پڑھانے کی غرض سے قیام پذیر ہوں وہ تلنگانہ کا علاقہ سوریہ پیٹ کہلاتا ہے مجھے تقریباً سات یا آٹھ سال سے مسلسل یہاں آنے کی سعادت حاصل ہو رہی ہے، یہاں کے مسلمان نہایت نیک دل، محبت کرنے والے اور دین سے وابستہ لوگ ہیں، ان کی خلوص بھری میزبانی اور اخلاص ہمیشہ میرے دل کو مسرور کرتا رہا ہے۔ تاہم اس مرتبہ قیام کے دوران دو ایسے نہایت تشویشناک امور سامنے آئے ہیں جنہوں نے دل کو بے حد فکرمند کر دیا ہے ایک مسئلہ دینی کمزوری اور ارتداد کے بعض واقعات کا ہے اور دوسرا نوجوانوں اور بعض بڑی عمر کے افراد میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کا یہ دونوں معاملات انتہائی حساس اور سنگین نوعیت کے ہیں اور سنجیدگی سے غور و فکر کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔
اطلاعات اور مشاہدات کے مطابق بعض لڑکیاں غیر مسلم افراد سے شادی کر کے اپنا گھر بسا رہی ہیں۔ یہ صورتحال یقینا اہلِ ایمان کے لیے بہت ہی تشویش ناک ہے ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ آخر وہ کون سے اسباب ہیں جو ہماری بیٹیوں کو ایسے فیصلوں کی طرف لے جا رہے ہیں؟ کیا دینی تربیت میں کمی ہے؟ کیا گھریلو ماحول میں تربیت کی کمی ہے؟ کیا معاشرتی یا تعلیمی اثرات غالب آ رہے ہیں؟ والدین پر لازم ہے کہ وہ اپنی اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دیں ان کے ساتھ محبت اعتماد اور رہنمائی کا مضبوط رشتہ قائم کریں اور ان کی فکری و جذباتی ضروریات کو سمجھیں بیٹیوں کی حفاظت صرف ظاہری نگرانی سے نہیں بلکہ مضبوط ایمان شعور اور صحیح رہنمائی سے ممکن ہے۔
اسی طرح خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات نہایت افسوسناک اور دردناک ہیں نوجوان نسل مختلف قسم کے ذہنی دباؤ معاشی مسائل تعلیمی پریشانیوں اور خاندانی الجھنوں کا سامنا کر رہی ہے بعض اوقات تنہائی اور مایوسی انسان کو غلط قدم اٹھانے پر مجبور کر دیتی ہے ہمیں اپنے نوجوانوں کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ ہر مشکل کا حل موجود ہے اور زندگی اللہ ربّ العزت کی امانت ہے جس کی حفاظت ہم سب پر لازم ہے
علمائے کرام اور دینی راہنماؤں کی ذمہ داری بھی اس موقع پر بڑھ جاتی ہے کہ وہ حکمت اور بصیرت کے ساتھ ان مسائل پر توجہ دیں نوجوانوں کے لیے اصلاحی و تربیتی مجالس کا اہتمام کیا کریں اور عوام میں دینی شعور اور فکری مضبوطی پیدا کریں یقیناً مقامی علمائے کرام اپنی کوششیں کر رہے ہوں گے مگر حالات کا تقاضا ہے کہ اس میدان میں مزید محنت باہمی تعاون اور منظم جدوجہد کی جائے۔
ہم بھی اپنی استطاعت کے مطابق تحریر و تقریر کے ذریعے اصلاح کی کوشش جاری رکھیں گے مقصد کسی کی دل آزاری نہیں بلکہ خیر خواہی اور اصلاح ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب مل کر اپنی نسلوں کے ایمان و اخلاق اور ذہنی صحت کی حفاظت کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کریں۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے ہماری کوتاہیوں کو معاف فرمائے ہماری اولادوں کی حفاظت فرمائے اور ہمارے معاشرے کو ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ رکھے۔
آمین یا رب العالمین۔