ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ اہم رہنماؤں کے قتل کے باوجود ایران کا سیاسی نظام کمزور نہیں ہوگا اور نہ ہی اس سے ملک میں عدم استحکام پیدا ہوگا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران کا نظام مضبوط بنیادوں پر قائم ہے اور کسی ایک شخصیت کے ختم ہونے سے یہ نظام متاثر نہیں ہوتا۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران کا حکومتی ڈھانچہ افراد کے بجائے اداروں پر قائم ہے، اسی لیے کسی بڑے رہنما کے قتل سے ریاستی نظام میں خلل نہیں پڑتا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل بھی اہم شخصیات کی ہلاکت کے باوجود نظام اپنی جگہ برقرار رہا اور فوری طور پر قیادت کا متبادل سامنے آ گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے دفاع اور خودمختاری کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گا اور ملک کی قیادت اور عوام دونوں اس کے لیے تیار ہیں۔
واضح رہے کہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی حالیہ اسرائیلی حملے میں مارے گئے تھے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اس واقعے کو امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات ایران کو کمزور کرنے کے بجائے مزید مضبوط کرتے ہیں۔