✍️ محمد نصر الله ندوی
مغربی بنگال کے الیکشن نے یہ ثابت کردیا کہ اب جمہوریت ڈکٹیٹرشپ کی آغوش میں دم توڑ چکی ہے،اس کا وجود آئین کے ماتھے پر محض ایک بوسیدہ کاغذ کی طرح ہے،جس کو دیمک نے اندر سے کھوکھلا کردیا ہے،بظاہر انتخابات بھی ہو رہے ہیں،سیاسی پارٹیاں اپنے ہنر بھی آزما رہی ہیں،عوام میں اپنے پسندیدہ امیدوار اور نظریات کے تئیں جوش وخروش بھی ہے،لیکن جیت اسی کی ہوتی ہے،جس کے سرپر الیکشن کمیشن کا ہاتھ ہوتا ہے،قسمت اسی پر مہربان ہوتی ہے،جس کے قلم میں کمیشن کی روشنائی ہوتی ہے، جمہوریت کے نام پر یہ تماشہ راجیو کمار نے شروع کیا تھا،جس کو گیانیش کمار نےبام عروج پر پہنچادیا، آنے والا مؤرخ جب ہندوستان میں جمہوریت کے زوال، بلکہ فناء کی داستان رقم کرے گا،تو گیانیش کمار کا کردار سر فہرست ہوگا،اس اکیلے شخص نے جمہوریت کو اتنا نقصان پہنچایا جو کسی نے نہیں پہنچایا،اس نے ایس آئی آر کے نام سے ایک سسٹم بنایا جس کے ذریعہ بی جے پی کی مخالف پارٹیوں کے ووٹرس کو تہ تیغ کردیا گیا، افسوس کہ یہ سب کچھ عدالت عظمی کے چیف جسٹس کی سرپرستی میں ہوا،جہاں مہینوں تک سماعت کا سلسلہ چلتا رہا اور آخر اس نے بھی الیکشن کمیشن کے تمام حربوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیا،بلکہ اسے سند جواز فراہم کردیا،انصاف اس سے پہلے کبھی اتنا رسوا نہیں ہوا،جتنا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے سامنے ہوا،الیکشن کی ڈیوٹی میں مصروف اہلکاروں کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کر دیئے گئے، جب یہ قضیہ سپریم کورٹ پہنچا تو موجودہ چیف جسٹس نے جو جواب دیا اس کو سنکر اہل خرد سر پکڑ کر بیٹھ گئے،انہوں نے کہا آپ الیکشن کمیشن کے پاس جائیے ،اگر آپ اس پر ووٹ نہیں کرپائے تو آئندہ کرسکتے ہیں!
ناطقہ سربگریباں ہے اسے کیا کہئے
جسٹس ناگ رتنا نے سوال اٹھایا کہ جہاں چند سو ووٹوں سے ہار جیت ہوتی ہے ،وہاں ایک ہی کمیونیٹی کے چار چار فیصد نام کاٹ دیئے گئے ہیں،ایسے میں منصفانہ انتخابات کیوں کر ہو سکتے ہیں؟اس سوال کےجواب کا آج تک پورے ملک کو انتظار ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔
سقوط بنگال کی کہانی سقوط بہار کے وقت ہی لکھ دی گئی تھی،ایس آئی آر کا جو ہتھیار یہاں آزمایا گیا ،اسی سے ممتا کے ووٹرس کا صفایا کردیا گیا،تمام دستاویز اور شواہد کے باوجود 27/لاکھ ووٹرس کو باہر کردیا گیا،انہوں نے ٹریبونل میں اپیل بھی کی ،لیکن سپریم کورٹ بھی ان کے حقوق کا تحفظ نہیں کرسکا،یہ بنگال کے کل ووٹروں کی چار فیصد تعداد ہے،جب کہ ٹی ایم سی اور بی جے پی کے ووٹوں میں صرف دو سے تین فیصد کا فرق ہے،کیا اس الیکشن کو جمہوریت کا آئینہ دار قرار دے سکتے ہیں؟یہ لاکھ ٹکے کا سوال ہے،جو الیکشن کمیشن کے سامنے منھ کھولے کھڑا ہے۔
اس الیکشن میں مرکزی فورسیز کی جس طرح تعنیاتی کی گئی ،آزاد ہندوستان میں اس کی مثال نہیں ملتی ،ان کی تعداد کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوا کہ بنگال میں الیکشن نہیں،میدان کارزار گرم ہے،جہاں مقابلہ وووٹوں سے نہیں ،سنگینوں سے ہونے والا ہے،خبروں کے مطابق کئی مقامات پر سی آر پی ایف کے جوانوں نے ووٹروں کو دھمکایا اور انہیں حق رائے دہی سے روکنے کی کوششیں کیں۔
اس الیکشن میں ہندو مسلم کا کارڈ کھلے عام کھیلا گیا، نفرت کو پھیلانے کیلئے ہر طرح کا پروپیگنڈہ کیا گیا،انتخابی ریلیوں میں اشتعال انگیز تقریریں کی گئیں،بنگلہ دیشی کے نام پر مسلمانوں کو گھسپیٹیا قرار دیا گیا،لیکن الیکشن کمیشن خاموش تماشائی ،بلکہ شریک کار رہا،منافرت کی چنگاری کو شعلہ زن کرنے کیلئے دکن کے ایک قائد کو بلایا گیا،جس کا کام ہر الیکشن میں مسلم وزیر اعلی کا شوشہ چھوڑنا ہے،اس بار اس کے کرتب میں رسوائے زمانہ ہمایوں کبیرخان بھی شامل تھا،بھلا جس سازش میں خود آستین کے سانپ موجود ہوں،وہ کیوں کر ناکام ہو سکتی ہے؟بنگال میں یہی ہوا اور اب یوپی میں بھی مسلم وزیر اعلی کا شوشہ چھوڑا جائے گا،جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا،البتہ الیکشن کے بعد بی جے پی پہلے سے زیادہ طاقتور بن کر ابھرے گی اور مسلمانوں پر مظالم کا سلسلہ دراز ہوجائے گا۔