عرب و مسلم ممالک کی ایران کو سخت وارننگ، حملے نہ روکے تو ردِعمل کا سامنا ہوگا: ریاض اجلاس

ریاض: عرب اور مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے سعودی دارالحکومت ریاض میں ہونے والے اہم اجلاس کے بعد ایران کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر خطے میں جاری حملے بند کرے، بصورت دیگر اسے اجتماعی ردِعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اجلاس میں سعودی عرب، پاکستان، قطر، متحدہ عرب امارات، ترکی، مصر، اردن، کویت، بحرین، لبنان، شام اور آذربائیجان سمیت 12 ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہوئے۔ اس مشاورتی نشست کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں پر مشترکہ لائحہ عمل طے کرنا تھا۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ ایران کی جانب سے براہِ راست یا اس کے اتحادی گروہوں کے ذریعے کیے جانے والے حملے علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور یہ اقدامات سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ ایران دیگر ممالک کی خودمختاری کا احترام کرے اور داخلی معاملات میں مداخلت سے باز رہے۔

اجلاس میں ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان حملوں میں شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جو کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ ساتھ ہی خبردار کیا گیا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

وزراء نے یہ بھی واضح کیا کہ متاثرہ ممالک کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے، جبکہ ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرے اور فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کرے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کے باعث خطہ شدید عدم استحکام کا شکار ہے اور خلیجی ممالک میں سکیورٹی خدشات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔