از:- عارف حسین ایڈیٹر سیل رواں
عیدالفطر مسلمانوں کا ایک اہم اور بابرکت تہوار ہے، جو ہر سال رمضان المبارک کے اختتام پر منایا جاتا ہے۔ لفظ "عید” کے معنی لوٹ کر آنے کے ہیں، یعنی یہ وہ دن ہے جو ہر سال خوشیوں اور مسرتوں کا پیغام لے کر آتا ہے۔ اسی مناسبت سے اسے خوشی اور اجتماعی مسرت کا دن بھی کہا جاتا ہے۔
دنیا کی ہر قوم اپنے اپنے طور پر کچھ خاص ایام کو خوشی اور جشن کے طور پر مناتی ہے۔ ان مواقع پر لوگ عمدہ لباس زیب تن کرتے ہیں، لذیذ کھانوں کا اہتمام کرتے ہیں اور اپنے انداز میں مسرت کا اظہار کرتے ہیں۔ اسلام نے بھی اس انسانی فطرت کو ملحوظ رکھتے ہوئے مسلمانوں کے لیے دو عیدیں مقرر کی ہیں: عیدالفطر اور عیدالاضحی۔
تاریخی طور پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو وہاں کے لوگ دو مخصوص دنوں میں خوشیاں منایا کرتے تھے۔ آپؐ نے اس روایت کی اصلاح فرماتے ہوئے مسلمانوں کو دو نئے اور بامقصد دن عطا کیے، جو محض کھیل اور تفریح تک محدود نہیں بلکہ عبادت، شکرگزاری اور روحانیت کے مظہر ہیں۔ عیدالفطر رمضان کے اختتام پر آتی ہے، جبکہ عیدالاضحی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم قربانی کی یاد تازہ کرتی ہے۔
عیدالفطر کو دراصل "یوم الجائزہ” یعنی انعام کا دن کہا جاتا ہے۔ ایک مہینے تک روزہ رکھنے، عبادت کرنے اور نفس کو قابو میں رکھنے کے بعد یہ دن بندۂ مومن کے لیے خوشی اور اطمینان کا پیغام لے کر آتا ہے۔ اس موقع پر ایک طرف دنیاوی خوشیوں سے لطف اندوز ہونے کی اجازت ہے تو دوسری طرف یہ امید بھی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کی عبادات کو قبول فرمائے گا اور اسے اپنی رحمت سے نوازے گا۔
تاہم اہلِ علم اور بزرگانِ دین نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ عید کو صرف خوشی کا دن نہ سمجھا جائے بلکہ اسے احتساب کا موقع بھی بنایا جائے۔ یہ وہ وقت ہے جب انسان اپنے اعمال کا جائزہ لے اور یہ سوچے کہ کیا اس نے رمضان کے تقاضوں کو پورا کیا یا نہیں۔ اسی احساس کے تحت بعض اکابر کا حال یہ تھا کہ عید کے دن بھی وہ اپنے اعمال کی قبولیت کے بارے میں فکرمند رہتے تھے۔
عید کی اصل روح یہ ہے کہ انسان گناہوں سے بچنے کا عزم کرے اور اپنی زندگی کو نیکی اور تقویٰ کے راستے پر قائم رکھے۔ اگر عید کے دن بھی انسان اللہ کی نافرمانی میں مبتلا ہو جائے تو وہ اس دن کی حقیقی برکتوں سے محروم رہتا ہے۔
اسلام نے عید کے موقع پر خوشی منانے کی اجازت دی ہے، بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی ہے، بشرطیکہ یہ خوشی شریعت کی حدود کے اندر ہو۔ گھروں میں خوشی کا ماحول، بچوں کی دلجوئی، اچھے کھانوں کا اہتمام اور رشتہ داروں سے ملاقات سب اس دن کا حصہ ہیں۔ تاہم حد سے تجاوز، فضول مشاغل اور غیر مناسب سرگرمیاں اس دن کی روح کے منافی ہیں۔
عیدالفطر کا ایک اہم پہلو اخوت اور اتحاد کا فروغ بھی ہے۔ اس دن لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں، گلے ملتے ہیں، مبارکباد دیتے ہیں اور باہمی تعلقات کو مضبوط بناتے ہیں۔ عیدگاہ میں امیر و غریب، چھوٹے بڑے سب ایک صف میں کھڑے ہو کر نماز ادا کرتے ہیں، جو اسلامی مساوات اور یکجہتی کی عملی تصویر پیش کرتا ہے۔
عید کے دن کچھ سنتیں بھی ہیں جن کا اہتمام کرنا چاہیے۔ عیدالفطر کے موقع پر نماز سے پہلے کچھ میٹھا کھانا بہتر سمجھا جاتا ہے، جبکہ عیدالاضحی میں نماز کے بعد کھانا مستحب ہے۔ اسی طرح عید کی نماز باجماعت ادا کی جاتی ہے اور اس کے بعد خطبہ سننا بھی ضروری ہے، لیکن اکثر لوگ اس اہم عمل کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ عیدالفطر محض ایک تہوار نہیں بلکہ ایک جامع پیغام ہے : شکر، خوشی، احتساب اور اخوت کا پیغام۔ اگر ہم اس دن کو اس کی اصل روح کے ساتھ منائیں تو یہ نہ صرف ہماری انفرادی زندگی بلکہ ہمارے معاشرے کو بھی بہتر بنانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔