عید الفطر: جنگ کے سائے میں امن کی پناہ

✍️محمد نصر الله ندوی

عید الفطر اللہ تعالیٰ کی رحمت و محبت کا مظہر، خوشی و مسرت کا علمبردار، اور اخوتِ اسلامی کا پیامبر ہے۔ یہ مغفرت اور بخشش کا دن ہے۔ اس مبارک موقع پر رحمتِ خداوندی جوش میں آتی ہے، بندوں کو معافی و بخشش کے پروانے عطا کیے جاتے ہیں، ان کی خطائیں درگزر کی جاتی ہیں، اور انہیں ربِ کریم کی طرف سے بہترین بدلہ نصیب ہوتا ہے۔

یہ شکر اور ذکر کا دن ہے— شکر اس بات پر کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں روزہ، تلاوتِ قرآن، تراویح اور دعا کی توفیق عطا فرمائی۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر اللہ کی توفیق شاملِ حال نہ ہو تو انسان کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ اہلِ ایمان کو حکم دیا گیا ہے کہ جب وہ عیدگاہ کی طرف جائیں تو ان کی زبانیں تکبیر و تہلیل سے تر ہوں، دل شکر کے جذبات سے معمور ہوں، اور ان کی ہر ادا اطاعتِ الٰہی کی آئینہ دار ہو۔ ان کے لباس میں صفائی و نفاست ہو، ان کے وجود سے خوشبو مہکے، چہروں پر مسرت جھلکے، اور آنکھوں سے محبت و اخوت کا جام چھلک رہا ہو۔

یہ دن باہمی محبت اور اظہارِ یگانگت کا دن ہے۔ یہ خوشیاں بانٹنے اور دلوں کو جوڑنے کا موقع ہے۔ اس دن لوگ ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے ہیں، اپنے تعلقات کو تازہ کرتے ہیں اور باہم شیر و شکر ہو جاتے ہیں۔ الفت و محبت کا یہ حسین انداز دراصل اللہ تعالیٰ کا وہ بیش ب 11ہا تحفہ ہے جو اہلِ ایمان کو عطا کیا گیا ہے۔ یہی دینِ اسلام کا خاص امتیاز ہے، جو سراپا خیرخواہی اور امن و سلامتی کا پیغامبر ہے۔

یہ سماجی ہم آہنگی کا بھی دن ہے۔ اس موقع پر لوگ اپنے رشتہ داروں اور عزیز و اقارب سے ملتے ہیں، ٹوٹے ہوئے رشتوں کو جوڑتے ہیں، ناراض دلوں کو مناتے ہیں، اور باہمی تعلقات کو مضبوط بناتے ہیں۔ اس طرح مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق کی بنیادیں مستحکم ہوتی ہیں اور اخوتِ اسلامی کا جذبہ مزید پروان چڑھتا ہے۔ یہ منظر اہلِ ایمان کے لیے باعثِ مسرت اور دشمنانِ اسلام کے لیے باعثِ مایوسی بنتا ہے۔

لیکن افسوس کہ آج کی عید ایسے حالات میں آئی ہے جب عالمِ اسلام کے کئی خطے جنگ و جدال کی آگ میں جل رہے ہیں۔ کہیں آسمان سے آتش و آہن کی بارش ہورہی ہے، کہیں معصوم جانیں بے بسی کی تصویر بنی ہوئی ہیں، اور خوف و ہراس کا سایہ ہر طرف چھایا ہوا ہے۔ ایسے میں ہماری ہمدردیاں ان مظلوموں کے ساتھ ہیں، اور ہم اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہیں کہ وہ انسانیت کے دشمنوں کو ہدایت دے یا انہیں ظلم سے باز رکھے۔

ہمیں یقین ہے کہ جو کچھ ہوتا ہے اللہ کی مشیت سے ہوتا ہے۔ ممکن ہے کہ اسی آزمائش میں خیر کے دروازے کھلیں، حق غالب آئے، اور باطل اپنے انجام کو پہنچے۔

آئیے! اس عید کو صرف ظاہری خوشیوں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اسے حقیقی معنوں میں امن، محبت اور اخوت کا پیغامبر بنائیں۔ اپنے دلوں کو کینہ و حسد سے پاک کریں، مظلوموں کے لیے دعا کریں، اور اپنے کردار سے اسلام کی حقیقی تعلیمات کو دنیا کے سامنے پیش کریں۔ یہی عید کا اصل پیغام ہے اور یہی ہماری کامیابی کا راستہ ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔