"ڈیجیٹل اریسٹ” فراڈ کے خلاف سخت کارروائی، واٹس ایپ کو ڈیوائس آئی ڈی بلاک کرنے کی ہدایت

ملک میں بڑھتے ہوئے "ڈیجیٹل اریسٹ” فراڈ پر قابو پانے کے لیے مرکزی حکومت نے سخت اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں حکومت نے میسجنگ پلیٹ فارم واٹس ایپ کو ہدایت دی ہے کہ وہ سائبر جرائم میں ملوث ڈیوائس آئی ڈیز کی نشاندہی کر کے انہیں فوری طور پر بلاک کرے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ کی جانب سے تشکیل دی گئی ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی نے حالیہ جائزہ میٹنگ میں اس نوعیت کے جرائم پر تشویش ظاہر کی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو زیادہ مؤثر حفاظتی اقدامات نافذ کرنے کی تاکید کی۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ دھوکہ دہی میں استعمال ہونے والے ڈیوائسز کو بلاک کرنا اس جرم کی روک تھام میں اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

واٹس ایپ سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ صارفین کی حفاظت کے لیے مزید جدید فیچرز متعارف کرائے، جن میں مشتبہ کالز یا پیغامات کے بارے میں پیشگی وارننگ دینا اور مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع شامل ہے، تاکہ عام صارفین کو بروقت آگاہ کیا جا سکے۔

حکومت نے آئی ٹی ایکٹ 2021 کے تحت یہ تجویز بھی پیش کی ہے کہ حذف کیے گئے اکاؤنٹس کا ڈیٹا کم از کم 180 دن تک محفوظ رکھا جائے، تاکہ تحقیقاتی ایجنسیاں ضرورت پڑنے پر مجرموں تک آسانی سے پہنچ سکیں۔

اس کے علاوہ نقصان دہ اے پی کے فائلز اور جعلی موبائل ایپس کی شناخت اور انہیں بلاک کرنے کے نظام کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے، کیونکہ یہ عناصر اکثر سائبر ٹھگی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

ڈیجیٹل اریسٹ اسکام کیا ہے؟

ڈیجیٹل اریسٹ فراڈ سائبر فراڈ کی ایک خطرناک شکل ہے، جس میں مجرم خود کو پولیس یا کسی سرکاری ادارے کا افسر ظاہر کر کے شہریوں کو فرضی گرفتاری یا قانونی کارروائی کا خوف دلاتے ہیں۔ اس دوران متاثرہ شخص کو ویڈیو کال کے ذریعے “آن لائن حراست” میں رکھنے کا ڈرامہ کیا جاتا ہے اور اس سے رقم یا حساس معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق حالیہ عرصے میں اس طرح کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کے پیش نظر حکومت اور متعلقہ ادارے مشترکہ حکمت عملی کے تحت اس پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔