از:- عببدالحمید نعمانی
"میں اسلام کو ختم کرنے کے لیے پیدا ہوا ہوں، اسے ختم کرنا میری کنڈلی میں ہے "
یہ کالی سینا کے بانی و صدر سوامی اننت سروپ مہاراج کا بیان ہے، بھارت میں کئی ایسی تنظیمیں اور مبینہ دھرم گرو اور لیڈر ہیں جو اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنے کے نام پر خود کو زندہ رکھے ہوئے ہیں، ورنہ ان کی کوئی اوقات تھی اور نہ انھیں کوئی جانتا تھا، چاہے فلم ساز ہو یا سیاسی سماجی تنظیم/پارٹی کے لیڈر، انھوں نے پیسے کمانے اور شدت پسندوں کی توجہ حاصل کر کے اپنا کاروبار چلانے کے لیے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی کو آسان راستہ دریافت کر کر لیا ہے، اگر اسلام اور مسلمانوں کو ہندوتو وادیوں کے قول و فعل سے نکال جائے یا وہ خود سے ان کو نکال دیں تو وہ سماج میں نا قابل توجہ و بے حیثیت ہو جائیں گے، بہت سوں کو تو مسلمان، مسجد، مزار دیکھ کر ہی ہنومان چالیسا اور جے شری رام کا من گھڑت نعرہ یاد آتا ہے، مطلب یہ ہے کہ ہندوتو کا اپنا کوئی وجود نہیں ہے، یتی نرسنہا نند، پنکی چودھری، ہیمنت بسوا سرما، اننت سروپ جیسے بہت سے مبینہ دھرم گرو اور سیاسی لیڈر اور مٹھوں اور اکھاڑے کے مہا منڈلیشور، اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنے کا کھلے عام اعلان و عندیہ کرتے، دیتے رہتے ہیں، یتی نرسنہا نند نے بارہا کہا کہ میری زندگی کا مقصد اسلام کو ختم کرنا ہے، کچھ ترک اسلام کر کے ملحدین میں یا ہندوتو وادیوں میں شامل ہونے والوں کا حوالہ دیتے ہوئے، اسلام جلد ختم ہو جائے گا، سچ والا، اور کچھ ان پڑھ قسم کے مبینہ ایکس مسلم کے یہ شوشہ چھوڑنے پر کہ نعوذبااللہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ،اللہ کا رسول نہیں اور قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے ، سے وہ خوش فہمی میں مبتلا ہو گئے ہیں کہ دین اسلام ختم ہو جائے گا، یتی نرسنہا کا کہنا ہے کہ ماں جگدمبا پاروتی اور مہا دیو کی عنایت سے ہم یہ کر کے رہیں گے، ہم نے قرآن اور اسلام کا گہرا و وسیع مطالعہ کیا ہے، جاہل، بزدل ہندوؤں کو اسلام و قرآن کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے، اس لیے وہ ہندو مسلم بھائی چارہ و اتحاد کی باتیں کرتے ہیں، گاندھی جیسے آدمی نے ہندوؤں کو برباد کر کے رکھ دیا، ہم مہاتما گوڈے کی تحسین کرتے ہیں جنہوں نے گاندھی کو موت کے گھاٹ اتار دیا، ہندو خوش فہمی میں ہیں، اے پی جی عبدالکلام بھی جہادی تھا۔
ایسی باتیں کرنے والا کیا کسی مہذب سماج اور تنوعات والے ہندستان کا امن پسند شہری ہو سکتا ہے، یہ عناصر فرقہ وارانہ نفرت و فساد پھیلا کر بھارت کو خانہ جنگی اور انارکی کی طرف لے جانے کی مذموم سعی کر رہے ہیں، اسی زمرے میں سوامی اننت سروپ کا اشتعال انگیز مذکورہ بیان بھی آتا ہے، جمعیۃ علماء ہند ، ایسے اشتعال انگیز بیانات کو لے کر عدالت میں گئی ہے لیکن اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ رکنے کے بجائے بڑھتا جا رہا ہے، ایسے افراد سے پوچھ تاچھ اور کوئی خاص موثر کارروائی نہیں کی جاتی ہے، ہندوتو وادی عناصر بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں لیکن اپنے دعوے پر کوئی صحیح بات کہنے سے قاصر نظر آتے ہیں، یتی نرسنہا نند سے ہماری پہلی ملاقات نیوز نیشن ٹی وی چینل پر ہوئی تھی، جب اسلام پر بولنا شروع کیا تو ہم نے کہا کہ اسلام کے بارے میں لگتا ہے کہ کچھ نہیں جانتے ہو، قرآن، قرآنیات، تاریخ و سیرت کی ایک دو کتاب کا نام ہی بتا دو، شریمان کی ساری باتیں جھوٹی ہیں، صرف بے علم ہندوؤں کو مرعوب کرنے کے لیے اسلام و قرآن کے وسیع مطالعے کی ہوائی باتیں کرتے ہو، قرآن مجید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایک بھی غلط بات کی نشاندہی کرو، جیسا کہ ڈاکٹر امبیڈکر نے برہمن وادی ہندوتو کے متعلق، رڈلس ان ہندو ازم ،میں کی ہے، لیکن یتی نرسنہا نند اپنے دعوے کے مطابق کوئی بات پیش نہیں کر سکے، صرف قرآن کی 9 نمبر سورہ توبہ کی آیت نمبر 5 کو بغیر سوچے سمجھے پیش کر کے کہا کہ مسلمانوں کو ہندوؤں کو قتل کرنے کے لیے کہا گیا ہے، ہم نے پوچھا کہ آیت کا پس منظر اور مصداق کیا ہے تو وہ بتا نہیں سکے، ہم نے کہا کہ آیت کا تعلق خاص حالت و میدان جنگ سے ہے، اس کا بھارت کے ان ہندوؤں سے تعلق نہیں ہے جو ایک آئین کے تحت، ایک ملک کے شہری ہیں، آیت کا مصداق وہ محارب مشرکین ہیں جو مسلمانوں کو گھروں سے نکال کر میدان جنگ میں ان سے لڑائی کر رہے ہیں، اس سے پہلی آیت نمبر 4میں جن غیر مسلموں سے معاہدہ امن ہے ،ان سے معاہدے کی پابندی کی ہدایت ہے، جنگ کرنے والے کو قتل کرنا ویسا ہی ہے جیسا کہ گیتا میں کرشن نے ارجن سے میدان جنگ میں، جنگ کر رہے دشمن کا صفایا کرنے کے لیے کہا ہے، یا جیسے فساد کے موقع پر سرکار، فسادیوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دیتی ہے، خاص حالت کو عام معمول کے حالات پر قیاس کرنا حماقت و جہالت ہے، کئی سارے مسلم ممالک میں غیر مسلم رہتے ہیں، کسی کے غیر مسلم ہونے کی وجہ آج تک قتل نہیں کیا گیا ہے، کیوں کہ مسلمانوں کو معلوم ہے کہ سورہ توبہ کی متعلقہ آیت کا کیا معنی و مصداق ہے، بھارت جیسے ملک میں ایک آئینی معاہدے کے تحت سارے مسلم، غیر مسلم باشندے رہتے ہیں، یہاں فرقہ وارانہ قتل و فساد ایک قابل سزا مجرمانہ عمل ہے، بغیر سوچے سمجھے، جہالت و خباثت سے، قرآن، اسلام اور پیغمبر عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر جھوٹی باتیں کر کے سماج میں فرقہ وارانہ نفرت پھیلانا اور اشتعال انگیزی کر کے لوگوں کو قتل و غارت گری پر ابھارنا، سراسر ملک مخالف، سماج دشمن عمل ہے، ،جس کے خلاف موثر اقدام کرنا، امن و قانون کی بالا تری کو بنائے رکھنے کے لیے ایک سرکار کی اولین ذمہ داری ہے، یتی نرسنہا نند جیسے لوگ، اپنے فرقہ وارانہ مقاصد اور نجی مفادات کے حصول کے لیے، مہا دیو، پاروتی کے نام کا غلط استعمال کرتے ہیں، شیو، پاروتی کے کردار میں اسلام، قرآن، اور پیغمبر عالم سے نفرت و مخالفت کے لیے سرے سے کوئی گنجائش نہیں ہے، ہندوتو وادی شیو وغیرہ کے کردار پر بھی سنجیدہ بحث و گفتگو کے تیار نہیں ہوتے ہیں، پرانوں اور دیگر لٹریچر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے توقیر و تائید ملتی ہے، اس کی تفصیل، بھوشیہ پران، کلکی پران کے علاوہ مراۃ احمدی میں بھی موجود ہے، یہ رسالہ مفتی الہی بخش اکیڈمی کاندھلہ سے شائع ہو چکا ہے، ویدوں میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو نراشنس (تعریف کیا گیا )کہا گیا ہے، جیسا کہ ڈاکٹر وید پرکاش اپادھیاے نے مضبوط دلائل و شواہد سے اپنی کتاب، وید اور نراشنس، میں ثابت کیا ہے، اصل ہندستانی افکار و روایات کے برخلاف، اپنے پست تر مفاد کی خاطر، ہندوتو وادی عناصر باتیں کر کے سماج کو بھٹکانے کا کام کر رہے ہیں، پوری دنیا، سمیت بھارت میں بھی اسلام، پیغمبر عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان، سرے سے کوئی مسئلہ نہیں ہیں، ان کو مسئلہ و مصیبت بنا کر پیش کرنا ہندوتو وادی عناصر کے دماغی فتور کا نتیجہ ہے، اسلام میں اور مسلمانوں کے نزدیک تمام عظیم شخصیات، محترم ہیں، ان کو مقبول و محترم اور مردود کے خانے میں تقسیم کرنا، ہندوتو وادیوں، صیہونیوں و صلیبیوں کی کارستانی ہے، یہ مسئلہ ہم نے 2006 میں مہا کنبھ میلے کی عالمی قومی اتحاد و یکجہتی کانفرنس میں بھی پیش کیا تھا، اس پر پروگرام کے داعی، متھرا کے کرشن مہاراج نے کہا تھا کہ بات قابل غور ہے، یتی نرسنہا اور خاتون ساتھی یتی ماں نند کے سامنے بھی عظیم شخصیات کو محترم ماننے کا معاملہ رکھا تھا وہ اینکر کے اصرار کے باوجود بات چیت کے لیے تیار نہیں ہوئے اور نہ فرقہ وارانہ اتحاد کے لیے تمام معروف عظیم شخصیات کو محترم ماننے کے آمادہ ہوئے، ٹی وی اینکر نے یہاں تک کہا کہ اگر حضرت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) کو نبی و رسول نہ مانا جائے تو محترم ماننے میں کیا دقت ہے، اس کا بھی مثبت جواب نہیں دیا گیا، اس کی وجہ بہت صاف ہے کہ یتی نرسنہا نند اور اننت سروپ جیسے لوگوں کا سارا کاروبار ہی فرقہ وارانہ نفرت اور ہندو مسلم تقسیم و تفریق پر چل رہا ہے، یہ ہندوتو وادی سماج کا بڑا بحران و المیہ ہے، اننت سروپ جیسے آدمی کا خمیر ہی منفی و جارحانہ ناپاک مٹی سے اٹھا ہے، ان میں ذرا بھی خیر پسندی کی رمق ہوتی تو وہ جس فکر و روایت کے ماحول میں پیدا ہوئے ہیں اس کی خوبیوں کو سماج کے سامنے رکھ کر لوگوں کو ان کو قبول کرنے کی دعوت دیتے، اس کے بجائے وہ اسلام کو ختم کرنے کے شیطانی عزم کا اظہار کر رہے ہیں، کتنے ہی مکروہ ذہنیت والے ماضی سے حال تک میں اسلام کو ختم کرنے کی باتیں کرتے رہے ہیں، لیکن سب کو خاک نامرادی چاٹنی پڑی ہے، برسوں سے مرتدین و ملحدین کے سہارے آگے بڑھنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جھوٹی تشہیر کی کی جاتی ہے کہ لاکھوں لاکھ افراد اسلام چھوڑ کر، ملحدین و مشرکین میں شامل ہو رہے ہیں، ایران میں ایک کروڑ لوگ ترک اسلام کر کے سناتن ہندو دھرم کو مذہب امن سمجھ کر اس میں شامل ہو گئے ہیں ،اس طرح کی جھوٹی کہانیاں گڑھ کے، اندر باہر سے ڈرے سہمے ہندوتو وادی خود کو تسلی دے رہے ہیں، جب کہ دوسری طرف یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ زیادہ تر افراد اسلام قبول کر رہے ہیں، یہودی عیسائی ،اسلام قبول کرنے والے یہ سمجھ رہے ہیں کہ اسلام قبول کرنے کی صورت میں ہم سے حضرات موسی و عیسی علیہما السلام بھی نہیں چھوٹتے ہیں، اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی مل جاتے ہیں، تینوں سے رشتہ قائم کرنے کی یہ سب سے آسان راہ ہے، اس کی ایک نمایاں مثال مریم جمیلہ ہے، انھوں نے دیگر کتابوں کے علاوہ ایک کتاب Islam In Theory and Practice کے نام سے لکھی ہے، اس میں دیگر مذاہب کے مقابلے میں اسلام کی خصوصی ممتاز خوبیوں کا ذکر کیا ہے، جن کی وجہ سے انہوں نے اسلام قبول کیا تھا، کتاب کا اردو ترجمہ بھی بھارت میں” اسلام ایک نظریہ، ایک تحریک” کے نام سے شائع ہو چکی ہے ،اس سے کئی باتوں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے، سوامی اننت سروپ، ڈاکٹر امبیڈکر اور ان کی دلت تحریک کو بھی بھارت مخالف قرار دے کر ختم کرنے کی بات کرتے ہیں، ایسے لوگوں کو لگتا ہے کہ اسلام اور دلت تحریک نے ہماری تفوق پسندی اور خصوصی امتیاز اور نفع بخش کاروبار کی راہ میں بڑی رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں، یہ سمجھنا پوری طرح غلط نہیں، لیکن ایسا ہونے میں اسلام اور دلت تحریک کا قصور نہیں ہے بلکہ برہمن واد کی جڑ میں موجود خامیوں و کمیوں کا دخل زیادہ ہے۔