عالمی داروغہ ایک بار پھر آپے سے باہر پارلیمنٹری لینگویج طاق پر !

تحریر : مسعود جاوید

اگر یہ کہیں کہ کسی ملک کے صدر نے اپنے کسی مخالف صدر یا سربراہ ریاست کو گالی دی ہے تو شاید ہی کسی کو یقین ہو گا۔ لیکن حالیہ جنگ کے دوران ایک بار پھر ایسا سننے کو ملا جس نے گالی دینے والے کی تعلیم و تربیت خاندانی شرافت اور تہذیب سے بیگانگی کا تعارف کرا دیا ہے۔ لیکن شاید یہ ان کی تہذیب کی عکاسی ہے جس میں ایسے الفاظ اور سخن تکیے عام ہوتے ہیں پھر بھی منصب کا احترام لازم ہے
گالی کی تعریف اردو زبان میں کچھ یوں ہے:
انتہائی غصے کی حالت میں جسمانی طور پر تشدد کرنے کے بجائے زبانی طور پر کی جانے والی لفظی کارروائی کے لیے منتخب الفاظ غلیظہ اور لہجہ کریہہ جس کی ادائیگی کے بعد اطمینان حاصل ہو اسے گالی کہتے ہیں ۔

دین اسلام میں کسی کو گالی دینا گناہ کبیرہ ہے لیکن مہذب دنیا میں بھی گالی کو پسند نہیں کیا جاتا ہے ۔ اچھی تعلیم و تربیت کے پروردہ افراد غصے کی حالت میں بھی لفظوں کا استعمال بہت سوچ سمجھ کر کرتے ہیں ۔

آداب مجلس etiquette اسی طرح آداب گفتگو وغیرہ کی باضابطہ تربیت دی جاتی ہے اور یہ بہت حد تک مغربی دنیا کی شناخت سمجھی جاتی ہے۔ ہم مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ اس آداب کو برتنے میں کسی حد تک تساہل سے کام لیتا ہے ۔ ہم مسلمان ان کے طور طریقے دیکھ کر بسا اوقات ، بغیر کسی حقیقی وجہ کے ، احساس کمتری میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس لئے کہ آداب زندگی تو ہمارے دین کا طرۂ امتیاز ہے۔ ہاں اس کا اعتراف کرنے میں کوئی جھجھک نہیں ہے کہ ہم اس آداب کی تعلیم ، تربیت اور تبلیغ نہیں کرتے جبکہ اسکولوں میں اس پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ نرسری یعنی ابتدائی مراحل میں ہی اسکولوں میں بچوں میں صاف ستھرائی کی اہمیت پیوست کر دی جاتی ہے۔ ہر ہفتے ناخن کاٹے جائیں ، اور ہر ماہ حجامت ، روزانہ صاف ستھرے ڈریس ہوں ۔

دانت روزانہ برش کئے یا نہیں ، ناخن کٹے ہوئے ہیں یا نہیں ، بال کٹے ہوئے اور سنورے ہوئے ہیں یا نہیں ، ڈریس صاف ستھرے ہیں یا نہیں اور جوتے پالش کئے ہوئے ہیں یا نہیں یہ سب چیک کئے جاتے ہیں۔ اور بچپن کی یہی باتیں عادت بن جاتی ہیں ۔

آداب معاشرت میں سکھایا جاتا ہے کہ بغیر دستک دیئے کسی کے کمرے میں داخل نہیں ہوں، اسی طرح اونچی آواز میں بات نہ کی جائے ، کسی سے کچھ درخواست کریں تو اس سے پہلے برائے مہربانی(پلیز) کہیں اور کسی نے آپ کا کوئی کام کردیا یا رہنمائی کی تو (تھینک یو )اس کا شکریہ ادا کریں۔

مذکورہ بالا آداب مغربی تہذیب کا حصہ مانا جاتا ہے اور کیوں نہیں مانا جائے جب ہم نے اپنے مذہب کی کتابوں میں مذکور آداب معاشرت آداب مجلس اور آداب گفتگو کو کبھی پڑھا اور پڑھایا نہیں ۔ دستک دے کر کمرے میں داخل ہونے کی اہمیت اتنی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآنِ مجید کی سورہ النور میں اس کا فرمان جاری کیا ۔ لیکن مسئلہ یہی ہے کہ جورج برنارڈ شا نے اور مستشرقین نے قرآنِ کریم اور دین اسلام کے بارے میں کچھ تعریفی کلمات کہا اسے ہم اپنی تقریروں میں فخریہ بیان کرتے ہیں کہ فلاں فلاں انگریز نے اسلام کی تعریف میں یہ کہا ۔ ان کی شہادت سے کہیں زیادہ مدلل ہمارے اسلامی مفکرین نے لکھا کاش ہم ان کی شہادتوں کو بھی پڑھتے!

پارلیمنٹری لینگویج کی مختصر تعریف یہ ہے کہ گالی تو بہت دور بات ہے کسی کے خلاف ایسے الفاظ بھی استعمال نہ کئے جائیں جو غیر مہذب اور غیر شائستہ ہوں یا جن الفاظ سے ذاتیات پر حملہ ہو مثال کے طور پر ایک شخص اپنے بیان میں دروغ گوئی کر رہا ہے یا امر واقعہ کے خلاف بیان دے رہا ہے تو مہذب طریقہ یہ ہے کہ آپ اسے یہ نہ کہیں کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں بلکہ یہ کہیں کہ آپ کی باتیں صداقت سے عاری ہیں ۔ یا آپ کے دعوے نظر طلب ہیں آپ دوبارہ غور کر لیں ۔۔ وغیرہ وغیرہ ۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔