پٹنہ: بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں جنتا دل (یونائیٹڈ) (جے ڈی یو) کے کارکنوں کی جانب سے لگائے گئے پوسٹروں نے ریاست کی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ ان پوسٹروں میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے بیٹے نشانت کمار کو بہار کا آئندہ وزیر اعلیٰ بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پوسٹروں میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ “ہمیں نہ بلڈوزر چاہیے اور نہ ہی فسادات و بدامنی، ہمیں ایک لوک نائک (عوامی رہنما) چاہیے۔ وقت آ گیا ہے کہ وہ سائے سے باہر آئیں، ہمیں نوجوان لیڈر نشانت کمار چاہیے۔
یہ پوسٹر جے ڈی یو کے ان کارکنوں کی جانب سے لگائے گئے ہیں جو خود کو "نتیش سیوک” بتاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نشانت کمار کو فعال سیاست میں آ کر قیادت سنبھالنی چاہیے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نتیش کمار حال ہی میں راجیہ سبھا کے رکن بنے ہیں، جس کے بعد بہار میں قیادت کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ بھی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ نشانت کمار کو مستقبل میں اہم ذمہ داری، حتیٰ کہ نائب وزیر اعلیٰ کا عہدہ بھی مل سکتا ہے، تاہم اس بارے میں ابھی تک کوئی سرکاری اعلان نہیں ہوا ہے۔
پٹنہ میں لگے ان پوسٹروں نے ریاست کی سیاست میں جانشینی (succession) کے سوال کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے اور جے ڈی یو کے اندرونی حالات پر بھی بحث چھیڑ دی ہے۔