حالیہ انتخابی نتائج: مسلمانوں کے لیے چیلنجز اور امکانات

تحریر: محمد فداء المصطفیٰ قادری

پی جی اسکالر: دارالہدی اسلامک یونیورسٹی، کیرالا

حالیہ انتخابات آسام، مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیرالا اور پڈوچیری کے نتائج نے ملک کی سیاسی فضا میں ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ کیرالا اور تمل ناڈو کے سوا دیگر ریاستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی نمایاں کامیابی نے مستقبل کے سیاسی منظرنامے، خصوصاً 2029، کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ معروف صحافی سمیع اللہ خان صاحب نے ان نتائج کا گہرا اور بصیرت افروز تجزیہ پیش کیا ہے، جس میں مسلمانوں کے لیے درپیش چیلنجز اور ممکنہ مواقع کو واضح کیا گیا ہے۔

فیس بک پر ہندوستان کے معروف صحافی سمیع اللہ خان صاحب کی ایک تحریر میری نظر سے گزری، جس میں انہوں نے حالیہ انتخابات یعنی آسام، مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیرالا اور پڈوچیری میں ہونے والے انتخابی نتائج کا گہرا تجزیہ پیش کیا ہے۔ ان انتخابات میں، کیرالا اور تمل ناڈو کو چھوڑ کر، بھارتیہ جنتا پارٹی کی نمایاں کامیابی نے ایک نئی سیاسی صورتِ حال کو جنم دیا ہے۔ انہی نتائج کا جائزہ لیتے ہوئے سمیع اللہ خان صاحب نے جو بصیرت افروز نکات تحریر کیے ہیں، میں انہیں اپنے انداز میں آپ سامعین کے روبرو پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔

میں نے ان کی تحریر کا تحقیقی مطالعہ کیا اور اس کا نچوڑ اخذ کرنے کی کوشش کی، یعنی یہ سمجھنے کی سعی کی کہ انہوں نے جو کچھ لکھا ہے، اس کا اصل ماحصل کیا ہے اور ہمیں اس سے کیا سیکھنا چاہیے۔ یہ تحریر مجھے بے حد پسند آئی۔ انہوں نے نہایت مدبرانہ انداز، مفکرانہ لہجے اور محققانہ اسلوب میں اپنی بات پیش کی ہے۔ ایک صاحبِ فہم و فراست، ذہین اور سنجیدہ صحافی کی حیثیت سے انہوں نے جو نکات بیان کیے ہیں، وہ یقیناً تمام ہندوستانیوں کے لیے سبق آموز ہیں اور ہر فرد کو انہیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔
اگر صرف وقتی تعریف و تحسین، ذاتی مفادات یا دیگر وجوہات کی بنا پر ان باتوں کو نظر انداز کر دیا گیا، تو آنے والے وقت میں تمام ہندوستانیوں، خصوصاً مسلمانوں، کو سنگین مشکلات اور پیچیدہ مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جن کا حل تلاش کرنا نہایت دشوار ہو جائے گا۔ اسی لیے انہوں نے جو اہم نکات پیش کیے ہیں، میں انہیں اپنے الفاظ میں بیان کر رہا ہوں۔ آپ سب سے گزارش ہے کہ اسے توجہ سے پڑھیں اور اس سے سبق حاصل کریں۔

یہ نتائج ہرگز اطمینان بخش نہیں، بلکہ آنے والے وقت خصوصاً 2029کے لیے کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ سب سے اہم سوال یہی ہے کہ کیا اس طرزِ سیاست کے ساتھ راہل گاندھی، نریندر مودی کو 2029میں روک سکیں گے؟ اگر مجموعی منظرنامے پر غور کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ حالات کا رخ فی الحال حکمراں جماعت کے حق میں ہے۔ ممتا بنرجی کی شکست محض ایک صوبائی ہار نہیں بلکہ ایک مضبوط سیاسی قلعے کے انہدام کے مترادف ہے۔ مغربی بنگال، جس کی بیالیس لوک سبھا نشستیں ہیں، اپوزیشن کے لیے ایک مضبوط دیوار ثابت ہو سکتا تھا، مگر اس کی کمزوری گویا آدھی جنگ ہارنے کے برابر ہے۔

اسی طرح تمل ناڈو میں اچانک ایک نئے چہرے، وجے، کا ابھرنا اور ایم کے اسٹالن جیسے تجربہ کار رہنما کا پس منظر میں چلا جانا محض اتفاق نہیں لگتا۔ سیاست کی بساط پر اکثر وہ چالیں کھیلی جاتی ہیں جو بظاہر سادہ نظر آتی ہیں مگر ان کے اندر کئی پرتیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک نیا اور غیر تجربہ کار نظام ایسے نازک حالات میں ریاستی نظم و نسق کو سنبھال سکے گا؟ اور کیا وہ 2029میں کسی بڑے سیاسی دباؤ کا مقابلہ کر پائے گا؟۔

کیرالہ میں بائیں محاذ کی کمزوری اور آسام میں کانگریس کی ناکامی بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ یہ سب مل کر ایک ایسا نقشہ پیش کرتے ہیں جس میں اپوزیشن بکھری ہوئی اور کمزور دکھائی دیتی ہے۔
اس پورے منظرنامے میں راہل گاندھی کی سیاست پر بھی سوالیہ نشان لگتا ہے۔ موقع کی نزاکت کو نہ سمجھ پانا اور حلیف جماعتوں کے ساتھ ہم آہنگی برقرار نہ رکھ پانا ایسی کمزوریاں ہیں جو کسی بھی بڑے معرکے میں نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔ جب ایک ہی قافلے کے لوگ ایک دوسرے پر تنقید کرنے لگیں تو منزل مزید دور ہو جاتی ہے۔ مغربی بنگال کے معاملے میں ان کا طرزِ عمل اسی بے ربطی کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

دوسری طرف اسدالدین اویسی کی سیاست بھی تنقید سے محفوظ نہیں۔ بعض مواقع پر ان کی حکمتِ عملی ایسی محسوس ہوتی ہے جیسے دریا کے بیچ کشتی میں سوراخ کر دیا جائے چاہے نیت کچھ بھی ہو، نقصان سب کو اٹھانا پڑتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ اپوزیشن کی صفوں میں انتشار، قیادت کی کمی اور باہمی بداعتمادی نے اس محاذ کو کمزور کر دیا ہے، جبکہ دوسری جانب تنظیمی مضبوطی اور مسلسل حکمتِ عملی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچایا ہے۔

جہاں تک انتخابی کمیشن یا الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر اعتراضات کا تعلق ہے، یہ نہایت حساس معاملہ ہے۔ اس پر گفتگو کے لیے مضبوط شواہد اور ٹھوس دلائل ضروری ہیں، محض قیاس آرائیاں عوامی اعتماد کو مزید متزلزل کر سکتی ہیں۔ جمہوریت کی بنیاد ہی اداروں پر اعتماد ہوتی ہے، اور اگر یہی اعتماد کمزور پڑ جائے تو پورا نظام خطرے میں آ جاتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ سیاست صرف جذبات کا کھیل نہیں بلکہ صبر، حکمت اور اتحاد کا امتحان ہے۔ اگر اپوزیشن واقعی ۹۲۰۲ میں کوئی مؤثر چیلنج پیش کرنا چاہتی ہے تو اسے ذاتی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک واضح اور متحد حکمتِ عملی اپنانی ہوگی، ورنہ حالات کا دھارا اسی طرح بہتا رہے گا اور کامیابی ایک خواب بن کر رہ جائے گی۔ دعا ہے کہ حالات میں بہتری آئے اور ملک کے تمام طبقات کے لیے انصاف، توازن اور خیر کا راستہ ہموار ہو۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔