پیغامِ سیرت: ایک مفید علمی سرمایہ

✍: جلیل القاسمی

نائب قاضی و استاذ مدرسہ

بدر الاسلام بیگوسرائے، بہار

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

  • نام کتاب: پیغام سیرت (سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عصری معنویت)
  • افادات : مفتی محمد خالد حسین نیموی قاسمی پرنسپل مدرسہ بدرالاسلام بیگو سرائے
  • مرتب : مفتی عین الحق امینی قاسمی
  • ناظم معہد عائشہ الصدیقہ خاتو پور بیگو سرائے
  • اشاعت: 2025م 1446ھ
  • ناشر : اردو منزل خاتو پور بیگو سرائے بہار
  • صفحات: 112 – قیمت 120

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

بعض کتابیں محض مطالعہ کی بجائے فکر و شعور کو جِلا بخشنے، دل میں حرارتِ ایمانی پیدا کرنے اور زندگی کے رخ کو درست کرنے کے لیے سامنے آتی ہیں۔ "پیغامِ سیرت” بھی ایسی ہی ایک بابرکت، بابصیرت اور فکر انگیز کتاب ہے، جو سیرتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آفاقی پیغام کو عصرِ حاضر کے تناظر میں نہایت سلیقے، اختصار اور دل نشیں انداز میں پیش کرتی ہے۔

یہ کتاب ممتاز عالمِ دین، مفسرِ قرآن مفتی محمد خالد حسین نیموی قاسمی صاحب مدظلّہ العالی، پرنسپل مدرسہ بدر الاسلام، بیگوسرائے کے ان علمی و دعوتی افادات کا مجموعہ ہے، جو مختلف مواقع پر سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر ان کے بصیرت افروز خطابات کی صورت میں سامنے آئے۔ ان افادات کو فاضلِ باکمال، خوش قلم اور صاحبِ ذوق میرے نہایت مخلص دوست مفتی عین الحق امینی قاسمی نے بڑی محنت، امانت اور حسنِ ترتیب کے ساتھ کتابی قالب عطا کیا ہے۔

مجھے یہ کتاب از راہِ محبت خود صاحبِ افادات کی جانب سے عنایت ہوئی، چنانچہ اس کا مطالعہ محض رسمی نظر سے نہیں؛ بلکہ ذوقِ استفادہ اور شوقِ فہم کے ساتھ کیا گیا۔ مطالعے کے بعد یہ احساس گہرا ہوا کہ یہ مجموعہ صرف خطابات کا مجموعہ نہیں، بلکہ سیرتِ طیبہ کے زندہ اور عملی پیغام کی ایک مؤثر ترجمانی ہے۔

اس کتاب کا سب سے نمایاں وصف یہ ہے کہ اس میں سیرت کو محض تاریخی واقعات کے طور پر نہیں، بلکہ ایک زندہ، متحرک اور رہنما دستورِ حیات کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ مصنفِ افادات نے واضح کیا ہے کہ سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ماضی کا مقدس باب ہی نہیں، حال کی ضرورت اور مستقبل کی رہنمائی بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کتاب میں سیرت کے مختلف پہلوؤں سے عصری مسائل کا ربط پیدا کیا گیا ہے اور نہایت حکیمانہ انداز میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ فتنوں، فکری انتشار، اخلاقی زوال اور سماجی بے سمتی کے دور میں سیرتِ نبوی ہی سب سے معتبر چراغِ راہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

کتاب کے مضامین میں عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روح بھی ہے اور اتباعِ سنت کی دعوت بھی؛ فہمِ قرآن کی روشنی بھی ہے اور امت کے موجودہ حالات کا شعور بھی۔ کہیں حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا کے صبر و استقامت سے استقامت کا درس ملتا ہے، کہیں حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کی جاں نثاری سے محبتِ نبوی کی حرارت، اور کہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے واقعات سے اطاعتِ نبوی کی عظمت دل میں اترتی محسوس ہوتی ہے۔

کتاب کا ایک قابلِ قدر پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں معاصر فکری اور سماجی چیلنجز کو نظر انداز نہیں کیا گیا؛ بلکہ سیرت کے آئینے میں ان کا جائزہ لے کر راہِ عمل متعین کی گئی ہے۔ واقعۂ معراج، حلف الفضول، تحفظِ قرآن، تعمیرِ مساجد اور امت کو درپیش فتنوں جیسے موضوعات کو محض بیان نہیں کیا گیا بلکہ ان سے عملی نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔

فاضل مرتب نے اس مواد کو جس قرینے سے مرتب کیا ہے، وہ بجائے خود داد کا مستحق ہے۔ مناسب عنوانات، مربوط ترتیب، حوالہ جاتی اہتمام اور رواں و مؤثر اسلوب نے کتاب کی افادیت کو دوبالا کر دیا ہے۔ مختصر صفحات میں اتنی جامع گفتگو سمیٹ دینا واقعی دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے۔

کتاب کے اختتام پر "نقوشِ سیرتِ طیبہ” کے عنوان سے پیش کردہ مختصر مگر جامع خاکہ خاص طور پر طلبہ، ائمہ، خطباء اور سیرت کے ابتدائی قارئین کے لیے نہایت مفید ہے۔

مختصراً، "پیغامِ سیرت” ایک ایسی کتاب ہے جو صرف پڑھی نہیں جاتی، محسوس بھی کی جاتی ہے؛ صرف معلومات نہیں دیتی، فکر بھی عطا کرتی ہے؛ اور صرف سیرت بیان نہیں کرتی، سیرت سے جینے کا سلیقہ بھی سکھاتی ہے۔

یہ کتاب عوام و خواص، علماء، طلبہ، ائمہ اور سیرت کے ہر سنجیدہ قاری کے لیے قابلِ مطالعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ صاحبِ افادات مفتی محمد خالد حسین نیموی قاسمی صاحب مدظلّہ العالی اور فاضل مرتب مفتی عین الحق امینی قاسمی صاحب کی اس علمی و دینی خدمت کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور اسے امت کے لیے نافع بنائے۔ آمین۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔