کشن گنج: مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ کی یاد میں تعزیتی اجلاس، علماء کا شاندار خراجِ عقیدت

کشن گنج، 5 جولائی: ابنائے ندوہ، کشن گنج کے زیرِ اہتمام جامعہ اسلامیہ، کشن گنج میں برصغیر کے ممتاز عالمِ دین، مفسرِ قرآن، محدث اور دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ کے سابق شیخ الحدیث و التفسیر حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ کے انتقال پر ایک تعزیتی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اجلاس اتوار کو صبح 9 بجے سے دوپہر 1 بجے تک جاری رہا، جس میں ضلع بھر کے علماء، ائمہ، فضلاء، تعلیمی اداروں کے ذمہ داران، دانشوروں اور مختلف شعبۂ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔

اجلاس کی صدارت حضرت مولانا حبیب الرحمن ندوی دامت برکاتہم نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض مولانا شمیم ریاض ندوی، صدر مجلس علماء ملت، کشنگنج نے انجام دیے۔

پروگرام کا آغاز تلاوتِ قرآنِ کریم سے ہوا۔ اس موقع پر جامعہ اسلامیہ کے طلبہ اور شرکاء نے مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآنِ کریم کی تلاوت کی۔

تعزیتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ کی علمی، تدریسی، دعوتی، تحقیقی اور ملی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ مقررین نے کہا کہ مرحوم نے دینی علوم کی تدریس، تصنیف و تالیف، دعوتِ اسلام اور امت کی فکری رہنمائی کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان کے علمی آثار اور خطابات آئندہ نسلوں کے لیے رہنمائی کا اہم سرمایہ ہیں، جبکہ ان کا انتقال علمی دنیا کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔

اجلاس کے اختتام پر حضرت مولانا حبیب الرحمن ندوی دامت برکاتہم نے مرحوم کی مغفرت، بلندیٔ درجات، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام، اہلِ خانہ کے لیے صبرِ جمیل اور امتِ مسلمہ کے لیے بہتر نعم البدل کی دعا کرائی۔

تعزیتی اجلاس میں حضرت مولانا الیاس مخلص صاحب، بانی و سرپرست ادارہ مکیہ، کشنگنج، حضرت مولانا قاضی ارشد صاحب (نائب قاضی)، مولانا طارق قاسمی صاحب، جناب سفرالدین راہی (ڈائریکٹر، اوریکل انٹرنیشنل اسکول، کشنگنج)، جناب تفہیم اختر (ڈائریکٹر، آکسفورڈ اسکول، کشنگنج)، مولانا سہیل اختر ندوی (ڈائریکٹر، رحمانی پبلک اسکول، کشنگنج) سمیت متعدد علماء، ائمہ، فضلاء، دانشوروں اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔

پروگرام کے انعقاد میں مولانا فیض الرحمن ندوی، مولانا ابو سالک شہید ندوی، مولانا دلنوار انجم ندوی، مولانا صفدر سعید ندوی، مولانا اکرم فاروقی ندوی، مولانا مشتاق ندوی، مولانا عبد الرحیم ندوی، مولانا منت اللہ ندوی، قاری ابو ریحان، مولانا شمیم ریاض ندوی اور ابنائے ندوہ، کشنگنج کے دیگر اراکین نے انتظامی ذمہ داریاں انجام دیں۔

اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ کی علمی، دعوتی اور فکری خدمات کو محفوظ رکھتے ہوئے نئی نسل تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اوپر تک سکرول کریں۔